اگر یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح پانچ روز قبل مارے جاتے تو اس کا الزام سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد اور قانونی حکومت پر عاید کیا جاتا لیکن انھیں حوثیوں نے قتل کیا ہے اور انھوں نے قتل کی یہ واردات علی صالح کے حوثیوں کے ساتھ اتحاد کے خاتمے کے اعلان کے بعد انجام دی ہے۔

علی صالح کو قتل کرنے کے بعد حوثی عملی طور پر تمام یمنیوں کے حریف بن گئے ہیں کیونکہ وہ سابق صدر اور ان کے سیاسی محاذ کو حب الوطنی کا واحد پتا خیال کرتے تھے لیکن علی عبداللہ صالح نے اچانک ایک نشری بیان میں مصالحت کو قبول کرنے کا اعلان کردیا اور اس طرح انھوں نے یمن میں ڈرامائی طور پر جنگ کا نقشہ ہی تبدیل کردیا تھا۔ ان کے قتل کے بعد اب ان کی اعلان کردہ تبدیلی کا عمل رُکے گا نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مقتول صدر اپنی قبر سے جنگ کا کنٹرول سنبھال سکیں گے اور حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کا یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ مل کرمقابلہ کریں گے؟میرا مطلب یہ ہے کہ کیا ان کے ادارے ، اتحاد اور افراد ان کے وفادار ر ہیں گے؟ وہ ان کی ہدایات اور نظریات کی پیروی کرتے ر ہیں گے؟ کیونکہ یمن پر ان کے اثرات کوئی چار عشروں پر محیط رہے ہیں۔ ہم جو کچھ جانتے ہیں ، وہ یہ کہ ماضی میں علی صالح کو مٹانے کی کوششیں ناکام رہی تھیں۔حتیٰ کہ جب انھیں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا تو اس کے بعد بھی ایک لیڈر کے طور پر ان کی حیثیت برقرار رہی تھی۔

انھیں جب مسجد النہدین میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس وقت بھی ہر کسی نے یہی خیال کیا تھا کہ ان کا کردار اب ختم ہوگیا ہے۔وہ اس بم دھماکے میں جھلس گئے تھے اور اس کے بعد کئی مہینے تک الریاض کے ایک فوجی اسپتال میں زیر علاج رہے تھے۔ وہ پھر صنعاء لوٹے اور انھوں نے حکومتی نظم ونسق اپنے ہاتھ میں لے کر سب کو حیران کردیا تھا۔انھوں نے سیاسی اور فوجی جنگوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ حوثیوں نے بالآخر انھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ محض انتقام کے لیے ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ مقتول ان کے مخالف ہوگئے تھے اور ان کے سیاسی منصوبے کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

کھیل کی تبدیلی

چند روز قبل انھوں نے جب حوثیوں کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ہی انھوں جنگ کے نقشے کو تبدیل کردیا تھا اور قانونی حکومت کے دشمنوں کی تعداد میں نصف کی کمی کردی تھی۔اس طرح مسلح حزب اختلاف کے زیر قبضہ رہ جانے والے علاقے بھی مزید سکڑ گئے تھے۔علی صالح دشمنوں کے کیمپ کو چھوڑ کر اتحادیوں کے ساتھ جا ملے تھے۔اب اس سے حوثیوں کی شکست کا عمل تیز ہوجائے گا اور بڑی جنگ کا بھی جلد خاتمہ ہوجائے گا۔

تاہم علی صالح کے قتل کا مقصد مصالحت کے عمل کو معطل کرانا ہوسکتا ہے کیونکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے قتل کا مقصد مصالحت کو سبو تاژ کرنا تھا ،اس لیے ہمیں اس کو کامیاب کرانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔سابق صدر نے زندگی کے آخری چار روز میں جو کچھ کیا ہے ، یہ تین سال قبل جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے اہم پیش رفت ہے۔اس سے حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے اور انھیں یمن کے شمال میں و اقع ان کے آبائی علاقوں میں محصور کرنے کے لیے کارروائیوں کو توانائی ملے گی لیکن ایسا تب ہوگا جب صالح کی فوج کے کمانڈر یمنی فوج کی صفوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔

گذشتہ چند روز کے دوران میں علی عبداللہ صالح نے صنعاء کو حوثیوں کے چنگل سے آزاد کرانے کی کوشش کی تھی۔حوثی باغیوں نے ستمبر 2014ء میں یمنی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا اور تب فوج اور سکیورٹی ادارے کسی مزاحمت کے بغیر ہی شکست سے دوچار ہوگئے تھے مگر آج صنعاء میں حوثیوں کی کیا عسکری قوت ہے؟یہ کہا جاتا ہے کہ آج وہ دارالحکومت میں ایک مضبوط قوت ہیں اور انھیں وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے فریقین کے درمیان ایک خونریز جنگ ہوگی۔اس سچائی کا اندازہ لگانا تو مشکل ہے لیکن علی صالح کے قتل کے واقعے نے اس بات کو ثابت ضرورکردیا ہے کہ حوثی شہر میں ایک بااثر قوت ہیں۔

ماضی میں صنعاء علی صالح کا مضبوط قلعہ رہا تھا اور حوثی ان کی اجازت کے بغیر اس شہر میں داخل ہوسکتے تھے اور نہ اس پر قبضہ کرسکتے تھے۔تاہم انھوں نے شہر میں داخلے کے بعد اسلحہ کے حصول پر توجہ مرکوز کی۔ سرکاری اسلحہ خانوں کو لوٹا اور ایک روز اپنے اتحادی علی صالح کے مقابل آنے کی منصوبہ بندی شروع کردی۔یوں حوثیوں نے انھیں قتل کرنے کے بعد دارالحکومت کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

نئی حقیقت فیصلہ کن اور خطرناک ہے۔اس کا تقاضا یہ ہے کہ یمنی فوج اور اتحادی فورسز صنعاء میں داخل ہونے کے لیے صالح کی صدمے سے دوچار وفادار فورسز سے مل کر کام کریں ۔ صنعاء کے شہریوں اور صالح کی فورسز کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ دارالحکومت کو حوثیوں کے پنجے سے آزاد کرائیں۔

مقتول سابق صدر نے ایک نشری تقریر میں یمن کا محاصرہ ختم کرنے اور فوجی اور شہری مقاصد کے لیے ہوائی اڈے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ امدادی قافلے ملک میں داخل ہوسکیں اور تجارتی سرگرمی بحال ہو۔اب صالح کے قتل کے بعد یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ البتہ ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ صالح کی فورسز کے ساتھ ایک نیا اتحاد تشکیل دیا جائے اور صنعا ء میں حوثیوں کا مقابلہ کیا جائے۔

اگر کسی مصالحتی سمجھوتے پر متفق ہونے والے فریق صنعاء کے کسی نظم ونسق پر متفق ہوجاتے ہیں تو پھر اس کو ملک کے انتظامی دارالحکومت کے طور پر از سر نو بحال کیا جاسکے گا۔

صنعاء کے مکینوں ، جنرل پیپلز کانگریس کی قیادت اور علی صالح کی وفادار فورسز کے کمانڈروں کو مقتول سابق صدر کی اختیار کردہ تبدیلی کا ادراک کرنا چاہیے اور انھیں سمجھنا چاہیے کہ انھیں اس تبدیلی کو اختیار کرنے کی بنا پر ہی قتل کیا گیا ہے۔انھیں ان کے فیصلے کا دفاع کرنا چاہیے۔

اور ان سفاک بھیڑیوں یعنی حوثیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ اپنے نئے دشمن علی صالح کو مٹانے اور ان کے منصوبے کی راہ میں حائل ہونے میں تو کامیاب ہوگئے ہیں لیکن سیاسی نظام کا ناک نقشہ بننے کے لیے ان کی اثر انداز ہونے کی امید دم توڑ گئی ہے۔وہ نظم ونسق میں علی صالح کے ساتھ شراکت دار تھے لیکن اب وہ ان کے قاتل ٹھہرے ہیں۔یہ ایک ایسا جرم ہے جس کا وہ کوئی بھی جواز پیش نہیں کرسکتے۔علی صالح کو قتل کرنے کے بعد تو ان کی اصلیت اور بھی واضح ہوگئی ہے کہ ان کی حیثیت یمنیوں کے خلاف ایران کی ملیشیا سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد، العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے