تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
القدس کی جانب شاہراہ پر!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 صفر 1440هـ - 21 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: منگل 23 ربیع الاول 1439هـ - 12 دسمبر 2017م KSA 22:11 - GMT 19:11
القدس کی جانب شاہراہ پر!

میں امریکا کے القدس (یروشلیم ) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے سفارت خانے کی منتقلی کے فیصلے پر عرب اور مسلم دنیا کے غیظ وغضب کو سمجھ سکتا ہوں ۔

لفظ ’’القدس ‘‘ تنہا مسلمانوں کے لیے بالخصوص اور عیسائیوں اور یہود کے لیے بالعموم عمومی جذبات کو متحرک کرنے کے لیے کافی ہے۔ القدس عبادت گزاروں کا شہر ہے۔جیسا کہ فیروز نے گایا ہے کہ یہ روح کا دارالحکومت ہے جہاں تینوں خدا پرست ادیان سماوی کے پیروکار لوگ ملتے ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مساجد کی تصاویر سعودی عرب کی کرنسی پر ایک طویل عرصے تک چھپتی رہی ہیں۔اس سے سعودی عرب القدس کو جو خصوصی اہمیت دیتا ہے،اس کی عکاسی ہوتی ہے۔خواہ یہ سیاسی ، مالی اور عسکری توجہ ہے۔جیسا کہ 1948ء کی جنگ میں ہوا تھا۔

مراکش کے شاہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کی القدس کمیٹی کے چئیرمین ہیں اور اردن کے شاہ عبداللہ بہت سی وجوہ کی بنا پر القدس سے متعلق خصوصی ذمے داریوں کے امین ہیں۔

ایران نے آیت اللہ خمینی کی تعلیمات کی روشنی میں القدس کو خصوصی درجہ دینے کی کوشش کی تھی۔اس نے یوم القدس منانے کا سلسلہ شروع کیا اور القدس فورس کے نام سے ایک بریگیڈ تشکیل دیا اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے طور پر اس کو درست کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کی کوشش تھی۔

لیکن اس دوران میں انھوں نے ہزاروں شامیوں کو ہلاک اور بے گھر کردیا ۔پھر وہ تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے جس سے عراقیوں ، لبنانیوں ، بحرینیوں اور یمنیوں کو نقصان پہنچا۔یہ سب کچھ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی نگرانی میں ہوا۔

سوال یہ ہے کہ آج کے دن تک کشیدگی میں کیسے اضافہ ہوتا رہا ہے؟ یہ ایک بہت پرانی ، دردناک اور پیچیدہ کہانی ہے۔ فلسطینیوں کے علاوہ عربوں اور مسلمانوں نے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالا اور یقینی طورپر یہ برطانوی کالونیل حکام تھے جنھوں نے اس تنازع کو پیدا کرکے پوری دنیا ہی کو اتھل پتھل کا شکار کردیا تھا۔

سیاست میں استحصال

تاہم آج گزرے کل کی طرح نہیں ہے اور کیا فلسطینیوں ، عربوں او ر مسلمانوں نے ماضی کے المیوں سے کچھ سبق سیکھا ہے؟ کیا انھوں نے اس بات کا ادراک کیا تھا کہ القدس اور فلسطین کا سیاست میں استحصال کیا جارہا ہے۔یہ استحصال کرنے والے قوم پرست ، بایاں بازو اور اخوان المسلمون تھے اور پھر ان میں خمینی رجیم کا اضافہ ہوگیا تھا۔

مگر کسی نے کچھ بھی نہیں سیکھا تھا۔ہم نے غزہ میں بعض مشتعل مظاہرین کو دیکھا کہ وہ سعودی عرب سمیت بعض ممالک کے خلاف توہین آمیز نعرے بازی کررہے ہوتے تھے یا ان کے پرچم نذر آتش کررہے ہوتے تھے۔یہ مزاحمت کے حقیقی منظرنامے سے شرم ناک انحراف ہے۔

اب بہت سی غوغا آرائی ، جھوٹ اور چیخم دھاڑ ہے جس سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ہے لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟یقینی طور پر کچھ نہیں اور اس سے القدس کے نصب العین اور مسئلہ فلسطین کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

گذشتہ بدھ کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل العالم نے شام کے مفتیِ اعظم احمد بدرالدین حسون کا تہران سے ایک بیان نشر کیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ ’’ تہران کو موصل ، حلب اور بیروت سے ملانے والی شاہراہ القدس کی جانب بھی بڑی واضح ہے‘‘۔خدا کے لیے، فلسطینی کاز اور القدس کو اس سے زیادہ اور کیسے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

حازم صاغیہ نے روزنامہ الحیات میں اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ ’’ہمیں ایران کی جانب سے ایک واضح اشارے کا انتظار ہے تاکہ اس عوامی غیظ وغضب کے ثمرات سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔انھوں نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ کیا فلسطین ایک مرکزی نصب العین ہے ؟ صرف زبانی کلامی محاذ پر تو سب کچھ ہوگا لیکن عملی طور پر یہ حقیقی نصب العین سے راہ فرار کے طریقے ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ ایران، قطر اور اخوان المسلمون کے پروردہ گروپوں کی توہین آمیز نعرے بازی اور غوغا آرائی سے القدس اور مسئلہ فلسطین کو کیا فائدہ پہنچے گا؟

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند