تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یروشیلم: عالمی قوانین کے تناظر میں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 شوال 1439هـ - 24 جون 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 25 ربیع الاول 1439هـ - 14 دسمبر 2017م KSA 07:59 - GMT 04:59
یروشیلم: عالمی قوانین کے تناظر میں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تاریخی مقدس شہر یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا افسوسناک اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی مسلمان سقوط یروشیلم کی سو سالہ یاد منا رہے ہیں۔ گذشتہ صدی میں 1917ء میں دسمبر ہی کے مہینے میں سلطنت عثمانیہ کو برطانوی سامراج کے ہاتھوں شکست کے نتیجے میں، یروشلم سرنڈر کرنا پڑا تھا۔ پہلی جنگ عظیم سے قبل عالمی سطح پر کسی سرزمین کا مفتوحہ ریاست سے الحاق کر لینے پر حقِ ملکیت تسلیم کرلیا جاتا تھا لیکن 1928ء میں امریکا اور فرانس کے مابین معاہدے میں بزور طاقت علاقے فتح کرنا ناجائز اور ناقابل قبول قرار دے دیا گیا۔

جلد ہی معاہدہ پیرس کو دیگر عالمی ممالک نے بھی تسلیم کر لیا، جس کے مطابق مفتوحہ علاقے کو قانونی طور پر مقبوضہ علاقہ قرار دیا گیا اور یہ طے پایا کہ قابض طاقت کو قطعی اختیار حاصل نہیں کہ وہ مقبوضہ علاقے کی آبادی یا جغرافیہ میں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش کرے کیونکہ جلد یا بدیر اسے مقبوضہ علاقے کو مقامی باشندوں کے حوالے کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہ عالمی معاہدہ آج بھی کارآمد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے ٹھیک سو سال پہلے جنگ عظیم اول کے بعد برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کرلیا تو لیگ آف نیشنز نے انتداب فلسطین کے تحت برطانیہ کو سرزمینِ فلسطین بطور امانت سونپ دی جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں یہاں کے مقامی فلسطینی باشندوں کو خود اپنے امورِ حکومت چلانے کے قابل بنانا شامل تھا، ان حالات میں حکومتِ برطانیہ کی طرف سے اعلان بالفور میں سرزمین فلسطین میں یہودیوں کیلئے 'قومی وطن' قائم کرنے کی حمایت کرنے کا عزم کیا گیا۔

اس زمانے میں امریکا کی سرکاری خارجہ پالیسی بھی بالفور اعلامیے کے گرد گھومتی تھی۔ امریکی کانگریس نے ستمبر 1922ء میں ایک مشترکہ قرارداد یہودیوں کیلئے فلسطین میں ہوم لینڈ قائم کرنے کیلئے منظور کی لیکن ساتھ میں یہ وضاحت بھی کر دی کہ ایسا اقدام مقامی فلسطینی باشندوں کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے۔ اتفاق سے یہ وہی دن تھا جب لیگ آف نیشنز نے فلسطین مینڈیٹ منظور کیا۔ اس کے برعکس آج کے زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیل نے یروشیلم سمیت تمام فلسطینی اور آس پاس کے عرب علاقوں پر ناجائز تسلط جما کر اپنے آپ کو غاصب طاقت ثابت کرتے ہوئے غیر یہودی فلسطینی باشندوں کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔

برطانیہ جنگ عظیم دوئم کی تباہ کاریوں کے بعد فلسطین کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے مزید قابل نہ رہا تو اقوامِ متحدہ نے یو این پارٹیشن پلان کے مطابق 1948ء میں سرزمین فلسطین کو دو آزاد ریاستوں اسرائیل، فلسطین اور یروشیلم کو بطور خصوصی عالمی شہر تقسیم کر دیا۔ اس وقت یروشیلم، اسرائیل کا حصہ نہیں تھا کیونکہ یو این جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 181(ii) یروشیلم شہر کو بطور عالمی شہر تسلیم کرنے اور اقوامِ متحدہ کے تحت انتظامی امور چلانے کا تقاضا کرتی ہے۔ یو این پلان کے مطابق آزاد ریاستوں کے مابین اقتصادی تعاون اور مذہبی واقلیتوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنانے کی بھی بات کی گئی لیکن اس پلان کا نفاذ ہوتے ہی اسرائیل کی ہمسایہ عرب ممالک کے ساتھ جنگ چھڑ گئی اور اسرائیل نے مغربی یروشیلم پر قبضہ کرلیا جسے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے تاحال تسلیم نہیں کیا۔ جنگ کے نتیجے میں فلسطین کیلئے مختص 60 فیصد سے زائد رقبے پر بھی اسرائیل نے غیر قانونی تسلط جما لیا اور سات لاکھ سے زائد مقامی فلسطینی باشندوں کو اپنے آبائی گھروں سے نکال دیا جو آج بھی پناہ کے متلاشی ہیں۔

دسمبر 1949ء میں اسرائیلی کابینہ نے اپنے تل ابیب اجلاس میں یو این پارٹیشن پلان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقبوضہ مغربی یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ بعد ازاں 1950ء میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے بھی اپنے پہلے اجلاس میں اس غیر قانونی اقدام کی تائید کر دی لیکن عالمی برادری نے اسرائیلی موقف کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہوئے اپنے سفارتخانے تل ابیب ہی میں قائم رکھے۔ دوسری طرف پاکستان سمیت مسلمان ممالک کی اکثریت اسرائیل کو بطور ملک تسلیم نہیں کرتی۔ اسرائیل 1967ء کی دوسری عرب اسرائیل جنگ کے بعد مکمل طور پر یروشیلم سمیت دیگر عرب علاقوں پر قابض ہوگیا تو اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 242 میں اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ قرارداد علاقائی امن واستحکام کیلئے سب سے زیادہ موثر سمجھی جاتی ہے جس نے مستقبل میں اسرائیل کے مصر، اردن اور فلسطین کے ساتھ امن معاہدوں کی راہ ہموار کی۔

قیام امن کیلئے کی جانے والی عالمی کاوشوں کو دھچکا اس وقت لگا جب اسرائیلی پارلیمنٹ نے 1980ء میں مکمل یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ جواب میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے قرارداد نمبر 478 منظور کرکے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے ممبران ممالک کو پابند کیا کہ وہ اپنے سفارتخانے یروشیلم منتقل نہ کریں۔ اس موقع پر قرارداد کے حق میں 14 ووٹ جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا۔ امریکا نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا۔ عالمی مبصرین کی نظر میں اسرائیل کی طاقت کا راز سپرپاور امریکا کی حمایت کو سمجھا جاتا ہے۔ امریکا، اقوام متحدہ میں پیش ایسی تمام قراردادوں کو ویٹو کرتا آ رہا ہے جن میں اسرائیلی مظالم کی مذمت، اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنا یا عالمی قوانین کا احترام کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی لابی 1995ء میں امریکی کانگریس کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئی کہ یروشیلم اسرائیل کا قانونی دارالحکومت ہے اور امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشیلم 31 مئی 1999ء سے قبل منتقل کر دیا جائے۔ یروشیلم ایمبیسی ایکٹ نامی یہ قانون منظور تو ہوگیا لیکن عالمی قوانین سے متصادم ہونے کی بناء پر فوری طور پر نافذ نہ ہو سکا اور امریکی صدور بشمول بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور باراک اوباما ہر 6 مہینے بعد اس کی مدتِ نفاذ میں اضافہ کرتے رہے۔ یروشیلم ایمبیسی ایکٹ کے سیکشن 3(a-1) کے مطابق امریکی پالیسی کے تحت یروشلم کو ایک ایسا متحد شہر قرار دیا گیا ہے جہاں ہر ایک کے مذہبی اور نسلی حقوق کی حفاظت یقینی ہو سکے لیکن یروشیلم میں قائم مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے مذہبی فرائض کی ادائیگی پر پابندی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعد یروشیلم میں فلسطینی مظاہرین پر جس ظالمانہ طریقوں سے تشدد کیا گیا بلکہ فضائی حملہ تک کیا گیا۔ یہ بہیمانہ کارروائیاں یروشیلم ایمبیسی ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

اس کالم نگار کی نظر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یروشیلم کے تقدس کو مقدم رکھتے ہوئے ویٹی کن سٹی کی طرز پر آزاد عالمی حیثیت کو قائم کرنا ضروری ہے یا پھر دو ریاستی حل کے تحت دونوں فریق باہمی رضا مندی سے یروشیلم کو مشترکہ دارالحکومت قبول کرنے پر آمادہ ہوں لیکن طاقت کے زور پر اسرائیل کا یکطرفہ طور پر مقبوضہ یروشیلم کو اپنا دارالحکومت قرار دینا اور امریکا کا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ پر بطور سپرپاور ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عالمی امن واستحکام کی خاطرغیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کیلئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ سپرپاور کے ایک غلط فیصلے کا خمیازہ ساری انسانیت کو بھگتنا پڑ جاتا ہے۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند