استنبول میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ہنگامی سربراہ اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے معطل ’’امن عمل‘‘ میں اپنا کردار اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے 13 دسمبر کو او آئی سی کی اس سربراہ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اتھارٹی اب مشرقِ وسطیٰ امن عمل میں امریکا کی مصالحت کو قبول نہیں کرے گی۔ انھوں نے مسلم اکثریتی ممالک سے تعلق رکھنے والے شریک سربراہان اور وزراء سے خطاب میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس ( یروشلیم ) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد اب واشنگٹن مصالحت کار کے طور پر ’’ فٹ ‘‘ نہیں رہا ہے۔

اس کے بجائے محمود عباس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مصالحت کار کا کردار ادا کرے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انھوں نے یہ اعلان کرنے کے لیے اتنا طویل انتظار کیوں کیا ہے؟ نیز اب وہ اپنا آخری کھیل کیا کھیلنا چاہتے ہیں؟

امن عمل کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ 2000؁ ء میں کیمپ ڈیوڈ اجلاس کی ناکامی کے بعد کوئی امن عمل نہیں رہا ہے۔اس اجلاس کے میزبان سابق امریکی صدر بل کلنٹن تھے اور یہ دراصل ان کا اور اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک کا ایک جال تھا جو انھوں نے فلسطینی اتھارٹی کے لیڈر مرحوم یاسر عرفات کو پھانسنے اور دباؤ میں لانے کے لیے بچھایا تھا تاکہ وہ یروشلیم پر فلسطینی حقوق سے دستبردار ہوجائیں۔

یاسر عرفات اپنی بہت سے سیاسی غلطیوں کے باوجود ایک غیر تحریری تجویز کو مسترد کرنے کی حس رکھتے تھے۔اس تجویز میں دراصل مقبوضہ شہر پر فلسطینیوں کی خود مختاری کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تھا اور اس کے بجائے انھیں مغربی کنارے کے ملحقہ علاقوں پر محدود خود مختارانہ کنٹرول دیا گیا تھا۔

جب مرحوم یاسر عرفات نے امریکا ، اسرائیل کے دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کردیا اور بغاوت کردی تو اسرائیلی فوجیوں نے رام اللہ میں ان کے دفتر کا گھیراؤ کر لیا۔انھوں نے یہ محاصرہ 2004ء تک برقرار رکھا تا آنکہ یاسر عرفات علیل ہوگئے ، انھیں علاج کے لیے ایک فضائی ایمبولینس کے ذریعے پیرس منتقل کردیا گیا اور وہیں وہ ایک اسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔

اس کے فوری بعد محمود عباس نے فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔انھوں نے ناکارہ امن عمل کو بحال کیا اور پھر آنے والے برسوں میں اس کی غوغا آرائی کی جاتی رہی تھی۔وہ اپنے مقہور عوام کا ازکارِ رفتہ نعروں اور خالی خولی نعروں سے دل بہلاتے رہے تھے اور جو ان سے عدم اتفاق کی جسارت کرتے تھے،انھیں وہ سزا دیتے تھے۔

درحقیقت محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم بنیا مین نیتن یاہو نے امریکی ڈھونگ میں اپنا اپنا کردار خوب نبھایا ہے۔محمود عباس عطیہ دینے والوں کی رقوم پر پلتے رہے اور انھوں نے اپنے مخالف فلسطینیوں کو دیوار سے لگائے رکھا۔نیتن یاہو نے غیر قانونی یہودی بستیوں کو پھیلانے اور فلسطینیوں کے خلاف ہلاکت آفریں پالیسیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کے ساتھ ساتھ امن کے لیے زبانی جمع خرچ بھی کرتے رہے ہیں۔ اس دوران میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل میں اپنے کردار پر مبنی ایک ’’سیاسی اسٹیٹس کو ‘‘برقرار رکھا ہے ۔ظاہر ہے ،اس کردار کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔

حتیٰ کہ ایک مرحلے پر تو یورپی بھی یہ بات جان گئے تھے کہ امن عمل ضرورت سے کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیا تھا اور اس کو صرف امن کی تلاش کے لیے ایک حقیقی کوشش کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔

یورپی یونین اب ٹرمپ کے القدس پر فیصلے سے بظاہر صدمے میں ہے اور اس سے نالاں ہے۔ان کا یہ اعلان بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس نے تنازع کے دو ریاستی حل کے کسی امکان کو سبوتاژ کردیا ہے۔

محمود عباس نے قریباً ربع صدی فضول بات چیت میں گنوا دی ہے اور اب وہ فلسطینیوں کو مزید غیر شناختہ علاقے کے لیے اپنے پیچھے لگائے رکھنا چاہتے ہیں ۔ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ خود کو اور چند ایک اور فلسطینیوں کو منظرنامے میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن اب تک بہت ہوچکی ہے۔

غیظ وغضب کی سیاست

اب امریکی چہرے سے نقاب مکمل طور پر اُتر چکا ہے، فلسطینیوں کو اپنی سیاسی ترجیحات، اتحاد اور قومی آزادی کی حکمت ِعملی پر فوری طور پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

فتح تحریک نے ، جس کا فلسطینی اتھارٹی پر 1994ء میں اس کے قیام کے بعد سے کنٹرول ہے، امریکی اقدام کے خلاف یوم الغضب کا اعلان کرکے فلسطینیوں کے غم وغصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جھڑپوں میں متعدد فلسطینی شہید اور بہت سے زخمی ہوچکے ہیں۔وہ غیر مطلوب امریکی فیصلے کے خلاف اپنے جائز غصے کا اظہار کررہے تھے۔

لیکن فلسطینیوں کے جذبات کا ان کی قیادت کی جانب سے استحصال نرم سے نرم الفاظ میں بھی قابل مذمت ہے۔ فلسطینی قیادت ماضی میں ’’غضب کی سیاست‘‘ کو عوامی تنقید اور جذبات واحساسات کا رُخ موڑنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔بلا شک وشبہ اسرائیل اور امریکا فلسطینی عوام پر فوجی قبضے اور انھیں جبر واستبداد کا شکار رکھنے پر ہر طرح کی مذمت کے حق دار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی قیادت کی بھی مذمت کی جانی چاہیے اور اس مذمت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔

فلسطینی قیادت ،حکام کی فوج ظفر موج ، سیاست دانوں ، پنڈتوں اور ٹھیکے داروں نے گزرے برسوں میں غیرملکی فنڈز سے اربوں ڈالرز بنا لیے ہیں۔یہ رقوم امن عمل کے ڈھونگ کو برقرار رکھنے کے لیے ہی دی گئی تھیں جبکہ اس دوران میں فلسطینیوں کی عام آبادی غریب سے غریب تر ہوتی چلی گئی ۔اب یہ فلسطینی عطیات کی شکل میں ملنے والی رقوم کے ایسے طفیلی بن کر رہ گئے ہیں کہ ایسے وہ پہلے کبھی نہیں تھے۔

لیکن جنھوں نے فلسطینی قیادت کے پیش کردہ قابل قبول سیاسی فریم ورک کی مزاحمت کی ، انھیں ہراساں کیا گیا، قید میں ڈال دیا گیا یا سخت سزائیں دی گئیں۔یہ معاملہ نہ صرف غزہ میں پیش آیا بلکہ غربِ اردن میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا۔فلسطینی اتھارٹی کے طریق کار پر سوال اٹھانے والے بہت سے صحافیوں ، اساتذہ ، ماہرینِ تعلیم ، فن کاروں اور سیاسی وانسانی حقوق کے کارکنان کو سخت اذیتیں دی گئیں۔

اب فلسطینی اتھارٹی ان ہی فلسطینو ں سے یہ کہہ رہی ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اپنے غیظ وغضب کا اظہار کریں۔ حماس بھی ایک نئی انتفاضہ تحریک شروع کرنے پر زور دے رہی ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ فلسطینی دھڑوں نے کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پائیدار عوامی مزاحمتی تحریکیں کبھی کسی ایک جماعت یا ایک سیاست دان کی اپیل کا ردعمل نہیں رہی ہیں۔یہ آزادی کے لیے ایک برجستہ صدا اور حقیقی ردعمل ہوتی ہیں ،ان کا منبع عوام ہوتے ہیں، سیاسی اشرافیہ نہیں۔

بعض فلسطینی دھڑوں کو یہ امید ہے کہ اسرائیلی قبضے کے خلاف عوامی غیظ وغضب سے ایک حفاظتی حصار قائم ہوسکے گی اور اس طرح وہ ایک اور دن کے لیے جی سکتے ہیں۔دوسرے گروپ اس عوامی لہر کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کررہے ہیں مگر یہ کوئی حکمت عملی ہے اور نہ یہ امریکا سے کوئی شائستہ اپیل ہوگی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور نہ اس سے صدر ٹرمپ پر تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے کوئی دباؤ پڑے گا۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے 9 دسمبر کو قاہرہ میں اپنے ہنگامی اجلاس کے بعد جو بیان جاری کیا تھا،اس کی زبان یبوست زدگی کی ایک عمدہ مثال ہے اور یہ بالکل غیر موثر ثابت ہوگا۔اس وقت فلسطینیوں کو اپنے عرب بھائیوں کا اس ایشو پر ایک مضبوط اور متحد ہ موقف درکار ہے۔وہ کسی تردد کے بغیر نئے سیاسی روٹس دریافت کریں اور وہ امریکا اور اسرائیل پر عملی اور ٹھوس دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

اور ہاں ! اس فلسطینی قیادت کا احتساب کیا جانا چاہیے جس نے فلسطینیوں کی جدوجہد کو سبوتاژ کیا اور نِکو بنا دیا، اور اس نے امریکی سراب کا پیچھا کرتے برسوں قیمتی سال ضائع کردیے۔

پی ایل او کی تنظیمِ نو

اگر فلسطینی قیادت میں خود احتسابی اور ذاتی احترا م کا ذرا سا بھی مادہ موجود ہے تو پھر اس کو فلسطینی عوام سے صدقِ دل سے وقت ، توانائی اور گزرے عشروں میں آزادی کی جنگ میں بہنے والے خون کے ضیاع پر معافی مانگنی چاہیے۔

اس کو فوری طور پر نئی صف بندی کرنی چاہیے، تنظیمِ آزادیِ فلسطین ( پی ایل او ) کے تمام اداروں کو فعال کردینا چاہیے۔اس کی چھتری تلے تمام دھڑوں کو لانا چاہیے اور معدوم ہوتے مستقبل کے لیے ایک نئی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔

اب تک اس ضمن میں کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔کسی مشترکہ حکمت عملی کے بغیر غصے سے بھرے بیانات اور فلسطینیوں کو متحرک کرنے کی اپیلوں سے صرف ان جماعتوں اور دھڑوں کے مفادات ہی کا تحفظ ہوگا لیکن آخر کار اس سے فلسطینی عوام اور ان کی قومی امنگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

سچ تو یہ ہے کہ عام فلسطینیوں کو فتح یا حماس کی جانب سے یوم الغضب یا کسی نئی انتفاضہ کے اعلان کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اسرائیلی قبضے کے خلاف نفرت اور اپنے شہر القدس سے محبت کے اظہار کے لیے انھیں کسی سرکاری ابلاغ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔یہ ہمیشہ سے ان کی اپنی جنگ رہی ہے اور وہ گذشتہ پچاس سال سے ہر روز یہ جنگ لڑتے چلے آ رہے ہیں۔

ٹرمپ نے جو کچھ کیا ہے ،اس کے آنے والے برسوں میں خطے کے لیے خوف ناک مضمرات ہوں گے لیکن اس کا ایک فوری نتیجہ تو یہ برآمد ہوا ہے کہ اس سے امن عمل اور اس میں امریکا کا کردار ایک مکمل ڈھونگ کے طور پر طشت از بام ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ امریکا کبھی اپنے اس کردار میں دیانت دار اور صاف نہیں رہا ہے مگر اس سے فلسطینی قیادت کی تمام ناکامیوں اور بدعنوانیوں کا بھی بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔

اگر فلسطینی نئے سرے سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو پھر انھیں نئے خون کے ساتھ ایک نئی سیاسی راہ پر چلنا ہوگا۔ان کے پیش نظر اتحاد ، اعتماد اور مسابقت پر مبنی ایک نیا مستقبل ہونا چاہیے۔یہ سب کچھ پرانے چہروں ، ازکار رفتہ سیاست اور فرسودہ زبان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔

یہ ایک نئے آغاز کا وقت ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے