اگر قطر کے حجم اور آبادی کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس کے حالیہ دفاعی سودے اس سے دس گنا بڑی کسی ریاست کے دفاع کے لیے کافی ہیں۔

خلیج کے قطر کے ساتھ تنازع پھوٹ پڑنے کے بعد سے دوحہ نے 24 برطانوی ٹائفون لڑاکا جیٹ ،امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے مالیت 12 ارب ڈالرز ، 24 فرانسیسی رافال لڑاکا طیارے ، اٹلی سے سات جنگی بحری جہاز مالیت 6 ارب ڈالرز ، جرمنی سے 62 ٹینک مالیت 2 ارب ڈالرز اور ترکی سے 2 ارب ڈالرز مالیت کا جنگی سازو سامان خرید کیا ہے۔

لابنگ

ان میں سے زیادہ تر دفاعی سودوں کا سیاسی مقصد بڑی حکومتوں کو بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک سعودی عرب ، مصر ، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے خلاف قطر کی لابنگ پر آمادہ کرنا تھا۔تاہم ان فوجی سودوں سے دہشت گردی مخالف گروپ چار کے اقدامات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ان سے دوحہ کو کچھ بھی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے ،سوائے چند ایک سیاسی بیانات کے ، ان میں بھی مصالحت اور بائیکاٹ کے خاتمے پر زوردیا گیا ہے لیکن یہ اپیلیں دوسرے فریق کے لیے صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ہیں اور اس کے بہرے کانوں پر کچھ بھی اثر نہیں ہوا ہے۔

بدقسمتی سے قطر کے ان ہتھیاروں سے بالآخر خلیج تعاون کونسل میں شامل ان چار ممالک ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ان سے دوحہ کو کچھ بھی فائد نہیں پہنچ سکتا ،الّا یہ کہ وہ ایک اجتماعی اور دفاعی فریم ورک میں آ جائے۔چنانچہ قطر کے عجلت میں خرید کیے گئے اور انبار لگائے گئے ان ہتھیاروں سے سعودی عرب اور بائیکاٹ کرنے والے دوسرے ممالک ہرگز بھی خوف زدہ نہیں ہوئے ہیں۔اگر آیندہ چار سال کے دوران میں قطر کے ساتھ جاری بحران کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو یہ ہتھیار ان ممالک کے ہاتھ ہی لگیں گے۔

میں نے چار سال کا عرصہ اس لیے کہا ہے کہ ان ہتھیاروں کی تیاری اور قطر کے حوالے ہونے میں اتنا ہی وقت درکار ہو گا۔یہاں میری مراد یہ نہیں ہے کہ یہ تنازع چار سال تک جاری رہے گا کیونکہ یہ مزید ایک اور سال میں بھی ختم ہوسکتا ہے۔میں یہ پیشین گوئی نہیں کرسکتا کہ یہ تنازع دوستانہ یا ڈرامائی انداز میں ختم ہوجائے گا۔

تاہم جو بات یقینی ہے ، وہ یہ کہ قطر ہی وہ فریق ہے جس کو اس بحران سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک کے نزدیک یہ ایک ’’چھوٹا مسئلہ‘‘ ہے۔انھیں قطر کی ضرورت نہیں ہے اور اگر اس کے ساتھ تعلقات منقطع رہنے کا یہ سلسلہ ایک طویل عرصے تک چلتا ہے تو ان کی بلا سے۔دوسری جانب قطر کو ہر سطح پر خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے ۔اس کا اندازہ صرف اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ جو لڑاکا طیارے خرید کررہا ہے ، ہوا بازوں کو انھیں اڑانے کی تربیت دینے کے لیے اس کے پاس فضائی حدود نہیں ہیں۔اس کے پاس اتنی زمین نہیں ہے جہاں وہ اپنے اونٹوں کو چُرا سکے۔چنانچہ اس جہازوں کے ذریعے اپنے اونٹوں کو کویت اور دوسرے ممالک میں منتقل کرنا پڑا ہے۔

اگر یہ دفاعی سودے کسی سیاسی حل کا حصہ ہیں تو پھر ہمیں یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ قطری حکومت نے اب تک کیا حاصل کیا ہے؟اس کا جواب ہے ، بہت کم ۔قطر نے واشنگٹن میں جو سرمایہ کاری کی ہے، وہ کافی نہیں تھی اور اس کو امریکا کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کرنا پڑے تھے۔اس سمجھوتے پر دست خط کرتے وقت قطر کو امریکا کو اپنی مالیاتی سرگرمی کی نگرانی سمیت متعدد رعایتیں دینا پڑی تھیں۔ قطر کی مالیاتی سرگرمی ماضی میں مشتبہ رہی تھی اور اس کے بارے میں شکایت کی جاتی رہی تھی۔اب اس کو امریکیوں کو ان لوگوں اور اداروں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنا ہوں گی ، جو اس سے وابستہ ہیں۔

رعایتیں

امریکا کے ساتھ طے شدہ مفاہمت کی اس یادداشت کے تحت قطر نے بعض مطلوب افراد کو جیل میں ڈالا ہے اور بعض کو ملک بدر کردیا ہے۔ ماضی میں دوحہ یہ سب کچھ کرنے سے گریزاں رہا ہے اور پھر اس کا چار ممالک سے تنازع پیدا ہو گیا تھا ۔اس کے بعد قطری امریکا کی جانب بھاگ دوڑے اور اس کو تعاون کی پیش کش کردی ،کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ بحران شدت اختیار کر جائے گا۔

ہم نے یہ دیکھا کہ بحران کے ابتدائی ایام میں بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک نے کیسے قطر کو سبکی سے دوچار کردیا اور انھوں نے دوحہ میں موجود امریکا کو مطلوب افراد کی فہرست کو اپنے مطالبات میں بھی شامل کر لیا تھا۔

قصہ مختصر یہ کہ اگر ان دفاعی سودوں کا مقصد یہ تھا کہ بڑے ممالک کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارت اور بحرین پر بائیکاٹ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں تو پھر قطر نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا ہے۔قطر ی جہاز اب بھی اونٹ لاد کر چُرانے کے لیے کویت لے جاتے ہیں اور برطانیہ اور آسٹریلیا سے طیاروں کے ذر یعے گائیں لائی جارہی ہیں۔قطر اور بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے درمیان مشترکہ سرحدیں اب بھی بند ہیں۔اگر ان دفاعی سودوں کا مقصد فوجی تحفظ مہیا کرنا ہے تو یہ مسئلے اور اس کے امکانات کو سادہ تر بنانا ہے۔

قطر کے ان بڑے ممالک سے دفاعی سودے اور خریداریاں دراصل عرب گروپ چار سے وابستہ ان ممالک کے مفادات اور فوائد کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ بڑے ممالک اپنے فیصلوں کو ملتوی بھی کرسکتے ہیں کیونکہ وقت قطر کے ساتھ نہیں ہے جبکہ چار عرب ممالک ہرگز بھی دباؤ میں نہیں ہیں اور وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے قطر کے ساتھ اپنی سرحدیں بند اور تعلقات منقطع کرکے دراصل اس کو ان ممالک کے یہاں داخلی مسائل پیدا کرنے سے محروم کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کا یہ کالم پہلے عرب روزنامے الشرق الاوسط میں شائع ہوا تھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے