تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
علی صالح کے وفاداروں کا یمن کے اگلے مرحلے میں کیا کردار ہوگا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 شوال 1439هـ - 24 جون 2018م
آخری اشاعت: منگل 7 ربیع الثانی 1439هـ - 26 دسمبر 2017م KSA 17:55 - GMT 14:55
علی صالح کے وفاداروں کا یمن کے اگلے مرحلے میں کیا کردار ہوگا؟

حوثیوں کی معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کو قابو کرنے کی کارروائیوں کے بعد باغیوں کے حکومتی ڈھانچے میں گہری دراڑ پڑ گئی ہے۔ علی صالح یمن میں کسی دوسرے شخص کی طرح کے نہیں تھے۔آپ خواہ انھیں پسند کریں یا نہیں ، وہ یمن میں گذشتہ عشروں کے دوران میں حکومتی نظم قائم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

وہ سیاسی کھیل میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔وقت ِضرورت وہ متشدد بن جاتے تھے اور جب انھیں ضرورت پیش آتی تھی تو وہ نرم خو بن جاتے تھے۔انھوں نے مفادات کا ایک جال بُن رکھا تھا۔اسی لیے جنرل پیپلز کانگریس کے بہت سے کارکنان اور حامی انھیں ایک ’’ رہ نما‘‘ شمار کرتے تھے۔

حوثی باغیوں نے حال ہی میں علی صالح کو بے دردی سے قتل کردیا اور پھر وہ ان کی لاش کی تصاویر اور ویڈیو بنا کر اس کی تشہیر کرتے رہے تھے۔ان کے لیڈر عبدالملک الحوثی نے ان کے سفاکانہ فعل کی تحسین کی تھی۔لیکن علی صالح کے قتل سے انتقام کی آگ مزید بھڑکے گی اور انھوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حوثیوں کے خلاف بغاوت کی جو آگ سلگائی تھی ، وہ بھی مزید زور پکڑے گی۔

قانونی حکومت کی حمایت

علی صالح کی یمن کی قانونی حکومت اور بالخصوص صدر عبد ربہ منصور ہادی سے نفرت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ حال ہی میں علی صالح کے وفادار اور جنرل پیپلز کانگریس کے بہت سے ارکان نے صدر منصور ہادی کی قانونی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا ہے ۔ان میں سے بعض کا تعلق دارالحکومت صنعاء کے نزدیک واقع صوبے مآرب سے تھا۔

حوثیوں کے زیر انتظام نوجوانوں اور کھیلوں کے امور کی وزارت کی سابق انڈر سیکریٹری نورا الجروی نے العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں حوثیوں کے خلاف ہر ممکن ذرائع سے بغاوت برپا کرنے پر زوردیا ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ وہ اب یمنی فوج اور صدر منصور ہادی کے زیر قیادت قانونی حکومت کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ حوثیوں سے علی صالح اور جنرل پیپلز کانگریس کے بیسیوں کارکنان کا انتقام لیا جائے۔

یمنی پولیس کی اسپیشل فورسز کے سابق کمانڈر اور الحداء قبائل کے معروف لیڈر فضل القوسی نے بھی مآرب سے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے یمنی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

دراڑ

میں یہ بات لکھتے ہوئے کسی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لے رہا ہوں کہ بغاوت کے شراکت داروں کے درمیان اب گہری خلیج پیدا ہوچکی ہیں ۔ان میں ایک دوسرے کے خلاف انتقام اور نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔غصے اور نفرت کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ تمام صورت حال آیندہ کیا رُخ اختیار کرتی ہے اور علی صالح کے حامیوں پر مشتمل نیا اتحاد کب معرض ِوجود میں آتا ہے کیونکہ پہلے تو مقتول اس ضمن میں تمام فیصلوں کو ویٹو کردیا کرتے تھے لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔

علی صالح کے بعد از مرگ قد کاٹھ میں (ان کے پیروکاروں کی نظر میں) اس صورت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کہ ایران اور اس کے مقامی گماشتہ حوثیوں کو اس جنگ میں شکست سے دوچار کیا جائے ۔

یہ ایک بڑی جنگ ہے۔ جہاں تک علی صالح کے حامیوں کا تعلق ہے ،اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ وہ عرب اتحاد اور قانونی حکومت کے کتنے بڑے ناقد رہے تھے اور اتحادی افواج کی اموات سے انھیں کتنی تقویت ملتی تھی ،اصل بات یہ ہے کہ ان کے ساتھ تنازع سیاسی تھا اور سیاسی ہی ر ہے گا ۔اس کا عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے جیساکہ عبدالملک الحوثی اور حسین الحوثی کے افراد کا معاملہ ہے۔

اس تمام کھیل میں الاصلاح پارٹی اور اس کی پشتی بان الاخوان المسلمون کہاں کھڑی ہے؟ اس موضوع پر میں ایک الگ تحریر میں روشنی ڈالوں گا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند