تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران میں احتجاجی مظاہرے کیا رُخ اختیار کریں گے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 شوال 1439هـ - 24 جون 2018م
آخری اشاعت: پیر 13 ربیع الثانی 1439هـ - 1 جنوری 2018م KSA 18:21 - GMT 15:21
ایران میں احتجاجی مظاہرے کیا رُخ اختیار کریں گے؟

بغاوت کی تپش اپنے ساتھ تشویش لے کر آتی ہے۔ فاتحین کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ رہنے کے لیے آئے ہیں۔ وہ التباس کا شکار نظر آتے ہیں اور انھوں نے ملک پر ایک مستقل نشان چھوڑ دیا ہے۔سب سے کامیاب انقلاب وہ ہوتے ہیں جو ریاست میں ضم ہونے کو تیار ہوتے ہیں اور یوں یہ بات یقینی ہوسکتی ہے کہ اس (انقلاب ) کو پروقار انداز میں رخصت کیا جا سکتا ہے ۔

ایک انقلاب اگر ریاست اور اس کی ساخت کو مسترد کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جلد یا بدیر ایک رد انقلاب بھی پیدا ہوگا۔ یہاں استرداد سے مراد یہ ہے کہ اس کا مہلک انداز میں استیصال کردیا جائے ۔

ایرانی انقلاب نے ایسا طرز عمل اختیار کیا تھا جیسے وہ دو سرے انقلابوں کے مشابہ نہیں ہے۔اس نے غلط طور پر یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ وہ انقلاب کے قوانین کو ملحوظ نہیں رکھتا ہے۔وہ غلط طور پر اس بات میں بھی یقین رکھتا ہے کہ وہ اپنے پرانے دور کی علامتوں کو حذف کرسکتا ہے اور جنھیں اس نے جنت دینے کے وعدے کیے تھے،انھیں مایوس کیا ہے اور وہ اس مایوسی کا بھی خاتمہ کرسکتا ہے۔خمینی انقلاب نے رکنے سے انکار کیا اور ماضی قریب کے تجربات سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔

ایرانی انقلاب سے چھے عشرے قبل بیسویں صدی کے اوائل میں لینن کا انقلاب برپا ہوا تھا۔یہ یقین کیا جاتا ہے کہ اس نے آزادی حاصل کر لی تھی اور وہ ایک نئے طرز کا انسان بنانے میں لگ گیا تھا۔اس کو بھی یہ دھوکا ہوگیا تھا کہ وہ جماعت اور فوج ، ایجنسیوں کی سخت گیری ، اس کی پروپیگنڈا مشین کی مہارت اور غیر ملکی محاذ پر بالادستی سے ہمیشہ قائم رہے گا۔

فروری 1986ء کے آخری ہفتے میں ماسکو میں سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی ستائیسویں کانگریس منعقد ہوئی تھی۔دنیا ایک نئے لیڈر کی منتظر تھی۔کریملن میں کانگریس ہال ایک متاثر کن منظر پیش کررہا تھا۔ایک نوجوان صحافی کی حیثیت سے میں نے وہاں جو کچھ دیکھا تھا،اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔

کانگریس کے سیکریٹری جنرل میخائل گوربا چوف پینل کے درمیان میں بیٹھے تھے۔ان کے دائیں بائیں وارسا اور سوشلسٹ کیمپ سے تعلق رکھنے والے ان کے اتحادی موجود تھے۔یہ وہی ممالک تھے جو ماسکو کے مدار کے ارد گرد گھومتے تھے۔ ان میں فیدل کاسترو بھی تھے اور وہ نئے زار کی بیعت کے لیے آئے تھے۔ کمیونسٹ پارٹی کے دوسرے قائدین کرام ، سُرخ فوج اور مشرقی یورپ کے جرنیل بھی وہاں موجود تھے۔

ہر چیز سے مضبوطی کا تاثر مل رہا تھا۔ہم یہاں ایک ایسی سلطنت کی بات کررہے ہیں جو سرتاپا مسلح تھی۔اس سلطنت کے پاس ایک ایسا جوہری ہتھیار تھا جو دنیا کو کئی مرتبہ تباہی سے دوچار کر سکتا تھا۔ اس کے پاس راکٹوں کی اتنی زیادہ تعداد تھی کہ ان کا رُخ چہار جانب تھا۔

لینن کا مقبرہ

میں نے خود سے کہا کہ مجھے لینن کے مقبرے پر جانا چاہیے ۔وہ کانگریس ہال سے چند میٹر کے فاصلے پر ریڈ اسکوائر کے دوسرے سرے پر واقع تھا۔وہاں ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی لیکن ایک ضعیف ا لعمر عورت نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ وہ صابن کی ایک ٹکیا فروخت کرنے کی کوشش کررہی تھی لیکن پولیس کے ایک اہلکار نے فوری مداخلت کی اور اس سے کہا کہ وہ وہاں سے چلی جائے۔

بعد میں ہمیں پتا چلا کہ پولیس بھکاریوں کو سرخ چوک کے قریب پھٹکنے نہیں دیتی تھی اور انھیں وہاں سے بزور بھگا دیتی تھی تاکہ وہاں آنے والوں کو یہ پتا ہی نہ چل سکے کہ لینن کا انقلاب غربت کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ پولیس حزب اختلاف کی چند ایک شخصیات کو بھی اپنے مطالبات کے حق میں مظاہروں سے روک دیتی تھی ۔وہ آزادی کے حق میں اور روز مرہ اشیائے ضروریہ کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں انتظار کی مظہریت کے خاتمے کے لیے احتجاج کررہے تھے۔

اس کے پانچ سال کے بعد سوویت یونین معیشت اور آزادی کی جنگوں کو ہار گیا تھا اور کوئی بھی اس کا دفاع کرنے کو تیار نہیں تھا۔ وہ اپنی چادر سے باہر پاؤں پسارنے اور اقتصادی صلاحیت سے بڑھ جانے والی سلطنت کے بوجھ تلے ہی منہدم ہوگیا تھا۔اس کا اپنے دشمن کی توپوں سے نہیں بلکہ شہریوں کی مایوسی سے دھڑن تختہ ہوا تھا۔

ا ن دنوں روسی اس بات پر حیران تھے کہ ’’ ہم سوویت عوام کے لیے روٹی ، روزی کا بندوبست کرنے کے بجائے کاسترو کی حکومت کے تحفظ کے لیے کیوں اربوں ڈالرز صرف کررہے ہیں‘‘۔ تب سوویت روسی غیظ وغضب کا شکار تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’’ راکٹوں کی مضبوطی ہمیں مطمئن نہیں کرسکتی ہے‘‘۔

2017ء سے ایک اور سبق ۔ چینی صدر شی جین پنگ نے متعدد پلیٹ فارموں سے ایسی اصلاحات کی ضرورت پر زوردیا ہے،جن سے ملک سے غربت کے خاتمے میں مدد مل سکے۔ اندرونی استحکام اور خوش حالی کے نتیجے میں چین اب شاہراہ ریشم پر گامزن ہے اور وہ دنیا کے کھلاڑیوں کے درمیان اپنے لیے ایک بہتر پوزیشن کا مطالبہ کررہا ہے۔

حسن روحانی کی تقریر

حسن روحانی ان ایسی تقریریں کرنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے ملک میں مغربی شام سے بحر متوسطہ تک ایک شاہراہ کی راہ ہموار کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے اور یہ شاہراہ بھی بارودی سرنگوں سے اٹی ہوئی ہے۔ ایران کو یہ یقین ہے کہ وہ نئے سال کے دوران میں گذشتہ برسوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو پختہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔بغداد میں اس کی قوت اس نقطے تک پہنچ چکی ہے جہاں وہ عراقی روز مرہ ز ندگی میں پوری طرح دخیل ہے ۔

کردوں کو ’’ نظم وضبط‘‘ کا پابند بنانے میں اس کا کردار بڑا واضح تھا ۔ شام میں کامیابی خود بول رہی ہے ۔بشارالاسد کا مستقبل اب کسی بھی مذاکراتی میز کا مرکزی ایشو نہیں رہا ہے۔روس نے شامی حزب اختلاف کو نظم وضبط کا پابند بنا دیا ہے اور داعش کی کمر توڑ دی ہے۔

ایران لبنان کی حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کی بھی پشت پناہی کررہا ہے اور انھیں مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل ہونے کی امید ہے۔اس سے ایران کو لبنان کو ’’ایرانی ہلال‘‘ سے تبدیل کرنے کا موقع مل جائے گا۔یمن میں ایران جنگ کو طول دینے کے لیے کام کررہا ہے اور اس گماشتہ جنگ میں حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

ایرانی حکام ان کامیابیوں کو بیان کرنے میں کسی تردد کا شکار نہیں ہوتے ہیں۔ ایرانی شہری جنرل قاسم سلیمانی کو شام اور عراق میں جنگجوؤں کے درمیان مٹر گشت کرتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں۔انھوں نے قاسم سلیمانی کو اس وقت بھی مسکراتے ہوئے دیکھا تھا جب وہ شام اور عراق کی سرحد کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور انھوں نے لبنان کے ساحلی علاقوں میں قافلوں کی محفوظ آمد کو بھی یقینی بنا لیا تھا۔یہ تمام تصاویر اور حوثیوں کی سعودی عرب کی جانب ایرانی راکٹ داغنے کی تصاویر ایران کے اندرونی منظر پر چھائی مایوسی کے خاتمے کے لیے کافی نہیں تھیں ۔

مصائب و مشکلات سے نڈھال

ایرانی یا کم سے کم ان میں کی اکثریت روز مرہ زندگی کی مشکلات اور مصائب کو جھیلتے ہوئے تھک چکی ہے۔ انھیں شہری خدمات دستیاب نہیں ہیں ، انھیں افراطِ زر کی بلند شرح ، بے روزگاری اور معدوم ہوتے وسائل ایسے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ وسائل قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں کے درمیان تنازعات کی نذر ہورہے ہیں۔وہ سپریم لیڈر کے چغے میں پنپنے والی جمہوریت سے بھی نالاں ہیں۔

ان سے جولائی 2015ء میں جوہری معاہدے پر دست خط کرتے وقت جن ثمرات کے وعدے کیے گئے تھے، وہ بھی حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر اس معاہدے کے اسقام کو سامنے لے آئے ہیں اور وہ اس معاملے میں یورپیوں کو بھی کھری کھری سنا رہے ہیں ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ایران سے جس سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا تھا،وہ اب نہیں ہوگی۔

ایرانی گذشتہ چند روز سے جو نعرے لگا رہے ہیں ،یا ان میں سے بعض لوگ جو نعرے بازی کر رہے ہیں، وہ ایران کی خطے کے تنازعات میں مداخلت کی مخالفت کی بھی عکاس ہے۔ وہ برملا انداز میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی رقوم ایران کے لیے لڑنے والی ملیشیاؤں پر صرف کی جارہی ہے۔

ایک عام ایرانی اب اس بات سے آگاہ ہوچکا ہے کہ اس کے ملک کے حکام خطے کے لوگوں کی اکثریت کے ساتھ تنازع میں الجھے ہوئے ہیں اور ان کی مداخلت سے ناختم ہونے والی جنگوں کی راہ ہموار ہورہی ہے۔اس پر مستزاد ایران کا عالمی برادری کے برعکس موقف ہے اور وہ اس کے تحفظات کو دور کرنے کو تیار نہیں ہے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ احتجاجی مظاہرے کیا رُخ اختیار کریں گے۔اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ایرانی رجیم 2009ء میں سبز تحریک کو دبانے کی طرح ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے بھی طاقت کا بے دریغ ا ستعمال کرے گا۔یہ بات بھی یقینی ہے کہ مظاہرے بہت واضح عوامی پیغامات ہیں کہ غیرملکی’’ مہمیں‘‘ داخلی مایوسیوں کی پردہ پوشی نہیں کرسکتی ہیں اور ’’ راکٹوں کی مضبوطی ہمیں مطمئن نہیں کرسکتی ہے‘‘۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند