تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا ایرانی نظام کا دھڑن تختہ خطے میں ہمارے مفاد میں ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 شوال 1439هـ - 24 جون 2018م
آخری اشاعت: منگل 14 ربیع الثانی 1439هـ - 2 جنوری 2018م KSA 18:44 - GMT 15:44
کیا ایرانی نظام کا دھڑن تختہ خطے میں ہمارے مفاد میں ہے؟

پہلی بات تو یہ کہ اس تجزیے کو اس امر کی ضمانت نہ سمجھا جائے کہ ایرانی نظام ( رجیم) حصے بخروں میں بٹنے جا رہا ہے یا اس کا دھڑن تختہ ناگزیر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تہران میں رجیم کے پاس ایک طاقتور ڈھانچا اور ادارے موجود ہیں۔یہ بااختیار عنصر کا نمایندہ ہے اور اس کو مظاہروں کے ذریعے بآسانی ہٹایا نہیں جاسکتا۔البتہ اس عوامی تحریک کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے بعد میں تمام یا جزوی تبدیلی کی راہ ہموار ہوگی۔ ان مظاہروں نے 2009ء کی عوامی تحریک کی طرح ہمیں حیرت میں ضرور مبتلا کر دیا ہے۔

اس تحریک کے ہمارے خطے کے لیے مضمرات کے حوالے سے گفتگو سے قبل ہم اس کے ایرانی رجیم پر اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔نیز اس کے ہم پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے نتائج کے اعتبار سے مختلف امکانات ہوسکتے ہیں۔ اول،سکیورٹی فورسز ان مظاہروں کو دبا دیں گی جیسا کہ انھوں نے آٹھ سال قبل کیا تھا اور انھوں نے موبائل فون کے کیمروں کے سامنے غیر مسلح مظاہرین کو ہلاک کرنے میں بھی کسی پس وپیش کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔

دوسرا امکان یہ ہوسکتا ہے کہ ایرانی رجیم کچھ قربانیاں دے گا۔مثلاً صدر حسن روحانی اور ان کی حکومت کو بحران پر قابو پانے کے لیے برطرف کیا جا سکتا ہے۔

تیسرا امکان یہ ہے کہ مظاہروں میں شدت آئے گی۔ان کے شرکاء کی تعداد میں اضافہ ہوگا، تشدد پھیلے گا اور رجیم کے اندر سے ہی حزب اختلاف کی شخصیات برآمد ہوں گی۔ دو باہم مخالف قوتیں۔۔۔ پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج۔۔۔ بھی اس صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

چوتھا امکان یہ ہے اور اس کا ویسے وقوع پذیر ہونے کا کم امکان ہے کہ ایرانی نظام کا دھڑن تختہ ہوجائے گا اور ایران میں بھی شام اور لیبیا ایسی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔

نظام کی مخالفت

جو بھی منظر نامہ بنتا ہے،اس سے قطع نظر مظاہرین تہران میں رجیم کو چیلنج کررہے ہیں ۔ ایرانیوں کی اکثریت اور دنیا کی نظروں میں ان کا اعتماد غیر متزلزل نظر آیا ہے۔اگر آیند ہ چند روز میں مظاہرے ختم بھی ہوجاتے ہیں تو تب بھی نظام مخالف تحریک کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔صدر حسن روحانی کی تقریر بھی اس آئیڈیا کی تائید کررہی تھی کہ حکومت کو شہریوں کی آواز پر کان دھرنے چاہییں۔

جہاں تک تیسرے اور چوتھے امکان کا تعلق ہے کہ ایک گروپ رجیم کا کنٹرول سنبھال لے یا اس کا دھڑن تختہ ہوجائے تو یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے ہی کے لیے خطرناک ہوگا۔

خطے کے ممالک اور بالخصوص عرب ممالک کے لیے آئیڈیل منظر نامہ یہ ہوگا کہ ایرانی رجیم کا دھڑن تختہ نہ ہو ،بلکہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرے اور اپنی جارحانہ حکمت عملی سے باز آجائے۔یہ منظرنامہ شاید حیران کن نظر آئے لیکن اس کا جواز یہ ہے کہ خطہ اس وقت تباہی سے دوچار ہے۔ وہ کسی نئی طوائف الملوکی اور نئی خانہ جنگیوں کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ لاکھوں نئے مہاجرین کا بوجھ سہار سکتا ہے ۔

لیکن اگر ایرانی عوام کی مزاحمتی تحریک ایرانی پالیسی میں تبدیلی کا موجب بن جاتی ہے،ایران اپنے غیرملکی آپریشنوں کو روک دیتا ہے،رجیم داخلی اصلاحات اور ترقی کے عمل کے آغاز پر مجبور ہوجاتا ہے تو یہ رجیم کے دھڑن تختے کے خوف ناک منظرنامے کے مقابلے میں کہیں ایک درست انتخاب ہوگا۔

تاہم اس مفروضے میں ایک معاملہ یہ ہے کہ ایرانی رجیم اپنی نوعیت کے اعتبار سے سول (شہری) نہیں ہے جو خود ہی اپنے اندر تبدیلی کی صلاحیت کا حامل ہو بلکہ اس کے بجائے یہ مذہبی ،سکیورٹی ہے اور بہ الفاظ دیگر یہ فاشسٹ اور مذہبی ہے۔اس کی سوچ وفکر اور ارد گرد کی دنیا کو دیکھنے کے عمل میں اصلاح بہت مشکل ہے۔

اب یہ سب ایران کے سینیر لیڈروں پر منحصر ہے کہ وہ رجیم کے لیے خطرناک ہوتی صورت حال کے پیش نظر مسلسل اجلاس منعقد کریں۔ اگر وہ اس بحران سے بچ نکلے اور اس سے انھوں نے سبق سیکھا تو رجیم شاید اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائے لیکن اگر انھوں نے مزاحمت کی اور مظاہرین سے گولیوں سے نمٹنے کی کوشش کی تو اس کے بعد مستقبل میں نظام مخالف مزاحمتی تحریک کو برپا ہونے سے روکا نہیں جاسکے گا۔

پاسداران انقلاب کے لیڈر اور سینیر مذہبی قائدین تکبر کا شکار اور نخوت زدہ ہیں ۔وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایرانی جمہوریہ کو ایک ایسی علاقائی سلطنت میں تبدیل کرسکتے ہیں جو خطے کے ممالک پر قبضہ کرسکے۔ وہ یہ بھی یقین کیے بیٹھے ہیں کہ وہ بین الاقوامی طاقتوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ان کے مفادات کے لیے خطرے کا موجب ہوسکتے ہیں ۔ وہ سعودی عرب کا محاصرہ کرنا چاہتے ہیں ، اسرائیل کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور بیک وقت متعدد جنگیں لڑرہے ہیں۔

رعونت وتکبر کا شکار لوگ اسی انداز میں سوچتے ہیں۔وہ ایک ایسے ملک میں ایرانی طاقت کی تحدیدات کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں جس کے عوام مصائب جھیل رہے ہیں اور جس کی معیشت خطے کی غریب تر معیشتوں میں سے ایک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند