تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عرب دنیا میں نرم ریت اور طوفانی آندھیاں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 صفر 1440هـ - 21 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: جمعہ 17 ربیع الثانی 1439هـ - 5 جنوری 2018م KSA 23:03 - GMT 20:03
عرب دنیا میں نرم ریت اور طوفانی آندھیاں

سال 2017ء کے دوران میں عرب دنیا میں جاری تبدیلی کی تحریک کے حوالے سے اہم پیش رفتیں رونما ہوئی ہیں۔ان میں بعض سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ فوجی محاذ آرائی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی واقع ہوگی ۔مثلاً عراق ، شام اور لیبیا میں ایسا ہو سکتا ہے جبکہ دوسرے مقامات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہاں تشدد کا سلسلہ جاری رہے گا۔مثلاً یمن اور مصر کے علاقے سیناء میں دہشت گردی کے حملے جاری رہیں گے۔

دوسری جانب تنازعات کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں تیزی لائی گئی ہے لیکن یہ کوششیں ابھی ادھوری ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ 2018ء میں ان کی کوئی شکل و صورت نکل آئے گی۔

زرخیز ہلالی خطے ، جزیرہ نما عرب کے جنوبی علاقے اور شمالی افریقا کے عرب ممالک میں کشیدہ صورت حال پر بھی اس کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔مذکورہ صورت حال کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عرب دنیا غیر مستحکم ہے اور اس کے ہمسائے میں واقع ہارن آف افریقا اور ساحل کا علاقہ بھی غیر مستحکم ہے۔

جہاں تک ترکی ، ایران اور اسرائیل کا تعلق ہے تو وہ مشرقِ وسطیٰ کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی صلے یا ثمر سے مستفید ہونے کے منتظر ہوتے ہیں۔ان کی انتظامیہ بہت چالاک ہے ، یہ ممالک مضبوط داؤ پیچ کے حامل ہیں اور وہ طاقت کے اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں سے وہ تزویراتی ویژن اور مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔یہ ایسے اثاثے ہیں جو خطے کے دوسرے ممالک کو جزوی طور پر میسر ہیں یا وہ ان سے مکمل طور پر نابلد ہیں۔

یہ ہمارے خطے کی صورت حال کا ایک مختصر تعارف ہے۔ایسے وقت میں جب ہم نے گذشتہ سال کو رخصت کیا ہے اور نئے سال کا استقبال کررہے ہیں،یہ خیر مقدم عرب معاشروں کی حقیقی اور جامع اصلاحات کے ذریعے تعمیر نو کی ضرورت کو تسلیم کیے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ یہ اصلاحات تعلیم ، معیشت ، انصاف اور انتظامیہ کے شعبوں میں ہونی چاہییں ۔آئین ،قانون اور جمہوریت کی حکمرانی ہونی چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔اصلاحات کے عمل کا ابھی تک حقیقی آغاز ہی نہیں ہوا ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو یہ تبدیلی کی لہر کے لیے ایک دھچکا ہوتا یا کم سے کم اس کو سست رفتار ضرور کردیتا۔

اس نے عربوں کے تزویراتی مؤقف کو ایسے وقت میں کمزور کیا ہے جب علاقائی توازن کو اس نقطہ نظر سے پرکھا جارہا ہے کہ کون شراکت دار ہوسکتا ہے اور کون بکھرا ہوا ہے یا کون عدم استحکام کا شکار ہے۔یہ صورت حال عرب شہریوں سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ حکومتوں سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ محتاط روی اختیار کریں۔ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ ایک نئی حقیقت کی جانب گامزن ہے اور ایک نئے علاقائی نظام کی تلاش کی جارہی ہے جس کو نا چاہتے ہوئے بھی وضع کیا جائے گا۔اس مرحلے پر ایک دیانت دارانہ تجویز پیش کی جانی چاہیے۔

ماضی کی غلطیاں

یہاں عرب حکومتوں یا عرب حکمرانوں سے ایک سوال ہے اور وہ یہ کہ کیا آپ ماضی کی غلطیاں درست کرنا چاہتے ہیں یا آپ کیا ایک نیا عرب نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں جو عرب یک جہتی کے جدید ویژن پر مبنی ہو ۔اس کے لیے اکیسویں صدی کے عوامل کو ملحوظ رکھا جائے اور بالخصوص ہمارے معاشروں اور نوجوانوں کی امنگوں کو پیش نظر رکھا جائے۔

ان کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جانے چاہییں کیونکہ یہ صدی ان لوگوں کو مسترد کردے گی جو ایک خاص منجمد ذہنیت سے جڑے رہیں گے یا جو یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ جو کچھ بیسویں صدی میں ہوا تھا،اس کا اب بھی اعادہ کیا جاسکتا ہے۔

یا آپ کیا اجتماعی عرب زندگی کے خاتمے کا عزم رکھتے ہو اور پھر ہر کوئی آپ کے طورطریقے کے مطابق آپ کے مفادات اور تحفظ کے حصول کے لیے چلے۔خواہ یہ عارضی اور مصنوعی ہی کیوں نہ ہو۔اس نکتے پر یہاں مجھے کچھ باتیں کہنے دیجیے:

اوّل: جو کوئی بھی بڑی طاقتوں کا تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا،اس کی حقیقت آشکارا ہوجائے گی کیونکہ یہ معاملہ ایک ملک یا اس کے مفادات کے تحفظ کا کبھی نہیں رہا ہے بلکہ زیادہ طاقت ور اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں اور جب یہ پورے ہوجاتے ہیں تو پھر کمزور کھلاڑی کو عضو معطل سمجھ کر ایک طرف کردیا جاتا ہے۔( ہم یہ سب دیکھ چکے ہیں کہ شاہِ ایران کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا تھا اور عرب بہار کے دوران جن شخصیات کی حکومتوں کے تختے الٹے گئے ، وہ سب بھی یہ سوچ رکھتے تھے کہ وہ’’ تحفظ زدہ‘‘ ہیں)

دوم : جو کوئی بھی یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایک منصوبے یا پالیسی کے تحت ایران کے خلاف استعمال کرسکتا ہے تو (جلد یا بدیر) اس پر یہ منکشف ہوگا کہ اسرائیل اس کو استعمال کررہا ہے اور ایران اور اسرائیل کسی بھی وقت ایک ایسی مفاہمت تک پہنچ سکتے ہیں جو عرب مؤقف اور ان کے مفادات کے بالکل منافی ہوگی۔ سیاسی کھیل اور ان کی پیچیدگیوں سے آشنا لوگوں کے نزدیک ایسی صورت حال کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات بڑے واضح ہیں۔

سوم: جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ امریکا کے پاس علاقائی کھیل کے تمام پتّے ہیں یا کم سے کم 99 فی صد پتّے اس کے پاس ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔اب صورت حال بیسویں صدی ایسی نہیں رہی ہے۔ یہ پتّے تقسیم ہوچکے ہیں اور ان میں سے بہت سے ضبط بھی کر لیے گئے ہیں۔عرب دنیا کو ان میں سے بعض حاصل کرلینے چاہییں۔ایسا کیسے ممکن ہے؟علم سیاسیات میں یہ طریقہ جانا پہچانا ہے اور بعض شرائط کو پورا کرکے بھی ایسا کیا جاسکتا ہے۔

چہارم : فلسطینی نصب العین (کاز) سے دستبرداری اور یہ دعویٰ کہ ہمیں اس سے زیادہ اہم مسائل درپیش ہیں، ایک سنگین تزویراتی غلطی ہوگی۔اس کاز سے جڑے رہنے سے عربوں کے لے اہم سیاسی فضا سازگار ہوسکتی ہے۔ اس سے فلسطینیوں کے لیے ایک پُرامن فریم ورک کے تحت منصفانہ علاقائی بندوبست تک پہنچا جاسکتا ہے اور یہ نئے علاقائی نظام کے بھی عین مطابق ہوگا۔اس سلسلے میں ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس ( یروشلیم ) کے بارے میں فیصلے کے مابعد کی صورت حال پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

پنجم: جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو خطے میں اس ملک کی ایک طویل تاریخ ہے۔یہاں عرب آبادی اور ملکوں کے اعتبار سے اکثریت میں ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب ، ایرانی منظرنامے میں نئے اور پرانے تنازعات موجود ہیں۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ عرب بالعموم انقلاب کی برآمد کو مسترد کرتے ہیں اور عربوں کی اکثریت ایک شہری ریاست کے احیاء کی حامی ہے جہاں آئین اور قانون کی عمل داری ہو۔اس کے سوا وہ کچھ نہیں چاہتے۔

’’فتح ‘‘ کا اعلامیہ

ایران کے سینیر عہدے دار بڑے فخریہ انداز میں اپنی فتح کے اعلان کررہے ہیں اور وہ یہ باور کرارہے ہیں کہ تہران نے چار عرب دارالحکومتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن اس اعلان کو عرب دنیا میں بڑے منفی انداز میں لیا گیا ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ ایران کے خطے میں بالادستی قائم کرنے کے لیے دھمکیوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی مذاکرات کی پیش کش کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اس کو امن کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔اس بات کے تعیّن کے لیے موقع دیا جانا چاہیے کہ آیا ان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش ایرانی پالیسی میں کسی تبدیلی کی بھی عکاسی کرتی ہے یا پھر یہ صرف ایک سیاسی جھانسا ہے۔

ایران کے ساتھ تعلقات کو ایک عرب زاویے سے دیکھاجانا چاہیے اور اس کی طرف ماضی ،حال اور مستقبل میں تعلق داری کے پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر ہاتھ بڑھایا جانا چاہیے۔اگر ہم کسی متحدہ عرب موقف تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ اس علاقائی قوت یا علاقائی ملک کے ساتھ اتحاد سے بڑا سیاسی ہتھیار ہوگا کیونکہ ایسا کوئی اتحاد نہ عربوں کے بارے میں نیک ارادوں کا حامل ہوگا اور نہ وہ دیانت داری سے عربوں کے مفادات کا خیال رکھے گا۔

ششم : جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں اس کو عرب دنیا پر جو قوت واختیار حاصل تھا، وہ اب ان میں سے بعض کو دوبارہ بحال کرنے کا متمنی ہے اور اکیسویں صدی کی حکمت عملی کے ذریعے اس کی یہ خواہش ظہور پذیر ہے۔اس ضمن میں ترکی اپنے مفادات کے حصول کا خواہاں ہوگا۔یہ ضروری نہیں کہ یہ مفادات عربوں کے مفادات سے بھی ہم آہنگ ہوں۔ وہ مضبوط ترک فوج ، اقتصادی اور سیاسی موجودگی اور بعض علاقائی ملکوں اور حکومتو ں کی تشکیل نو کے لیے جہاں تک ممکن ہو ،ایک موثر کردار ادا کرے گا اور اس طرح اپنے مفادات کے حصول کی کوشش کرے گا۔

اس سلسلے میں ترکی اپنے اتحاد تشکیل دے رہا ہے اور وہ اپنے فوجی اڈوں کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کررہا ہے۔ہم نے اس کی کئی ایک مثالیں دیکھی ہیں۔اس کا قطر میں ایک فوجی اڈا ہے یعنی خلیج میں۔سوڈان کے جزیرے سواکن میں وہ ایک بالادست قوت کے طور پر موجود ہے۔یوں وہ بحیرہ احمر میں بھی موجود ہے۔

ترکی کا شام اور عراق میں کرد علاقوں کے بارے میں ایک مضبوط تزویراتی اور سیاسی مؤقف ہے۔اسی طرح علاقائی اور بین الاقوامی انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں بھی اس کا ایک مؤقف ہے۔اس کا آغاز الاخوان المسلمون سے ہوتا ہے اور یہ سب تعلق داری ایران کے ساتھ رابطے اور اس کی علاقائی پالیسی سے مربوط ہے۔مزید برآں ترکی روس کے ساتھ ایک مثبت پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امریکا اور اس کے مختلف مغربی اتحادیوں کے ساتھ بھی خصوصی تعلقات ہیں ۔

مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر ترکی نے بہت ہی خصوصی تزویراتی حیثیت حاصل کر لی ہے۔اس کو اس کی مضبوط معیشت اور کامیاب انتظامیہ سے بھی مہمیز ملی ہے۔یہ اور بات ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن کی حالیہ پالیسیوں سے کئی ایک سوالات نے جنم لیا ہے۔

درحقیقت ہمیں ترکی کی خواہشات اور بالخصوص الاخوان المسلمون سے اتحاد اور عثمانیہ یا مذہبی شناخت کے حامل علاقائی نظام کے قیام کے لیے کوششوں کے بارے میں چوکنا رہنا ہوگا۔ہمیں بطو ر عرب مصر سے خلیج تک ترکی کے ان اقدامات پر نظر رکھنی چاہیے جنھوں نے اس کو خلیج اور زرخیز ہلالی خطے میں ایک مؤثر قوت بنا دیا ہے۔

ہفتم :اسرائیل کے ساتھ ہمارے مسائل کا تعلق ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام سے ہے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔وہ عرب سرزمین پر قبضہ ختم کرے ۔دریائے نیل سے فرات تک توسیع پسندانہ عزائم سے باز آجائے۔ حقیقت یہ ہےکہ 2002ء کا عرب امن اقدام ہی امن تک پہنچنے ، دشمنی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کی راہ ہموار کرنے کی کلید ہوسکتا ہے۔

اس مرحلے پر ہمیں عرب ہونے کے ناتے سے اسرائیل کے تنازع کے دو ریاستی حل کی راہ میں حائل ہونے کے خلاف ایک واضح اور دوٹوک موقف کا اعلان کرنا چاہیے۔ہمیں دو امکانات پر مبنی ایک امن ایجنڈا تجویز کرنا چاہیے۔یعنی یا یہ کریں یا وہ کریں۔اس کا ایک نظام الاوقات ہونا چاہیے اور شفاف بین الاقوامی اتھارٹی کے تحت یہ پایہ تکمیل کو پہنچے۔اس سے میری مراد یہ ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے یا اسرائیلی اور فلسطینی مل کر ایک ریاست پر اتفاق کریں اور اسرائیل ان میں سے کسی ایک حل کا انتخاب کرے۔

اسرائیلیوں اور امریکیوں نے فلسطینی ریاست کے آپشن کو عربوں کے لیے ایک ایسا سراب بنا دیا ہے کہ وہ اس کا تعاقب کرتے چلے جا رہے ہیں جبکہ اسرائیل فلسطینی سرزمین کو اپنی کالونی میں تبدیل کررہا ہے اور یہودی رنگ میں رنگ رہا ہے۔ فلسطینی ریاست کے آپشن کے علاوہ یک ریاستی آپشن بھی مذاکراتی میز کے ایجنڈے میں شامل ہونا چاہیے۔ہم فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوئی ربع صدی تک بے سود مذاکرات کرتے رہے ہیں۔مذاکرات ایک نظام الاوقات کے تحت ہونے چاہییں۔یہ مذاکرات جب ختم ہوں ،فلسطینی ریاست کے قیام پر بات چیت ختم ہوجائے تو پھر ایک صہیونی ریاست پر بات چیت ہوگی۔اس کے بعد ہی ہم تمام اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیےایک واحد ریاست کے قیام کے بارے میں سنجیدہ بات چیت کا آغاز کرسکتے ہیں۔

جی ہاں ! یہ سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر یک ریاستی حل کے آپشن کو تجویز کرنے کا وقت ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ اسرائیل امن کے تمام منصفانہ آپشنز کو مسترد کر چکا ہے۔

ہشتم : ایتھوپیا۔اس کو ہارن آف افریقا کا ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔اس خطے میں تین اور عرب ممالک سوڈان ، صومالیہ اور جیبوتی شامل ہیں۔ایتھوپیا کے مصر کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات استوار ہیں۔اس کی عکاسی نشاۃ ثانیہ ڈیم کے منصوبے سے بھی ہوتی ہے اور اس سے مصر کے دریائے نیل کے پانی کے حصے کے لیے بھی خطرہ پیدا ہوچکاہے۔

عرب اور اسلامی خاندان

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایتھوپیا اس عرب اور اسلامی خاندان کا حصہ ہے جو ایشیا اور افریقا کے براعظموں تک پھیلا ہوا ہے۔اس لیے ادیس ابابا کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے عمومی مفادات کو ملحوظ رکھاجانا چاہیے ۔اس کا آغاز دریائے نیل پر ڈیم سے کیا جانا چاہیے اور اس تنازع کو ایک نئے علاقائی فریم ورک کے تحت ایک بڑے ترقیاتی اور سرمایہ کاری کے عمل کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔

مذکورہ بالا بیان کردہ حقائق 2017ء کا خلاصہ ہی نہیں بلکہ یہ نئے سال کی تیاری کا بھی مظہر ہیں۔ یہ خطے میں تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کا ایک مختصر جائزہ ہے۔علاقائی صورت حال نرم ریت پر کھڑ ی ہے اور تیز آندھیاں اس ریت کو اڑا رہی ہیں۔ یہ خطہ شیطانوں سے بھرا پڑا ہے اور وہ خوف ناک منظر کشی کررہے ہیں۔

تاہم کچھ امید کی کرنیں بھی ہیں اور انھیں عرب ضمیر اور ذمے دار لیڈروں کے ذریعے مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ان عرب لیڈروں کو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے مستقبل کے ایک واضح ویژن کے ذریعے اپنی ذمے داریوں کا ادراک کرنا چاہیے۔تجربہ کار عرب قائدین اس ویژن کو عرب اور علاقائی سکیورٹی نظام کی ایک تجویز کے تحت وضع کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اس ضمن میں بہتر یہ ہوگا کہ 2010ء میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں عرب ہمسایوں کی لیگ کے قیام سے متعلق پیش کردہ تجویز کا از سر نو جائزہ لیا جائے یا پھر مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی اور تعاون کے نظام کے قیام کے امکان کا جائزہ لیا جائے۔

مگر ان تجاویز کے اپنے تقاضے اور شرائط ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے مناسب عر اور علاقائی عوامل درکار ہیں۔اس کا آغاز ایران سے ہوتا ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں اور اقدامات پر نظرثانی کرے۔ترکی سلطنت عثمانیہ کی عظمت رفتہ دوبارہ پانے کے ارادوں سے باز آجائے اور اسرائیل فلسطینی حقوق کو مسترد کرنے کا سلسلہ منجمد کر دے۔کیا ہم بطور عرب موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
____________________________
سرد وگرم چشیدہ عمرو موسیٰ عرب لیگ کے سابق سیکریٹری جنرل اور مصر کے سابق وزیر خارجہ ہیں۔ان کا شمار عرب دنیا کے منجھے ہوئے سیاست دانوں اور سفارت کاروں میں ہوتا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند