تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام میں دوبارہ لڑائی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 شوال 1439هـ - 24 جون 2018م
آخری اشاعت: اتوار 26 ربیع الثانی 1439هـ - 14 جنوری 2018م KSA 18:47 - GMT 15:47
شام میں دوبارہ لڑائی

شام میں جنگ ختم تو نہیں ہوئی لیکن لڑائی ضرور کم ہو کر رہ گئی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے انتظامات جاری ہیں۔بحران کے پُرامن حل کے لیے وعدے امید پکڑ رہے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ بہت سی حکومتوں نے اپنے اپنے سفیروں کو واپس دمشق بھیج دیا ہے اور حزبِ اختلاف کو مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔

اب تک اس جنگ کے فاتح فریق اسد حکومت ، ایران اور شام ہیں۔انھوں نے رعونت آمیز رویے کا اظہار کرتے ہوئے جنیوا کانفرنس کو نظر انداز کردیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ روس کے شہر سوچی میں ہونے والے مذاکرات ہی سے ان کی خواہشات کے مطابق شام کی قسمت کا حتمی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ایران نے شام میں اپنی فوجی موجودگی اور حزب اللہ کو ہتھیاروں سے لیس کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ صورت حال کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کوشاں ہے اور مابعد جنگ وہ اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔

اگر اس طرح کا کردار جاری رکھا جاتا ہے تو متحارب فریق ایک مرتبہ پھر جنگ میں کود پڑیں گے۔اس وقت ادلب ، حلب کے جنوبی محاذ ، دمشق کے نواحی علاقوں اور دیر الزور میں دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں لڑائی جاری ہے۔اللاذقیہ میں واقع حمیمیم کے فوجی اڈے پر پُراسرار تباہ کن حملے بھی کیے گئے ہیں اور ان میں روسی فوجیوں اور طیاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو برائے مشرقِ قریب امور کے قائم مقام معاون سیکریٹری ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا ہے کہ امریکی حکومت شام میں ایران کی موجودگی کی مخالف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تزویراتی معاملہ ہے۔
یہ ایک برجستہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے اور خطرناک بھی ہے۔یہ خود ہی حال ہی میں ہونے والی پیش رفتوں کے بارے میں بہت کچھ بیان کررہا ہے، بہ شمول سوچی کانفرنس جس میں کوئی بھی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔نیز لڑائی کا دوبارہ چھڑ جانا ، اقوام متحدہ کے وفد کی شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کی حمایت سے پسپائی اور اسرائیل کا دمشق کے نزدیک ایران کی فوجی چوکیوں پر فضائی حملہ بھی تازہ صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔

فارمولے کی تبدیلی

اگر امریکا حقیقی معنوں میں ایران اور حزب اللہ کی شام میں موجودگی کو مسترد کرتا ہے اور یہ یقین کر لیتا ہے کہ یہ اصول اس کی شام کے بارے میں پالیسی کا ستون ہے تو پھر وہ فارمولے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے اور وہ اس سب کو تہس نہس کر سکتا ہے جو شامی رجیم نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے حاصل کیا ہے۔

ترکی کی اب چونکہ امریکا سے کوئی ہم آہنگی برقرار نہیں رہی ہے،اس لیے بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ امریکیوں نے شام کے ارد گرد ایک اہم محاذ کو کھو دیا ہے اور وہ جنگ کا کوئی کردار بھی نہیں رہا ہے۔ جزوی طور پر یہ بات درست ہے۔تاہم امریکیوں کے ابھی کافی اتحادی موجود ہیں اور وہ ایرانیوں کو شام سے نکال باہر کرنے کے لیے اپنی شرائط منوا سکتے ہیں یا وہ کم سے کم ان کے اس جنگ زدہ ملک میں فوجی بندوبست کے منصوبے کو تباہ کرسکتے ہیں۔

ان میں امریکا کے اتحادی اسرائیل اور شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف ) ہیں۔عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل ایس ڈی ایف میں جیش الحر کے بعض دستوں نے بھی دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں لڑائی میں حصہ لینے کے لیے شمولیت اختیار کرلی ہے۔اردن کی سرحد کے نزدیک بھی شامی حزب ِ اختلاف موجود ہے۔جب تک پاسداران انقلاب ایران اور ان کے تحت غیر ملکی ملیشیائیں شام میں موجود رہتی ہیں، اس وقت تک شام میں ہم جنگ کے ایک نئے مرحلے کو ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ یہ ایک دلدل کی طرح کا منظر ہوگا جس میں ایرانی فورسز وسط میں ہوں گی۔

مذاکرات کی ناکامی

جہاں تک روسیوں کا تعلق ہے تو سیٹر فیلڈ کے خیال میں انھیں جب اس بات کا ادراک ہوگا کہ یہ جنگ خطے میں ان کے طویل المدت مفادات کے حق میں نہیں تو وہ شام میں اپنی موجودگی پر نظرثانی کریں گے۔نیز ان کے اور ایرانیوں کے درمیان اتحاد کوئی زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں۔

شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں عدم دلچسپی کوئی حیران کن امر نہیں ہے کیونکہ یہ مذاکرات کشیدگی کے اہم عوامل کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور وہ ایرانی فورسز اور ان کی ملیشیاؤں کی شام میں موجودگی ہے۔شامی عوام کے نزدیک ان کی موجودگی دراصل ان کے قبضے کو تسلیم کیا جانا ہے اور اس کو دمشق کے کمزور رجیم کی قیمت پر جائز قرار دیا جارہا ہے۔

علاقائی ممالک کے نزدیک ایرانی موجودگی خطے میں طاقت کے توازن میں خطرناک تبدیلی کی مظہر ہے۔ایرانی ، شامی اور روسی تثلیت سوچی میں جلد سے جلد کوئی امن معاہدہ طے کرنا چاہتی ہے اور یہ ممالک علاقائی اور امریکی نرم روی اور فوجی پیش رفت سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔وہ ایسا کر سکتے تھے لیکن اب ان میں ایرانی عامل کو نظرانداز کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ امریکا کا خیال ہے کہ اس سے محاذ آرا ئی اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور یہ حکمت عملی چند ماہ قبل تک موجود نہیں تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند