تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مسئلہ فلسطین کیلئے سعودی عرب کی قربانیاں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 9 ذوالحجہ 1439هـ - 21 اگست 2018م
آخری اشاعت: ہفتہ 10 جمادی الاول 1439هـ - 27 جنوری 2018م KSA 10:05 - GMT 07:05
مسئلہ فلسطین کیلئے سعودی عرب کی قربانیاں

فلسطینی صدر محمود عباس نے حال ہی میں ایک بیان دیا جسے سعودی عرب کے خلاف ایک عرب ملک کی لن ترانیوں کا جواب سمجھا گیا۔ فلسطینی صدر نے مسئلہ فلسطین کیلئے سعودی عرب کی خدمات کا مفصل تذکرہ کرتے ہوئے کہا ”سعودی عرب نے ہر حال میں فلسطینیوں کی مدد کی، کبھی ادنیٰ فروگذاشت سے کام نہیں لیا۔ فلسطینیوں کے اندرونی امور میں کبھی مداخلت نہیں کی۔ سعودی عرب کا غیر متزلزل موقف ہے کہ مشرقی القدس فلسطین کا دارالحکومت ہے۔ شاہ سلمان نے مجھ سے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا تاوقتیکہ فلسطینی ریاست نہ قائم ہو جائے اور مشرقی القدس اس کا دارالحکومت نہ بن جائے۔ “

ایسا لگتا ہے کہ فلسطینی صدر نے یہ بیان سعودی عرب کے خلاف بعض عرب ممالک کے نفرت انگیز پروپیگنڈے کا قلع قمع کرنے کیلئے جاری کیا ہے۔ مملکت وہ ملک ہے جو گزشتہ صدی کے چوتھے عشرے میں ابھرنے والے مسئلہ فلسطین کے روز اول سے بین الاقوامی برادری اور علاقائی سطح پر تائید وحمایت کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب وہ ریاست ہے جو اپنی ہر حکمت عملی کو مسئلہ فلسطین کے حل سے جوڑے ہوئے ہے۔ اس حقیقت سے حقیقی فلسطینی قائدین بہت اچھی طرح سے واقف ہیں۔

سنہ 1965ء کے دوران فلسطینیوں، عربوں اور خارجی دنیا کے لوگوں کا عام احساس یہی تھا کہ الفتح تحریک کا عسکری بازو (العاصفہ) سعودی عرب کی سرپرستی میں قائم ہوا ہے۔ اس سے قطع نظر سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت نے ہمیشہ اس بات کا اہتمام کیا اور کرتی رہی کہ فلسطینیوں کو جہاں جو امداد درکار ہو گی پیش کی جائے گی تاہم سعودی عرب اور اس کی قیادت نے نہ تو فلسطینیوں کے اندرونی امور میں کبھی کوئی مداخلت کی اور نہ کرے گی۔

اس سال الفتح فلسطینی انقلاب کی شروعات سے قبل بھی سعودی عرب اسی پالیسی پر عمل پیرا تھا۔ اس حقیقت سے وہی شخص انکار کر سکتا ہے جس کے دل میں کسی طرح کا کوئی کھوٹ ہو۔ سعودی عرب، مسئلہ فلسطین کے روز اول سے اپنی فوج، اپنے مجاہدین اور دامے درمے قدمے، سخنے ہر لحاظ سے فلسطین کے ساتھ رہا ہے۔ یہ وہ روشن سچائی ہے جس سے فلسطینی اور اردنی سب سے زیادہ واقف ہیں۔ انصاف پسند مورخین نے اپنی کتابوں میں بیت المقدس کی فصیلوں پر سعودی بھائیوں کی قربانیوں کے روشن واقعات رقم کئے ہیں۔ سعودیوں نے 1948ء سے مقبوضہ اکثر فلسطینی شہروں اور غرب اردن کے شہروں میں قربانی کی شاندار تاریخ رقم کی۔ سعودی مجاہد برس ہا برس تک فلسطین میں قربانیاں پیش کرتے رہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام اسرائیلی عرب جنگیں فلسطین کی خاطر ہی ہوئیں۔ اس حوالے سے ایک اور سچائی کا تذکرہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ 1956ء کے دوران مصر پر اسرائیلی، برطانوی، فرانسیسی سہ ملکی جارحیت کے مقابلے کیلئے رضاکارانہ خدمات پیش کرنیوالوں میں اُس وقت شاہ سلمان بن عبدالعزیز پیش پیش تھے۔ مصری بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑے تھے۔ یہاں میں ایک ایسے واقعہ کا تذکرہ کر رہا ہوں جو پہلی بار ریکارڈ پر آ رہا ہے وہ یہ کہ شاہ سلمان کا بھانجا شہزادہ محمد بن فیصل بن ترکی 1982ءکے دوران بیروت کی ناکہ بندی کے موقع پر شہید فلسطین خلیل الوزیر ابو جہاد کے ہمراہ بیروت میں محصور تھا۔

بیروت کی ناکہ بندی 3 ماہ تک جاری تھی۔ اس موقع پر یاسر عرفات شاہ خالد اور انکے ولی عہد شاہ فہد رحمة اللہ علیہما سے مسلسل رابطے میں رہا کرتے تھے۔ میں اس سچائی کا عینی شاہد ہوں کہ یاسر عرفات ایک رات میں کئی کئی بار شاہ خالد اور ان کے ولی عہد سے رابطے کیا کرتے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر عربوں نے بیروت میں محصور فلسطینیوں کی کوئی قابل ذکر مدد نہیں کی۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ اس سچائی کا اعتراف کیا جائے کہ فلسطینی، عسکری، سیاسی اور معنوی استقلال کیلئے سعودی بھائیوں پر ہی انحصار کر رہے تھے۔ بیروت سے نکلنے کیلئے کئے جانے والے مذاکرات میں سعودی عرب کا کردار کلیدی تھا۔ میں نے یہ سب کچھ بہت قریب سے دیکھا اور حصار کی ہیبت ناک لمبی راتوں کا ایک ایک لمحہ فلسطینی قیادت کے ہمراہ گزارا۔

سعودی عرب شاہ عبد العزیز پھر شاہ سعود، شاہ فیصل ، شاہ فہد اور شاہ عبداللہ رحمة اللہ علیہم کے عہد اور اب شاہ سلمان کے زمانے میں مسئلہ فلسطین کی وکالت میں ہر علاقائی وبین الاقوامی محاذ پر پیش پیش رہا۔ شاہ فہد نے عرب سربراہ کانفرنس فاس اول اور دوم میں مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے فارمولا پیش کیا جس سے اوسلو معاہدوں کی داغ بیل پڑی اور جس کے بموجب اقوام متحدہ نے ناجائز قبضے کے تحت فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ سعودی عرب شروع سے لیکر آج تک مسئلہ فلسطین کا وکیل ہی نہیں بلکہ حامی و مددگار ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ 2007ءکے دوران الفتح اور حماس کے درمیان مکہ مکرمہ سمجھوتہ کرانے میں بھی سعودی عرب کا بھرپور تعاون تھا۔ اگر حماس ایران، قطر اور بشار الاسد کے کہنے پر اس سے ہاتھ نہ جھاڑتی تو فلسطین کی صورتحال وہ نہ ہوتی جو آج ہے اور جسے بنیاد بنا کر اسرائیلی اور امریکی امن عمل کو سرد خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند