افغان دارالحکومت کابل میں ہفتے کے روز ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری ایمبولینس گاڑی کو دھماکے سے اڑا یا ہے جس کے نتیجے میں 280 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔یہ طالبان کے دہشت گردی کے حالیہ حملوں میں سب سے تباہ کن حملہ تھا۔ان بڑے حملوں کے بعد افغانستان کی ارد گرد کے ممالک اور بالخصوص پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور علاقائی تنازعات شدید تر ہوں گے۔

یہ تنازعات اس قدر شدت اختیار کرچکے ہیں کہ امریکا نے اپنے دیرینہ اتحادی پاکستان کے خلاف پہلی مرتبہ سخت تعزیری اقدامات کا اعلان کردیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کو ن افغانستان اور دہشت گردی کو برعظیم پاک وہند میں عراق اور شام کی طرح استعمال کررہا ہے؟

یہ افواہیں اور میڈیا کے الزامات ہیں کہ طالبان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ کار فرما ہے لیکن کوئی بھی اس تعلق کو ثابت نہیں کرسکتا۔کم سے کم اکیڈیمک یا میڈیا کی سطح پر تو ہرگز بھی نہیں۔ افغانستان میں امریکا کے بھاری نقصانات اور تشدد کے پاکستان تک پھیل جانے سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوچکی ہے اور صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات ہی تلپٹ ہوچکے ہیں۔

امریکا گذشتہ چار عشروں سے زیادہ عرصے سے پاکستان کو اپنا تزویراتی اتحادی قراردیتا چلا آرہا ہے۔ بالخصوص سرد جنگ کے زمانے میں تو پاکستان امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک تھا۔ 1947ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکا ہی نے پاکستان کی سب سے زیادہ مالی امداد کی ہے۔

بظاہر یہ لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے اچھے دن تمام ہوچکے ہیں۔پاکستان کی داخلی سیاسی صورت حال میاں نواز شریف کے خلاف پرویز مشرف کی فوجی بغاوت اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے قابل رحم ہوچکی ہے۔یہ تمام پیش رفت افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات کے ساتھ ساتھ ہی ہوئی تھی ۔پاکستان افغانستان کے حالات پر اثرانداز ہوا تھا اور اس ملک کے حالات سے پاکستان بھی متاثر ہوا ہے۔

میں حقائق کی عدم موجودگی میں فوری طور پر کسی نتیجے تک پہنچنا نہیں چاہتا ہوں اور نہ ایران کو اس تمام کھیل میں ایک بڑا کھلاڑی ہونے کا الزام دینا چاہتا ہوں لیکن اس کے کافی شواہد موجود ہیں۔

ایران سکیورٹی اور پروپیگنڈا کے اعتبار سے ایک مضبوط کردار کے طور پر افغانستان میں موجود ہے۔وہ پاکستان کے اندر بھی ایک موثر اور مضبوط کردار کا حامل ہے۔ ایران کے طالبان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے ۔بعض کو یہ یقین ہے کہ یہ تعلقات بھی ایران کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی طرح ہیں۔القاعدہ کے اہم کمانڈر اس وقت بھی ایران ہی میں مقیم ہیں۔

یہ ایرا نیوں کے اس اعتراف پر مستزاد ہے کہ انھوں نے امریکا کی عراق پر چڑھائی کے وقت عراقی جہادی مزاحمت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔مزید برآں ایرانی پاسداران انقلاب اور شام میں دہشت گرد گروپوں کے درمیان بھی تعلقات استوار رہے ہیں۔

پاکستان عالمی برادری کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کررہا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف لڑرہا ہے۔طالبان داعش اور القاعدہ سے زیادہ متشدد اور خطرناک بنتے جارہے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان افغانستان کے بعد دہشت گرد گروپوں سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بھارت اس کے خلاف (مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں )علاحدگی پسند اسلامی گروپوں کی حمایت کے الزامات عاید کررہا ہے جس سے اس کی صورت حال اور بھی زیادہ مشکل ہوگئی ہے۔

ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ قطر کی طالبان کو قابو میں لانے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی کیونکہ دوحہ کا لبنان میں حزب اللہ ، غزہ میں حماس اور شام میں النصرۃ محاذ ایسے انتہا پسند گروپوں سے تعلقات کا بندوبست ہمیشہ عارضی سیاسی فوائد کے لیے ہوتا ہے اوروہ یہ فائدہ بھاری رقوم صرف کرکے حاصل کرتا ہے۔دوحہ نے مستقل سمجھوتوں یا ان تنظیموں کے طریق کار میں تبدیلی کے ذریعے کبھی صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

اس نے عجلت میں طالبان سے سلسلہ جنبانی شروع کردیا تھا ، جب اسے یہ معلوم ہوا تھا کہ امریکی ان کے ساتھ مذاکرات کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس نے دوحہ میں طالبان کے لیے ایک رابطہ دفتر کھول دیا تھا اور انھیں رقوم بھی مہیا کی تھیں تاکہ وہ طالبان اور واشنگٹن کے درمیان ایک مصالحت کار کا کردار ادا کرسکے۔

اس تمام کوشش کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قطر طالبان کے زیر حراست غیرملکولں کو رہا کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔قبل ازیں اس نے اسی طرح النصرۃ محاذ کے زیر حراست غیرملکیوں کو بازیاب کرایا تھا۔اس نے تاوان میں بھاری رقوم دے کر ان افراد کو اس طرح رہا کرایا ہے جیسے ان کارروائیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جارہی ہو۔یہ ایک معمول کی بات ہے کہ سیاسی مذاکرات بالآخر ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید بات ہے کہ طالبان ایک دہشت گرد گروپ ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان کے افغانستان میں قبائلی تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستان اب بھی اس صورت حال کے حل میں سب سے زیادہ اہل ملک ہے ۔ وہ فوجی طاقت یا سیاسی مذاکرات یا ان دونوں کو بروئے کار لا کر صورت حال میں بہتری لا سکتا ہے۔پاکستان کے لیے بھی یہ ایک واحد موقع ہے کہ وہ موجودہ بدتر صورت حال سے باہر نکلے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( عبدالرحمان الراشد ،العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں )

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے