بعض لوگ خصوصاً ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر فریفتہ یورپی اس وہم میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ خمینی کا نظام ان عوامی مظاہروں کے طوفان سے بچ گیا جس نے خمینی نظام کے متوالوں اور عراق، شام ، لبنان اور یمن میں اس کے پیرو کاروں کو سراسیمہ کردیا تھا۔

دراصل خمینی کے نظام کے ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی خرابی پائی جاتی ہے۔ خمینی نظام کا عوام الناس سے کوئی رابطہ نہیں۔ عوام میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ مظاہروں میں نہ سعودیوں کی کسی سازش کا عمل دخل ہے اور نہ ہی امریکیوں کا کوئی ہاتھ ہے۔ ایرانی میڈیا اس حوالے سے ناحق مظاہروں کا الزام سعودیوں اور امریکیوں کے سر دھر رہا ہے۔ مظاہروں کے ذمہ دار بنیادی طور پر ایرانی عہدیدار ہیں۔ یہ دعویٰ میرا نہیں بلکہ یہ ایرانی صدر حسن روحانی کا فرمودہ ہے۔ انہوں نے مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کی اس گنگناہٹ کے جواب میں یہ بات اس خدشے سے کہی تھی کہ کہیں پاسداران انقلاب غصیلے نوجوانوں کی بیخ کنی نہ کرنے لگیں۔

حسن روحانی تنہا نہیں جو مظاہروں کا ذمہ دار ایرانی عہدیداروں کو ٹھہرا رہے ہوں۔ یہ بات تو خمینی انقلاب کا آتش فشاں بھڑکانے والوں اور خمینی نظام کے خدمت گاروں نے بھی کہی ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے 2009ء کے دوران سبز انقلاب تحریک کی قیادت کی تھی۔ موسوی اور کروبی وغیرہ یہ باتیں کہہ چکے ہیں حالانکہ وہ خمینی نظام کے فرزند مانے جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ انقلاب خود خمینی نظام کے فرزندوں نے برپا کیا تھا مگر باراک اوباما کی سیاسی عیاری کے باعث پاسداران انقلاب کی بیخ کنی کے بھنور میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اوباما نے ایرانی عہدیداروں کے ساتھ سودے بازی کو پکا کرنے کیلئے خمینی نظام کے متولیوں کو رشوت دینے کیلئے انقلابیوں کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر اور سبز انقلاب تحریک کے رہنما مہدی کروبی نے جو 7 برس سے نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں مرشد اعلیٰ کے نام واضح الفاظ میں یہ پیغام دیا ہے کہ ان دنوں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بوئی ہوئی فصل کی کاشت ہے۔ یہ پیغام اعتماد ملی پارٹی کے ماتحت ”سحام نیوز“ ویب سائٹ نے جاری کیا ہے۔

کروبی نے خامنہ ای کے خلاف سخت لب ولہجہ استعمال کیا ہے اور انہیں ایرانی سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ ایرانی نظام کا دھڑن تختہ رومانیہ کے چاﺅ شسکوکی طرح ہو گا لیکن یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ رفتہ رفتہ اس نظام کا سقوط یقینی ہے خواہ مرشد اعلیٰ پر کتنا بھی تکیہ کیوںنہ کر لیا جائے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے