ایران میں اس وقت جو کچھ ہور ہا ہے، وہ عوامی مظاہروں کی لہر یا خمینی رجیم کے مختلف کل پرزوں کے درمیان اختلافات سے کہیں ماورا ہے یا پھر یہ شکروں اور فاختاؤں کے درمیان ایک کھیل ہے۔ایران میں جو کچھ ہورہا ہے، یہ دراصل آیت اللہ روح اللہ خمینی کے 1979ء میں قائم کردہ نظام کو قابل احتساب گرداننے کے لیے ہورہا ہے۔

جمہوریہ ایران کی قسمت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔یہ صرف ایک وزیر یا صدر یا سپریم لیڈر کی قسمت کا معاملہ نہیں ہے کیونکہ انھیں تو بآسانی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔انتخابات کے ذریعے ہر چیز ممکن ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ، جنھیں ایرانی امور کے ماہر صحافی مسعود زاہد بنفشی (جامنی) لومڑی قرار دیتے ہیں، صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اپنی سی سعی کی ہے۔انھوں نے خمینی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر اپنی تاریخی تقریر میں ایرانی عوام کی رائے جاننے کے لیے ایک عوامی ریفرینڈم کے انعقاد پر زوردیا ہے تاکہ یہ پتا چل سکے کہ عوام کیا چاہتے ہیں؟

سوال یہ ہے کہ انھوں نے یہ انقلابی مطالبہ کیوں داغا ہے؟ ایک ایسا لیڈر یہ مطالبہ کیونکر کرسکتا ہے جو خود ہمیشہ سے خمینی نظام کی خدمات بجا لاتا چلا آرہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر خمینی رجیم اپنے اندر اصلاحات نہیں کرتا تو پھر یہ چلنے کا نہیں ۔یہ شکروں کے ساتھ چلے گا اور نہ فاختاؤں کے ساتھ۔

تاہم اب ان اصلاحات کے لیے تو بہت تاخیر ہوچکی ہے۔ایرانی عوام جمہوریہ میں اصلاحات کے لیے کسی بھی موقع سے مایوس ہوچکے ہیں ۔بالخصوص اس لیے بھی کہ وہ تو پہلے ہی اصلاح پسندوں اور انتہا پسندوں کے نظم ونسق کو آزما چکے ہیں۔

عوامی ریفرینڈم

صدر حسن روحانی کے عوامی ریفرینڈم کرانے کے مطالبے کے بعد ایران کے سیاسی اور شہری حقوق کے پندرہ سرکردہ علمبرداروں نے ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرینڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایران میں پُرامن انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوسکے اور ولایت فقیہ کی حکومت کی جگہ ایک سیکولر پارلیمان اور جمہوری نظام لے سکے۔

ایران کی انسانی حقوق کی معروف علمبردار شیریں عبادی نے اخبار الشر ق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگ نے اس بیان پر دست خط کیے ہیں ، وہ مختلف نظریات ، طبقات اور پس منظر کے حامل ہیں اور ان کا مقصد حالیہ مظاہروں کے دوران میں سامنے آنے والے عوامی مطالبات کو پورا کرنا ہے۔ان میں سب سے مقبول ولایت فقیہ کی حکومت کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے ریفرینڈم کے انعقاد کا مطالبہ تھا۔

شیریں عبادی کا کہنا تھا :’’ اسلامی جمہوریہ گذشتہ 39 سال کے دوران میں یہ ظاہر کر چکی ہے کہ اس کو درست کیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی اصلاح کی جاسکتی ہے۔یہ بات قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں کی قیادت میں مختلف حکومتوں کے تجربے سے بھی ثابت ہوچکی ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ مذکورہ بیان پر متنوع ایرانی شخصیات نے دست خط کیے ہیں ۔ اس سے خمینی رجیم اور اس کے نظریات کے خاتمے کے لیے ایرانیوں کی عمومی خواہش کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نیوم منصوبے کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ کانفرنس میں کہا تھا:’’ نیا سعودی عرب الاخوان المسلمون اور خمینی ازم ایسے التباسوں میں اپنے مزید سال ضائع نہیں کرنا چاہتا ہے‘‘۔مستقبل کی جانب دیکھنے اور آگے بڑھنے والے قائدین اور ماضی میں الجھ جانے اور زندگی کو تباہ کرنے والے لیڈروں کے درمیان یہی ایک نمایاں فرق ہوتا ہے۔

کیا خمینیت (خمینی ازم) کا دور لد چکا اور اس کے زوال کا آغاز ہوچکا؟

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے