تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جنگ کا دوسرا رُخ : فلسطینی کہانی سے اسرائیلی ہاسبارا گہنا جانا چاہیے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 12 محرم 1440هـ - 23 ستمبر 2018م
آخری اشاعت: ہفتہ 8 جمادی الثانی 1439هـ - 24 فروری 2018م KSA 22:54 - GMT 19:54
جنگ کا دوسرا رُخ : فلسطینی کہانی سے اسرائیلی ہاسبارا گہنا جانا چاہیے!

فلسطین کے مختلف سیاسی دھڑوں کا فیصلہ نہ صرف مختلف ہوتا ہے بلکہ فلسطینی کہانی بھی اب تقسیم شدہ ، غلط استعمال شدہ اور مسخ شدہ ہوچکی ہے۔

فلسطینی بیانیے کا بحران حالیہ اور نیا نیا ہے اور اس کو فیصلہ کن اور مربوط کوششوں کے ذریعے درست کیا جاسکتا ہے۔یہ دراصل 1993ء میں اوسلو معاہدے پر دستخط تھے جس نے فلسطینی بیانیے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا ،اس سے فلسطینی عوام کمزور ہوئے تھے اور ان میں تقسیم در تقسیم کا سلسلہ چل نکلا تھا۔

لیکن ہم فلسطینی کہانی کو کیسے واضح اور مربوط انداز میں بیان کر سکتے ہیں جبکہ فلسطینی سیاسی نقطہ نظر متحارب دھڑوں کی محض سیاسی خواہشات کے حصول پر مبنی ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کی جماعت فتح کی بالادست شاخ فلسطینی مہاجرین کو واپسی کا حق دینے کو تیار نہیں اور اس معاملے کو ان کے سیاسی پروگرام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اس ضمن میں فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا دراصل یہ ہے کہ وہ فلسطینی قصبے صفد ،جہاں سے ان کے خاندان کو 1948ء میں بے دخل کردیا گیا تھا، واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

اعتدال پسند فلسطینی قیادت سے اسی قسم کے رویّے کی توقع کی جاسکتی ہے جس کی زبان اور سیاسی پہچان ابھی تک واشنگٹن کے طویل عرصے سے اختیار کردہ امن عمل کی تحدیدات کی مرہون ِمنت ہے۔تاہم دراصل یہی سیاسی عملیت پسندی ہے جس نے فلسطینی بیانیے کو بالکل مسخ کردیا ہے اور اس سے اب بہ مشکل ہی فلسطینی عوام کی جدوجہد کی عکاسی ہوتی ہے۔

جب تک فلسطینی قیادت کی ذمے داری فلسطینی عوام اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیتے اور یہ ایک حقیقی جمہوری اظہاریہ نہیں بن جاتا تو یہ دانشوروں کی ذمے داری ہے کہ وہ فلسطینی کہانی کا تحفظ کریں اور اس کو دنیا کے سامنے زیادہ مستند اور مثبت انداز میں پیش کریں۔

فلسطین کی کہانی مختلف دھڑوں کی کہانی نہیں ہے۔فلسطینی دھڑے تو دراصل نوآبادیات اور مزاحمت ، غیر ملکی سیاسی اور نظریاتی اثرات اور مختلف تحریکوں کے درمیان شدید مسابقت کی ایک پیچیدہ اور محاذ آرائی کی تاریخ کی پیداوار ہیں۔

فلسطین کی کہانی لازمی طور پر فلسطینی عوام کی کہانی ہے۔وہ جبر واستبداد کا شکار ہیں اور اس مزاحمت کا مرکزی چینل ہیں جس کا آغاز 1948ء میں تباہ شدہ فلسطینی دیہات کی باقیات پر اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔اگر فلسطینی مزاحمت نہ کرتے تو ان کی کہانی تب کی ادھر ہی ختم ہوچکی ہوتی اور وہ خود بھی معدوم ہوچکے ہوتے۔

جو لوگ فلسطینیوں کی مزاحمت، بہ شمول مسلح مزاحمت کے لتے لیتے رہتے ہیں ، انھیں مزاحمت کے نفسیاتی مضمرات کی کچھ بھی تفہیم نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اجتماعی حق خود اختیار ی کے احساس اور لوگوں کے درمیان امید کا کچھ بھی احساس نہیں ہے۔

فرانز فینن کی مشہور زمانہ کتاب ’’افتادگانِ خاک ‘‘ کے تعارف میں ژاں پال سارتر نے متشدد مزاحمت کو یوں بیان کیا ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک شخص دراصل از سرنو اپنی ایک نئی پہچان حاصل کرتا ہے۔ایک نئی خودی تخلیق کرتا ہے۔ڈاکٹر فینن نے اس متشدد مزاحمت کو جائز قرار دیا تھا۔

خودی کی تخلیق

درحقیقت فلسطینی گذشتہ ستر سال سے اپنی خودی کی پہچان کے سفر پر ہیں۔انھوں نے مزاحمت کی اور ان کی مزاحمت نے اپنی تمام شکلوں میں اجتماعیت کا احاںس پیدا کیا اور ایسا فلسطینی عوام کے درمیان مختلف النوع کی تقسیم کے باوجود ہوا ہے۔

ان تھک مزاحمت ، دراصل فلسطینی معاشرے کی ہیئت ترکیبی کا ایک خاصہ بن چکی ہے۔وہ جابر قوت کے فلسطینیوں کو کمزور کرنے کے حربوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔وہ قبضے کا بے یارو مددگار متاثرہ فریق ہے اور وہ ادھر ادھر سر گرداں ایک ایسا مہاجر ہے جس کا کوئی جذبہ اور کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

چناں چہ فلسطینیوں کے اجتماعی شعور اور اجتماعی یادداشت کو دراصل معنی کی تخلیق میں ایک سنگ میل ہونا چاہیے کہ فلسطینی ہونے کا کیا مطلب ہے اور فلسطینی عوام کون ہیں ،وہ ایک قوم کے طور پر کیوں کھڑے ہیں اور وہ ان تمام برسوں کے دوران میں مزاحمت کیوں کرتے رہے ہیں؟

ایک فلسطینی بیانیہ وضع کرنے کی جتنی آج ضرورت ہے ، تاریخ میں اس سے پہلے کبھی اس کی اتنی شدت سے ضرورت پیش نہیں آئی تھی کیونکہ فلسطینی کہانی کی اشرافی تشریح ناکام ہوچکی ہے۔اوسلو معاہدے کی بے مقصدیت ثابت ہوچکی ہے ۔یہ خالی خولی نعروں پر مبنی ایک بے مقصد مشق تھی اور اس کا واحد مقصد فلسطین سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی بالادستی کو برقرار رکھنا تھا۔

محمود عباس اور ان کے آدمیوں نے نہ صرف فلسطینی عوام کی سیاسی خود ی کو خاموش کرانے کی سعی کی ہے اور یہ جھوٹا دعویٰ کیا ہے کہ وہ تمام فلسطینیوں کے نمایندہ ہیں بلکہ انھوں نے فلسطینیوں کو ان کے بیانیے سے بھی محروم کردیا ہے۔ایسا بیانیہ، جو تمام مقامی اور مہاجرین ، مقبوضین اور بیرون ملک آباد فلسطینی کمیونٹیوں کو ایک قوم میں پُرو دیتا۔

اب فلسطینی دانشور وں پر لازم ہے کہ وہ ایک ایسا اجتماعی بیانیہ وضع کرنے کے قابل ہوں جو فلسطینیوں کی اجتماعی آواز کا آئینہ دار ہو۔اس کے بعد ہی فلسطینی حقیقی معنوں میں اسرائیلی ہاسبارا اور امریکی ، مغربی کارپوریٹ میڈیا کے پروپیگنڈے کا جواب دے سکتے ہیں اور پھر کسی رکاوٹ اور اگر، مگر کے بغیر کھل کر بات کرسکتے ہیں۔

اور فلسطینیوں کی کہانی درست اور شفاف انداز میں بیان کرنے والا بھی ایک فلسطینی ہی ہونا چاہیے۔یہ کسی ملفوف نسلی جذبے کا حاصل ہے لیکن جیسا کہ مرحوم فلسطینی پروفیسر ایڈورڈ سعید نے کہا تھا کہ تشریح وتوضیح کے عمل کے دوران میں بالعموم حقائق تبدیل ہو جاتے ہیں۔

وہ ’کورنگ اسلام‘ میں لکھتے ہیں:’’۔۔۔حقائق ا س وقت اہمیت اختیار کرتے ہیں ، جو انھیں وضاحت کے وقت بنایا جاتا ہے اور تشریح کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ تشریح کرنے والا یا والی کون ہے ، وہ کن سے مخاطب ہے۔اس کا مقصد کیا ہے اور کس تاریخی تحریک میں توضیح کا عمل رونما ہورہا ہے‘‘۔

فلسطینی تاریخ کے حقائق کی وضاحت کرنے والے بہت سے توضیح نگاروں کی کہانی میں فلسطینی مؤرخ یا فلسطینی عوام کو کوئی مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہے۔یہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہی معاملہ نہیں ہوا ہے بلکہ یہ ایک ایسا عارضہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ، سیاست اور صحافت کو بھی عشروں سے متاثر کیا ہوا ہے۔

ڈاکٹر سوہا عبدالقادر لکھتی ہیں: ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ نویسی علوم شرقیہ کا سوتیلا بچہ ہے۔اسی سے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ تاریخ نے جنم لیا تھا ،اسی کے وسائل ، طریقِ کار اور تنہائی کو استعمال کیا تھا‘‘۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ پس دیوار زنداں کی تاریخ نے بھی فلسطینیوں کی بہت توجہ حاصل کی تھی اور ’’ادب السجون‘‘ (جیل کا ادب) آج تک بیشتر فلسطینی کتب خانوں اور لائبریریوں کی زینت رہا ہے۔ یہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اگرچہ افراد اور چھوٹے سماجی گروپ ( حکمراں اشرافیہ اور اس کے پشتیبان) بعض تاریخی واقعات کا محرک ہوتے ہیں لیکن یہ مقبول عام تحریکیں ہی ہوتی ہیں جو طویل المیعاد اثرات مرتب کرتی ہیں۔

پہلی انتفاضہ تحریک اس بیان کا عملی مظہر تھی۔تیسری انتفاضہ تحریک کا بہت سے فلسطینیوں کی جانب سے مطالبہ دراصل اس شعور کا غماز ہے کہ فلسطینی اپنی حقیقت کے تعیّن کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ اب ایسی تفہیم کا فقدان نظر آتا ہے کہ اجتماعی تحریکوں کو کیسے متحرک کیا جاسکتا ہے۔

یہاں اور بھی بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں اور ان میں سب سے نمایاں صہیونی (اور بہت سے مغربی ) مؤرخین اور اداروں کی جانب سے فلسطین کے تاریخی بیانیے کو صہیونی بیانیے میں تبدیل کرنے کی غیر متزلزل کوشش ہے۔

صہیونی اسرائیلی بیانیے میں فلسطینیوں کو خانہ بدوش اور ترقی کی راہ میں حائل ہونے والے ظاہر کیا گیا ہے ۔یہ دراصل ہر مغربی نوآبادی طاقت اور اس کی مزاحمت کرنے والی مقامی آبادی کے درمیان تعلق کی وضاحت کرنے والے بیانیے کی ہو بہو نقل ہے بلکہ اس کا مثنیٰ بیانیہ ہے اور قابضین ہمیشہ ایسا ہی بیانیہ وضع کرتے رہے ہیں۔

صہیونی سیاسی ابلاغ میں اس بیانیے کو بڑی صفائی سے مسلسل فوجی جارحیت کے روپ میں عملی شکل دی جاتی رہی ہے اور 1947ء-48ء میں قریباً دس لاکھ فلسطینیوں کا ان کی آبائی سرزمین سے صفایا کردیا گیا تھا اور مقبوضہ علاقوں میں نو آبادوں کی آبادکاری کا سلسلہ جاری رکھا گیا تھا۔

صہیونی مؤرخین ، میڈیا اور ماہرین سیاسیات نے بھی کسی اختلاف سے قطع نظر اس بیانیے کو جاری رکھا تھا۔اسرائیلی مؤرخ بینی مورس نے اسرائیلی اخبار ہارٹز سے 2004ء میں ایک انٹرویو میں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر سے متعلق صہیونی بیانیے کو یوں بیان کیا تھا اور اس سے اسرائیلی بیانیے کے اخلاقی دیوالیہ پن کی بھی عکاسی ہوتی ہے:

’’ میرا نہیں خیال کہ 1948ء میں ( فلسطینیوں کی) بے دخلی ایک جنگی جرم تھا۔آپ انڈوں کو توڑے بغیر آملیٹ نہیں بنا سکتے۔آپ کو اپنے ہاتھوں کو گندا کرنا پڑتا ہے۔ آبادی کو بے دخل کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا‘‘۔

فلسطینی دانشور کو اب آگے بڑھنا چاہیے۔یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم فلسطینی لکھاری ، مؤرخین اور صحافی فلسطینی تاریخ کی از سر نو تشریح کی ذمے داری قبول کریں۔فلسطینی آوازوں کا ابلاغ کریں تاکہ باقی دنیا ایک مر تبہ پھر اس فلسطینی کہانی کو اس کے زخم خوردہ مگر بے لچک فاتحین سے سن سکے اور اس کو سراہے بھی۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند