تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شہزادہ محمد بن سلمان نے قبطی کیتھڈرل کا دورہ کیوں کیا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 7 محرم 1440هـ - 18 ستمبر 2018م
آخری اشاعت: بدھ 19 جمادی الثانی 1439هـ - 7 مارچ 2018م KSA 19:50 - GMT 16:50
شہزادہ محمد بن سلمان نے قبطی کیتھڈرل کا دورہ کیوں کیا؟

مذہبی رواداری نفرت کے خلاف ایک نیا علاج ہے اور اس سے ہی مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ملک کو باہمی کشت وخون سے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بجائے بقائے باہمی اور تعاون کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔اس سادہ سچائی کے باوجود مبلغین اور علماء سے جدید زندگی اور حقیقت سے ہم آہنگ مذہبی نقطہ نظر اختیار کرنے کے مطالبات کا حاصل زیادہ تر مایوس کن ہی رہا ہے۔

رواداری کی روح اور اقدار کو مضبوط بنانے کے مطالبات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ہے۔اس کے برعکس گذشتہ چند عشروں کے دوران میں انتہا پسندوں کا نقطہ نظر مضبوط ہوا ہے اور اعتدال پسند ان کی خوشامد کرتے پائے گئے تاکہ وہ کسی طرح کے ان غیظ وغضب کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔

اب جوں جوں اعتدال پسندی کے مطالبات زور پکڑرہے ہیں ، انتہا پسندوں کا کردار مزید سفاکانہ ہوتا جارہا ہے۔تکفیری فتووں کے فوراً بعد خونیں واقعات رونما ہوجاتے ہیں۔ میرے خیال میں ان تمام الٹ نتائج کی کچھ منطقی توضیحات ہیں۔

سخت گیر مذہبی نقطہ نظر اختیار کرنے والوں کو اعتدال پسند ی اختیار کرنے کا مشورہ دینا تو بالکل عبث ہے ۔حتیٰ کہ اگر وہ کوئی اعتدال پسندانہ فتویٰ جاری کرتے ہیں تو وہ فوری طور پر اس سے دستبردار ہوجائیں گے اور اپنی اصل غوغا آرائی کی جانب لوٹ جائیں گے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی مبلغ موسیقی کے حق میں کوئی فتویٰ جاری کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ جائز ہے اور بعد میں وہ کسی لبرل کو موسیقی سننے پر سنگ باری کا نشانہ بنانے کی خواہش کا ا ظہار کردیتا ہے تو اس معاملے میں جس واحد شخص کو کوئی فائدہ پہنچے گا تو وہ یہی انتہا پسند مبلغ خود ہوگا کیونکہ اس نے خود ہی ایک ایسا فتویٰ جاری کیا تھا جس کو وہ بعد میں واپس بھی لے سکتا ہے۔اس طرح وہ انتہا پسندانہ نقطہ نظر پر کوئی کاری ضرب نہیں لگائے گا بلکہ اس کی حسبِ سابق تشہیر جاری رکھے گا۔

بعض سماجی اور اقتصادی وجوہ کی بنا پر انتہا پسندانہ غوغا آرائی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے جبکہ اس میں تبدیلی کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔اگر عرب معاشروں میں انتہا پسند انہ گل افشانی ِگفتار جاری رہتی ہے تو یہ اعلیٰ سماجی مرتبے کے حامل افراد کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائے گی۔وہ اس کو عطیات دیں گے اور اس کے پروگراموں کی مالی معاونت کریں گے۔

اس کی وضاحت کی انتہا پسندوں کی بہت زیادہ تعداد سے بھی ہوتی ہے کہ وہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور انتہا پسند ایسی مقبول عام شخصیات بن جاتے ہیں جن سے لوگ محبت کرتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔یہ شخصیات فطری طور پر ذہین ہوتی ہیں اور وہ سب سے پہلے اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور یہی ان کی ترجیح ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ لوگوں کو وہی کچھ دیتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں اور کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کرتے جس سے اعتدال پسندی ، اصلاح اور رواداری کو فروغ ملتا ہو۔

اعتدال پسندی کے لیے تمام آوازیں ناکام ہوگئی ہیں اور صورت حال مزید ابتر ہوچکی ہے ،دہشت گردی کے حملوں میں مزید لوگ مارے گئے ہیں اور داعش کی لوگوں کو زندہ جلانے اور انھیں پنجروں میں زندہ ڈبونے کی کارروائیوں کی وجہ سے تشدد ایک قدم اور آگے چلا گیا ہے۔

غلط لوگوں سے اصلاح کی امید

یہاں غلطی یہ ہوئی ہے کہ ہم نے غلط لوگوں سے اصلاح کے لیے کہا اور ہم یہ بات فراموش کر بیٹھے کہ عظیم قائدین اور تاریخی شخصیات وہ ہوتی ہیں جو فارمولے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتی ہیں ، وہ معیشت ، سیاست اور نظریے کی سطح پر ایسی جوہری تبدیلیاں کرتی ہیں جس سے معاشرہ خود کو اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو دیکھتا ہے۔

اس کو اسلامی تاریخ میں ملاحظہ کیا گیا تھا جب المامون کے روشن خیال ویژن نے ایک مضبوط تہذیب کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا تھا ،سائنس کو ترقی ملی تھی اور ثقافت اور نظریات میں نکھار آیا تھا۔

یورپ میں لوگ پروسین ( جرمنی) کے شاہ فریڈرک دا گریٹ کو آج بھی یاد کرتے ہیں۔انھوں نے مفکرین کو تحفظ فراہم کیا تھا اور ان کے نظریات کے فروغ میں مدد دی تھی ۔ نتیجتاً یورپی تہذیب کے احیاء میں مدد ملی تھی۔ بڑی سیاسی شخصیات اسی طرح کا کردار ادا کرتی ہیں اور تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزاد ہ محمد بن سلمان کا قاہرہ میں سینٹ مرقس کیتھڈرل کا دورہ اور ان کی قبطی پوپ تواضروس دوم سے گفتگو ایسے ہی تاریخی واقعات میں سے ایک ہے جس کا مقصد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسئلے سے پورے خطے کو بچانا ہے جس کی دلدل میں ہم افراد ، معاشرے اور حکومتوں کی سطح تک پھنس چکے ہیں۔

سعودی ولی عہد کا چرچ کا دورہ خود ایک بڑا پیغام ہے اور وہ یہ کہ وہ اعتدال پسندی اور مذہبی رواداری کی حمایت کرتے ہیں اور انتہا پسند نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔ایسے ہی حقیقی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے جس سے مزید اعتدال پسند اور روادار مذہبی شخصیات سامنے آتی ہیں اور وہ ان بڑی تبدیلیوں کی حمایت کرتی ہیں۔

سعودی عرب اصلاحات کے نتیجے میں دانشورانہ کھلے پن کے تجربے سے گزر رہا ہے۔سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں سے ہم آہنگ مزید اعتدال پسند آوازوں کا ظہور ہورہا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے پسندیدہ اور مقبول عام انتہا پسند زوال کا شکار ہیں۔ایسے لوگوں کو بھلا دیا جاتا ہے اور پھر وہ انجام کار اشتہاریات اور تعلقات عامہ کے شعبوں میں کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا قبطی عیسائیوں کے گرجا گھر کا دورہ ایک دلیرانہ قدم ہے،اس کا ایک واضح اور مضبوط پیغام ہے اور وہ سعودی عرب اور مصر سے باہر بھی پھیل چکا ہے۔یہ ان تمام عرب اور مسلم ممالک کے لیے ایک پیغام ہے جنھیں انتہا پسند شیطانوں کا سامنا ہے اور جو روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے حملوں کو ناکام بناتے ہیں۔

انتہاپسندی کے مرض کا علاج اعتدال پسندی اور مذہبی رواداری کا فروغ ہے ۔اس سے معاشروں کو اس فرقہ ورانہ منافرت کے استیصال کا موقع ملے گا جو ان کے وجود کو تار تار کررہی ہے اور ان کے بچوں کو تباہ کررہی ہے۔

فرقہ ورانہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے بعد ممالک اپنی معیشتوں کی ترقی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کرسکیں گے تاکہ ان کے معاشرے ترقی کے عمل میں آگے بڑھیں اور اور باقی دنیا کے ساتھ مل کر اپنے مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔یہی سبب ہے کہ نیوم کا منصوبہ کیوں اہمیت کا حامل ہے ؟ کیونکہ یہ ایک اقتصادی منصوبے سے زیادہ ماضی سے ناتا توڑنے اور مستقبل میں داخل ہونے کی خواہش کا بھی مظہر ہے۔

نفرت پر مبنی تقریر اور عدم رواداری کا خاتمہ ایک بہت بڑا اور اہم کام ہے۔اس کے لیے ایسی تاریخی اور غیر معمولی شخصیات ہی کام کرسکتی ہیں جو غیر متوقع طور پر دلیرانہ اقدامات کا انتخاب کرتی ہیں ۔وہ خود کو پہنچنے والے نقصان اور حملوں کو برداشت کرتی ہیں اور لاکھوں ، کروڑوں افراد کو ایک روشن مستقبل کی تعمیر اور خوش باش زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔ایک ایسی زندگی جو وہ انتہا پسندی کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے نہیں گزار سکے ہیں کیونکہ وہ اس انتہا پسندی کی لپیٹ میں تھے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند