تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدر ٹرمپ نے ریکس ٹیلرسن کو چلتا کرکے کیا پیغام دیا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 9 ذوالحجہ 1439هـ - 21 اگست 2018م
آخری اشاعت: اتوار 1 رجب 1439هـ - 18 مارچ 2018م KSA 19:45 - GMT 16:45
صدر ٹرمپ نے ریکس ٹیلرسن کو چلتا کرکے کیا پیغام دیا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال ایک انٹرویو میں اپنے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہ کہا تھا کہ جب امریکا کی خارجہ پالیسی کا معاملہ آتا ہے تو صرف وہی اس کا محور ہیں ۔’’جو اس معاملے میں اہم ہے، وہ میں ہوں‘‘۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا۔

گذشتہ چند ماہ سے جس فیصلے کی توقع کی جا رہی تھی، وہ اب ہوچکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ریکس ٹیلرسن کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے ۔وہ تیل اور توانائی کے شعبے میں تجربے کے حامل تھے اور وہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ ریکس ٹیلرسن ٹرمپ کی ٹیم میں اس لحاظ سے اجنبی نظر آتے تھے کہ وہ خارجہ پالیسی میں اہم نوعیت کی تبدیلیاں کر رہی تھی۔ مثال کے طور پر انھوں نے شمالی کوریا کے سات

ھ تاریخی بحران کے خاتمے کے لیے اس کے صدر سے ملاقات کے ارادے کا بھی اظہار کردیا تھا۔ ٹیلرسن نے نرم روی ہی سے سہی صدر ٹرمپ کے ایران سے متعلق ارادوں اور دہشت گردی مخالف گروپ چار کے قطر کی خطرناک پالیسیوں کے بارے میں موقف کی حمایت کی مزاحمت کی تھی ۔ٹیلرسن بظاہر قطر کے بیانیے کے حامی نظر آئے اور انھوں نے اس بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے قطری الاخوان المسلمون کے لغت کی ایک اصطلاح بھی استعمال کی تھی۔انھوں نے قطر کی ’’ ناکا بندی‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے اس اصطلاح کو مسترد کردیا تھا اور انھوں نے متعدد بار اس بات کا اعادہ کیا کہ انھوں نے تو صرف قطر کا بائیکاٹ کررکھا ہے اور یہ ان کا ’’ خود مختارانہ‘‘ فعل ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا:’’جب آپ ایران ڈیل کی جانب دیکھتے ہیں تو میرے خیال میں یہ بہت ہی خطرناک تھی لیکن وہ (ٹیلرسن) سمجھتے تھے کہ یہ ٹھیک تھی۔میں یا تو اس کو سرے سے ختم کرنا چاہتا تھا یا کچھ (ترامیم) کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ایک مختلف انداز میں سوچتے تھے۔چنانچہ ہماری سوچ ایک جیسی نہیں تھی‘‘۔

صدر ٹرمپ نے کانگریس کے سابق رکن ،ہارورڈ کے لا گریجو ایٹ اور امریکی فوج کے سابق افسر مائک پومپیو کو نیا وزیر خارجہ نامزد کیا ہے۔انھوں نے 1991ء میں کویت کی آزادی کی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق پومپیو اور صدر ٹرمپ میں مکمل ہم آہنگ اور تال میل پائی جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مائک پومپیو کی جگہ جینا ہاسپل کو سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے) کی نئی سربراہ مقرر کیا ہے۔وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ وہ سی آئی اے کی ایک تجربے کار افسر ہیں اور اس وقت وہ اس کی ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کررہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انھوں نے 1985ء میں سی آئی اےمیں ملازمت اختیار کی تھی اور القاعدہ تنظیم کے خلاف جنگ میں مہارت کی حامل ہیں۔ وہ 2002ء میں تھائی لینڈ میں سی آئی اے کی ایک خفیہ جیل کی نگران تھیں۔اس عقوبت خانے میں القاعدہ کے عبدالرحیم النشیری المعروف ’’ سمندر کا شہزادہ‘‘ ایسے ارکان کو زیر حراست رکھا گیا تھا۔

ریکس ٹیلرسن کی رخصتی سے ان لوگوں کو ضرور پریشانی ہوگی جو یہ توقع کیے بیٹھے تھے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں سے کوئی ایران پر دباؤ میں کمی لائے گا اور قطری اخوان کے بیانیے کو آگے بڑھائے گا۔بات یہ ہے کہ جو لوگ ریکس ٹیلرسن سے اس طرح کی توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے،وہ شاید اس معاملے میں مبالغہ آمیزی سے کام لے رہے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو منصب صدارت پر فائز ہوئے ایک سال اور چند ماہ ہونے کو ہیں ۔ان کی انتظامیہ میں اتحاد کا اظہار اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم آہنگی واضح ہوتی جارہی ہے۔ اب ہم دیکھیں اور انتظار کریں گے کہ یہ اتحاد اور یک رنگی عرب دنیا میں ہمارے مسائل پر کیسے اثر انداز ہوگی یا پھر کچھ نہیں ہوگا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند