تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب ، امریکا اور ایران سے محاذ آرائی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 9 ذوالحجہ 1439هـ - 21 اگست 2018م
آخری اشاعت: اتوار 1 رجب 1439هـ - 18 مارچ 2018م KSA 18:04 - GMT 15:04
سعودی عرب ، امریکا اور ایران سے محاذ آرائی

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے چندے قبل یورپ میں بڑی تیزی سے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ان کی بات چیت کا محور یہ نکتہ ہوگا کہ ایران کو کس طرح محدود کیا جاسکتا ہے جبکہ درحقیقت اس کا مقصد امریکا کو ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے سے روکنا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ سے ریکس ٹیلرسن کی رخصتی اور اس کے ایک ہفتے کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان کی امریکا کے دورے پر آمد سے یورپ کے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرنا چاہتا ہے اور اس سے جوہری معاہدے کے خاتمے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

آج ہمیں خطے میں جس افراتفری اور طوائف الملوکی کا سامنا ہے ،اس کے پیچھے کارفرما اہم عنصر دراصل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کا جولائی 2015ء میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدہ ہی ہے۔اس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کے ایک حصے کو منجمد کرکے پابندیوں کا خاتمہ کرانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔یہی سبب ہے کہ اب اس کی خطے میں فوجی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں ۔ اس نے اپنا بیلسٹک میزائل نظام بھی تیار کر لیا ہے اور یہ بیلسٹک میزائل جوہری ہتھیاروں کو ہدف تک لے جانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

اس جوہری معاہدے کے طے پانے کے بعد سے خطے میں طوائف الملوکی اور جنگوں میں اضافہ ہوا ہے ،ایرانی رجیم مزید دلیر ہوچکا ہے اور ایک طرح سے ایران کے اندر اور باہر اس کی بالاتر حیثیت ہوچکی ہے۔یہ سب کچھ مغرب کی ان توقعات کے بالکل برعکس ہوا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے نتیجے میں اپنی جارحانہ پالیسی سے دستبردار ہوجائے گا اور امن و ترقی کی جانب لوٹ جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا کے صدر بننے ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ابھر کر سامنے آنے اور ان دونوں شخصیات کی جانب سے ایران سے علاقائی سطح پر محاذ آرائی کے اعلان کے بعد سے اس جوہری معاہدے کی کوئی نمایاں اہمیت نہیں رہی ہے۔تمام یورپ تہران میں سپریم لیڈر کے ساتھ تعاون جاری رکھ سکتا ہے لیکن حتمی فیصلہ تو واشنگٹن ہی کو کرنا ہے۔

دراصل یہ جوہری معاہدہ کوئی مسئلہ نہیں ، بلکہ ایرانی رجیم مسئلہ ہے۔امریکا شام اور عراق میں ایران کی دراندازی کی وجہ سے لڑرہا ہے اور سعودی عرب یمن میں اپنے دفاع اور یمن کو ایران کی حمایت یافتہ مسلح بغاوت سے بچانے کے لیے لڑرہا ہے۔

معاہدے کا خاتمہ

یورپ نے پہلے تو محاذ آرائی سے گریز کیا خواہ اس کے کتنے ہی خطرناک مضمرات ہوئے ہیں لیکن آخر کار اب اس کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے خطے میں اتحادی اس معاہدے کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ یورپ اب دونوں فریقوں کو مطمئن کرنا چاہتا ہے اور ا س نے ایک نیا منصوبہ پیش کردیا ہے جس کے تحت ایران کو بیلسٹک میزائلوں کی تیاری سے روکا جاسکے گا اور عراق ، شام اور یمن میں اس کی سرگرمیوں کو روک لگائی جا سکے گا۔

رائٹرز کے مطابق یورپ کے اس منصوبے کے تحت ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام اور مذکورہ ممالک میں مداخلت کی ذمے دار شخصیات پر پابندیوں کی دھمکی دی گئی ہے۔بظاہر یہ منصوبہ بہت کمزور نظر آتا ہے۔پاسداران انقلاب ایران ، فوج اور ایرانی انٹیلی جنس کے جن عہدے دار وں پر مجوزہ پابندیاں عاید کی جائیں گی ، وہ تو مغرب میں رہتے ہی نہیں ہیں۔اس لیے وہ پابندیوں سے کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوں گے۔

اس یورپی منصوبے کے تحت یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کر دی جائیں اور ان کے خلاف محاذ آرا ء فورسز کی حمایت کی جائے تاکہ وہ دونوں اگر کہیں دراندازی کریں یا قبضہ کریں تو انھیں بہت کچھ کھونا پڑے۔جب تک ایرانی رجیم کو محدود کرنے کے لیے پے درپے اقدامات نہیں کیے جاتے،اس وقت تک یہ پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔

یہ اہم بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایران نے جوہری مذاکرات سے اتفاق کیا تھا اور پھر وہ ایک سمجھوتے تک پہنچا تھا کیونکہ اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں اس کا دھڑن تختہ ہونے کے قریب تھا۔چنانچہ اس نے مذاکرات کی بات کی اور اپنے جوہری پروگرام کو معطل کرنے کی تجویز پیش کی تھی جبکہ اس سے پہلے وہ یہ کہتا چلا آرہا تھا کہ جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی کیونکہ یہ اس کی خود مختاری کا مسئلہ ہے۔بالآخر اس نے مذاکرات سے اتفاق کیا ، ان کے نتیجے میں جوہری معاہدہ طے پایا اور اس نے اس پر دستخط کردیے تھے لیکن تب شاید مغربی مذاکرات کار عجلت میں تھے اور انھوں نے ایک مسخ شدہ منصوبہ پیش کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شہزادہ محمد بن سلمان اب اس معاہدے میں ترمیم چاہتے ہیں اور اس کو سرے ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خطے میں گذشتہ چالیس سے جاری طوائف الملوکی اور مسلح ملیشیاؤں کے لیے مالی امداد کے ذرائع کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔اس لیے یہ معاہدہ صرف جوہری پروگرام کی ترقی پر روک لگانے اور یورینیم کی افزودگی کو منجمد کرنے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے ذریعے خطے میں تشدد ، طوائف الملوکی اور حالتِ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

----------------------------
(عبدالرحمان الراشد ،العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند