گجرات کا ٹھیاواڑ کے علاقے کَچھ میں میمن کمیونٹی کے36 گاؤں تھے‘ میمنوں نے دو سو سال قبل مختلف کاروبار شروع کیے اور یہ کاروبار آہستہ آہستہ ان کے ناموں کا حصہ بن گئے‘ مثلاً چمڑے کا کاروبار کرنے والے چامڑیا بن گئے‘ تیل کا کاروبار کرنے والے تیلی بن گئے اور موتیوں کا کاروبار کرنے والے موتی والا ہو گئے۔

یہ لوگ بیسویں صدی کے شروع میں کراچی آنا شروع ہو ئے‘ میمنوں کی بڑی شفٹنگ قیام پاکستان کے بعد ہوئی‘ یہ لاکھوں کی تعداد میں پاکستان آئے اور پورٹ سٹی کی وجہ سے کراچی کو اپنا مرکز بنا لیا‘ میمنوں کے ساتھ ساتھ بوہرہ کمیونٹی بھی کراچی آ گئی‘ یہ لوگ بھی گجرات کے رہنے والے ہیں‘ گجراتی زبان میں مونگ پھلی کو مانڈوی کہا جاتا ہے۔

میمن اس مناسبت سے مونگ پھلی کا کاروبار کرنے والوں کو مانڈویا کہتے ہیں لیکن سلیم مانڈوی والا میمن نہیں ہیں‘ یہ بوہرہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ یہ مانڈویا نہیں ہیں‘ یہ مانڈوی والا کہلاتے ہیں‘ یہ لوگ 1921ء سے کراچی میں آباد ہیں اور یہ کھرب پتی ہیں‘یہ رئیل اسٹیٹ‘ مینوفیکچرنگ‘ آٹو موبائل‘ انٹرٹینمنٹ اور پلاسٹک کا کاروبار کرتے ہیں‘ سلیم مانڈوی والا کا خاندان 1960ء سے زرداری خاندان کا ’’فیملی فرینڈ‘‘ ہے۔
حاکم علی زرداری بمبینوسینما کے مالک تھے جب کہ مانڈوی والا گروپ نشاط سینما چلاتا تھا‘ نشاط پاکستان کے بہترین سینماؤں میں شمار ہوتا تھا‘ یہ لوگ اس زمانے میں فلمیں بھی بناتے تھے‘ یہ لوگ آج بھی یہ کاروبار کر رہے ہیں‘ سلیم مانڈوی والا پڑھے لکھے اور ذہین شخص ہیں‘ یہ کمرشل پائلٹ بھی ہیں اور یہ لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بھی رہے۔

ان کا سیاسی کیریئر 2008ء میں شروع ہوا‘ آصف علی زرداری نے صدر بننے کے بعد سلیم مانڈوی والا کو بورڈ آف انویسٹمنٹ کا چیئرمین بنا دیا‘ یہ ان کی پہلی سرکاری اور سیاسی تقرری تھی‘ پیپلز پارٹی کے 99 فیصد لوگ 2008ء سے پہلے ان کے نام تک سے واقف نہیں تھے‘ بورڈ آف انویسٹمنٹ میں ان کی کارکردگی مایوس کن تھی‘ یہ پانچ برسوں میں وہاں کوئی کمال نہ کر سکے۔

آصف علی زرداری کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین 2012ء میں دہری شہریت کی وجہ سے سینیٹ سے مستعفی ہو گئے‘ یہ زرداری صاحب کے انتہائی قریبی دوست تھے چنانچہ زرداری صاحب نے دوست کی نشست پر دوست کو بٹھا دیایوں سلیم مانڈوی والا سینیٹر بن گئے‘ آصف علی زرداری نے انھیں فروری 2013ء میں چار ماہ کے لیے وزیر خزانہ بھی بنا دیا‘ یہ چار ماہ وزارت خزانہ کی تاریخ کا یاد گار ترین دورانیہ تھا‘ وزارت میں اس دوران کیا کیا ہوتا رہا یہ آپ وزارت خزانہ کے لوگوں سے پوچھ لیں‘ آپ کے طوطے اڑ جائیں گے۔

اسلام آباد کے واحد فائیو اسٹار مال کا سینما تک اس دور میں مانڈوی والا گروپ کو الاٹ ہواتاہم مال کو گیس کنکشن نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسوکے صاحبزادے نے دلایا تھا‘ یہ ڈیل وزیراعظم آفس میں ہوئی تھی‘ مال کے مالکان نے گیس کنکشن کے لیے نگران وزیراعظم کے صاحبزادے کو کتنی رقم دی نیب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو خط لکھ کر سارے ثبوت حاصل کر سکتا ہے‘ نگران وزیراعظم نے 45 دنوں میں ساڑھے چار سال کے برابر کرپشن فرمائی‘ صرف کلاشنکوف کے 45 ہزار لائسنس جاری ہوئے اور ہر لائسنس کی ’’فیس‘‘ وزیراعظم آفس کے صوفوں پر وصول کی گئی۔

لوگ بریف کیس کے ساتھ وزیراعظم آفس آتے تھے اور اپنا کام کروا کر چلے جاتے تھے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ڈاکٹر مصدق ملک سے پوچھ لیجیے‘ یہ اس زمانے میں پانی اور بجلی کے نگران وزیر تھے لیکن یہ تمام بعد کی کہانیاں ہیں‘ ہم ابھی سلیم مانڈوی والا کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ حکومت کے خاتمے تک وزیر خزانہ رہے‘ حکومت کی مدت ختم ہوئی تو خزانہ بھی خالی تھا‘ دہشت گردی بھی روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی تھی‘ بجلی کے گردشی قرضے بھی 480ارب روپے تک پہنچ چکے تھے‘ لوڈ شیڈنگ بھی 14گھنٹے ہوتی تھی اور پورا حکومتی نظام بھی دلدل میں پھنسی گاڑی بن چکا تھا۔

سلیم مانڈوی والا مارچ 2015ء میں دوسری بار سندھ سے سینیٹر منتخب ہوئے‘ آصف علی زرداری انھیں اس بار چیئرمین بنانا چاہتے تھے لیکن یہ کام پاکستان تحریک انصاف کے 13 ووٹوں کے بغیر ممکن نہیں تھا‘ آصف علی زرداری نے شاہ محمود قریشی کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن عمران خان نہ مانے‘ یہ پبلک اور میڈیا کے پریشر سے گھبرا رہے تھے‘ زرداری صاحب ہر صورت سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین دیکھنا چاہتے تھے۔

یہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ایک سال سے کام کر رہے تھے‘ یہ نومبر 2016ء میں میاں نواز شریف کی حکومت ختم کر سکتے تھے لیکن صرف سینیٹ کے الیکشنوں نے ان کا ہاتھ روکے رکھا‘ زرداری صاحب نے چیئرمین شپ کے لیے بلوچستان میں حکومت تبدیل کی‘ یہ وہاں سے آٹھ آزاد سینیٹر بھی لے آئے‘ اسٹیبلشمنٹ نے اس سارے کارنامے میں بطور سہولت کار ان کا ساتھ دیااور یہ کے پی کے اسمبلی سے سات ایم پی ایز کے ساتھ دو سینیٹرز بھی نکال لائے لیکن یہ اس کے باوجود چیئرمین کے لیے ووٹ پورے نہ کر سکے۔

زرداری صاحب پی ٹی آئی کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے تھے‘ پی ٹی آئی بھی انھیں ووٹ دینا چاہتی تھی لیکن یہ عوامی دباؤ سے ڈرتی تھی چنانچہ پھر درمیان کا راستہ نکالا گیا‘دونوں پارٹیوں کو صادق ’’فراہم‘‘ کر دیا گیا‘ آپ یہاں دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجیے‘ صادق سنجرانی کو آصف علی زرداری جانتے تھے اور نہ ہی عمران خان‘ بلوچستان کے آزاد سینیٹرز اور وزیراعلیٰ بھی انھیں چیئرمین نہیں بنانا چاہتے تھے‘ یہ انوارالحق کاکڑ کو اس سیٹ پر دیکھنا چاہتے تھے۔

صادق سنجرانی نے خود بھی کبھی اس پوزیشن کا خواب نہیں دیکھا تھا‘ یہ سینیٹر بننے کے بعد داخلہ یا تجارت کی اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بننا چاہتے تھے لیکن پھریہ اچانک سامنے آئے اور تمام فریقین نے ان کے نام پر اتفاق کر لیا لیکن اس اتفاق کے دوران آصف علی زرداری نے سلیم مانڈوی والا کے لیے ڈپٹی چیئرمین شپ لے لی‘ یہ ڈیل میاں نواز شریف کی وجہ سے پایہ تکمیل تک پہنچی‘ میاں نواز شریف نے رضا ربانی کا نام لے کر زرداری صاحب کے لیے آسانی پیدا کر دی۔

زرداری صاحب نے گیارہ مارچ کو واضح پیغام دے دیا ہمیں اگر اس ڈیل میں کچھ نہیں ملے گا تو ہم میاں نواز شریف کی پیش کش قبول کر لیں گے‘ ہم رضا ربانی کو امیدوار بنا دیں گے اور رضا ربانی فیصلہ ساز قوتوں کو قبول نہیں تھے چنانچہ عمران خان نے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا‘ آپ کے لیے شاید یہ بات اب حیران کن نہیں ہو گی پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم دونوں ’’ٹیک اوور‘‘ ہو چکی ہیں جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن سے پہلے ’’ٹیک اوور‘‘ ہو جائے گی‘ نگران حکومت کونئی حلقہ بندیاں کر نی پڑیں گی‘ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے الیکشن ایک سے دو ماہ لیٹ ہو جائیں گے۔

نئی حلقہ بندیوں پر صرف ن لیگ کو اعتراض ہو گا‘ باقی جماعتیں خاموش رہیں گی‘الیکشن کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی‘ پاکستان تحریک انصاف‘ ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گی اور اس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے نتائج سینیٹ کے الیکشنوں جیسے نکلیں گے‘سینیٹ میں صادق سنجرانی کی شکل میں صادق آ چکا ہے جب کہ عام الیکشنوں کے بعد امین بھی سامنے آ جائے گا‘ پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو نو نو وزارتیں مل جائیں گی‘ وزارت عظمیٰ بلوچستان کے امین کو مل جائے گی۔

اسپیکر کے پی کے سے چن لیا جائے گا اور ڈپٹی اسپیکر سندھ سے آ جائے گا‘ ن لیگ 75 ایم این ایز کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ جائے گی‘ میاں نواز شریف جیل میں ہوں گے اور میاں شہباز شریف دو تین خوفناک مقدمات کے ساتھ ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب بن جائیں گے یوں نیا پاکستان شاہراہ ترقی پردوڑتا نظر آئے گامگر یہ مستقبل کا نقشہ ہے‘ ہم ابھی 2018ء کے مارچ میں ہیں اور یہ مارچ آصف علی زرداری اور سلیم مانڈوی والا کا ہے۔

عمران خان تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے پاکستان تحریک انصاف نے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دے کر سیاسی حماقت کی انتہا کر دی‘ یہ اگر ڈیل تھی تو اس ڈیل کا صرف اور صرف ایک ونر ہے اور وہ ونر آصف علی زرداری ہیں‘ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ لے کر عمران خان سے تمام گالیوں کا بدلہ لے لیا‘ پاکستان تحریک انصاف کا نیا پاکستان 12 مارچ 2018ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے پرانے تابوت میں دفن ہو گیا۔

عمران خان اب اس لکیر کو جتنا چاہیں پیٹ لیں لیکن لاٹھی ٹوٹنے کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا‘ آپ سیاسی حماقت دیکھئے آپ نے اپنے 13 ووٹ آصف علی زرداری کی جھولی میں ڈال دیے لیکن آپ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے ایم کیو ایم کے در پر جانے پر مجبور ہو گئے‘ کیایہ اصول ہیں‘ کیایہ سیاست ہے؟میں کہنے پر مجبور ہوں عمران خان نے اس ڈیل میں سیاست اور اصول دونوں ہار دیے۔

آپ نے اگر سیاست کی تھی تو آپ نے اس میں کیا پایا؟ اور آپ اگر اصولوں کی بات کرتے تھے تو آپ کے اصولوں نے ملک کی سب سے بڑی بیماری آصف علی زرداری کے امیدوار کو کیوں ووٹ دیے؟ کیا پاکستان تحریک انصاف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے؟

پاکستان تحریک انصاف قوم کی امید تھی‘ ملک میں پچاس سال بعدکسی تیسری قومی پارٹی نے جنم لیا تھا‘ قوم دل سے اس تبدیلی پر خوش تھی لیکن افسوس صد افسوس تیسری پارٹی نے پہلی دو پارٹیوں کا کچرہ اکٹھا کر کے اور اپنی سیاسی حماقتوں کا انبار لگا کر پورے ملک کے خواب توڑ دیے ‘ آپ آج پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف تینوں کو ایک قطار میں کھڑا کر دیجیے‘ آپ کو ان تینوں میں کوئی فرق نہیں ملے گا چنانچہ ملک میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس پر صرف اور صرف انا للہ و انا الیہ راجعون ہی کہا جا سکتا ہے‘ آپ دیکھتے جائیں‘ روتے جائیں‘ آگے بڑھتے جائیں اور اللہ سے توبہ کرتے جائیں اور بس۔ بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے