تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا تبدیلی کے عمل میں سعودی عرب کی کیسے مدد کرسکتا ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 شوال 1439هـ - 24 جون 2018م
آخری اشاعت: بدھ 4 رجب 1439هـ - 21 مارچ 2018م KSA 18:41 - GMT 15:41
امریکا تبدیلی کے عمل میں سعودی عرب کی کیسے مدد کرسکتا ہے!

انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ممالک نے پُر امن انداز میں اور رضاکارانہ طور پر قومی معیشت کو درست خطوط پر استوار کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل شروع کیا ہو اور مذہبی حساسیّتوں پر کوئی سمجھوتا کیے بغیر سماج کی اقدار میں تبدیلی اور توسیع کی ہو۔ سعودی عرب یہی کچھ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔سعودی مملکت کئی عشروں سے سماجی اور ثقافتی اقدار کے ساتھ چل رہا تھا اور انھیں کوئی چیلنج بھی نہیں کیا جاتا تھا مگر اس سے ہماری ترقی کی رفتار سست ہوجاتی رہی ہے۔

اب ہماری قیادت نے ایک نیا لائحہ عمل وضع کیا ہے ۔اس کا مقصد ہماری معیشت اور معاشرے میں تبدیلی اور اصلاح کے عمل کو بروئے کار لانا ہے۔اس کا مقصد ہماری ان پوشیدہ صلاحیتوں اور وسائل سے فائدہ اٹھانا بھی ہے جن سے اب تک استفادہ کیا گیا ہے اور نہ ان کی پرتیں کھولی گئی ہیں۔

دوسال قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی رہ نمائی میں کام کرتے ہوئے ویژن 2030ء کا آغاز کیا تھا ۔یہ معیشت کو متنوع بنانے کے ساتھ سماجی اور ثقافتی اصلاحات کا ایک جامع منصوبہ ہے۔ نوجوان اور متحرک ولی عہد اور ہمارے اصلاحات کے خالق ہماری آبادی کے سب سے بڑے گروپ یعنی نوجوانوں کی اہمیت سے کما حقہ آگاہ ہیں۔

ہمارا سابقہ لائحہ عمل کوئی پائیدار نہیں تھا لیکن اب زندگی کے تمام شعبوں اور پہلوؤں میں تبدیلی کا ایک عمل جاری ہے۔ہم خواتین کے حقوق کو وسعت دے رہے ہیں۔ مسلم عازمین ِحج اور عمرہ کے لیے خدمات کو بہتر بنایا جارہا ہے اور مختلف صنعتوں میں بڑے بڑے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔

ہم اپنے ملک کو سیاحت کے لیے کھول رہے ہیں۔ملک میں تفریحی صنعت کو بالکل نئے سرے سے قائم کررہے ہیں۔ سعودی عرب کی ثقافت اور تاریخی ورثے کو فروغ دیا جارہا ہے۔ہم اپنے صحت عامہ اور تعلیم کے نظاموں کی بھی تنظیم نو کررہے ہیں۔ یہ ان چند ایک اصلاحات میں سے ہیں جن کا پہلے ہی آغاز کیا جاچکا ہے۔

امریکا کے پاس سعودی ولی عہد شہزادہ محمد کے اس پہلے سرکاری دورے کے موقع پر ایک اچھا موقع ہے کہ وہ ان اصلاحات کے بارے میں جان کاری حاصل کرے۔ولی عہد منگل سے اپنے اس دورے کا آغاز کرچکے ہیں ۔ان کی آمد کا بنیادی مقصد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جاری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان 2017ء میں الریاض میں منعقدہ سربراہ اجلاس کے بعد تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوا تھا۔

متنوع حکمت عملی

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان صرف سیاست کے موضوع پر بات کرنے کے لیے امریکا نہیں آئے ہیں۔وہ کاروبار اور بالخصوص دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بات چیت کریں گے ۔ان کے معیشت کو متنوع بنانے کے منصوبے کے تحت سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ولی عہد کے مختلف شہروں کے دورے سے اسی سال کے آخر میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے امریکا کے دورے کی راہ ہموا ر ہوگی۔

شہزادہ محمد بن سلمان سعود ی عرب کے سرکردہ سیاست دان ہیں ۔ وہ واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر چکے ہیں اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں اور دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے سرکردہ ارکان سے ملاقاتیں کرنے والے ہیں ۔ان کی بات چیت سے دونوں ممالک کے درمیان طویل شراکت داری اور تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان عشروں پرانے تاریخی تعلقات استوار ہیں ۔ڈیمو کریٹس اور ری پبلکنز دونوں جماعتوں کی حکومتوں نے انھیں پروان چڑھایا اور ان کا تحفظ کیا ۔دونوں ممالک میں دوسری عالمی جنگ کے بعد تعلقات استوار ہوئے تھے۔یہ سرد جنگ کے زمانے میں برقرار رہے تھے اور (کویت کی آزادی کے لیے) آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم کے دوران میں ان کو مزید تقویت ملی تھی۔

ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں، خفیہ معلومات کا تبادلہ کررہے ہیں ۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف عالمی مرکز برائے انسداد انتہا پسندی نظریہ (گلوبل سنٹر فار کاؤنٹرنگ ایکسٹریمسٹ آئیڈیالوجی، اعتدال) ایسے مشترکہ منصوبوں پر بھی مشترکہ طور پر عمل پیرا ہیں۔ جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے تو گذشتہ عشروں کے دوران میں ہزاروں سعودی طلبہ نے امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔سعودی عرب کی کاروباری شخصیات نے امریکا میں مختلف صنعتوں ، ٹیکنالوجی ،رئیل اسٹیٹ اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں سیکڑوں ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ہم نے ہر صدر کی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کار اور شراکت داری برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

انتہا پسندی کے خلاف جنگ

ٹرمپ انتظامیہ نے برسر اقتدار آنے کے بعد بہت نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالخصوص انتہا پسندی کے خلاف جنگ اور ایران کے مذموم عزائم اور اثر ورسوخ کو روک لگانے کے لیے جو بھی فیصلے کیے ہیں، ان کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

سعودی قیادت اور ٹرمپ انتظامیہ نے دوطرفہ تعلقات کے استحکام اور مضبوطی کے لیے فریم ورک بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اس سے اداروں کے درمیان تعاون کو بھی فروغ ملا ہے۔اب ہم سعودی عرب اور امریکا کے درمیان طویل المیعاد اتحاد کو از سرنو استوار کرنے کے نئے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سعودی ولی عہد اپنے دورے کے موقع پر اس حوالے سے روشنی ڈالیں گے۔بالخصوص کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بات چیت کریں گے اور الریاض سربراہ اجلاس میں شاہ سلما ن اور صدر ٹرمپ کے شروع کردہ اقدامات کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان آج تعلق داری پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ، گہری اور کثیرالجہت ہوچکی ہے۔یہ اوول آفس ، کانگریس کے ہالوں ، فوجی اڈوں اور تجارتی راہ داریوں تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ ان سے کہیں زیادہ وسعت اختیار کر چکی ہے۔

سعودی عرب اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے اور ہمارے عزائم سعودی ، امریکا تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے ۔طرفین کو اس لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ہمیں اپنے پختہ اتحاد کو چٹان کی طرح مزید مضبوط بنانے کے لیے عزم کا اعادہ کرنا چاہیے ۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمیں مستقبل پر بھی نظر رکھنی چاہیے ۔ خوش حالی لانے کے لیے تمام سعودیوں کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے اور مشرق ِ وسطیٰ کے اہم مگر شورش زدہ خطے اور دنیا میں استحکام لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
-------------------------------
شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز امریکا میں سعودی عرب کے سفیر ہیں ۔ وہ سعودی ولی عہد کے چھوٹے بھائی ہیں ۔ان سے اس ٹویٹر اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
@kbsalsaud.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند