صدر ٹرمپ اور ان کا وہائٹ ہائوس تو بدستور اعلیٰ عہدیداروں کی برخاستگی، صدر ٹرمپ کے متنازع ٹوئٹ، سیاسی انتشار، مختلف اسکینڈلز کی تحقیقات اور انکشافات کا مسلسل شکار ہے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو اس کی معاشی وصنعتی ترقی رک جاتی۔ انوسٹرز سرمایہ کاری روک لیتے اور سیاسی خلفشار بھی اپنا رنگ جماتا لیکن امریکا کے سیاسی و انتظامی نظام کی مضبوطی ملاحظہ ہو کہ صدر ٹرمپ کی ذاتی کمزوریوں، ٹوئٹ کی حشر سامانیوں، ٹرمپ خاندان کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور قومی انتشار کی کیفیات کے باوجود امریکی معیشت میں بہتری، روزگار کے ذرائع میں وسعت، عالمی سطح پر امریکی اثر ورسوخ کی طاقت بدستور قائم ہے اور دنیا کے دوسرے ممالک اب بھی اپنے مسائل و معاملات میں مدد کے لئے امریکہ سے تعاون کا حصول لازمی ضرورت سمجھتے ہیں۔ بتیس [32] سالہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے ولی عہد ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر دفاع ہیں اور آج کی عرب دنیا میں سب سے زیادہ توجہ پانے والے نوجوان لیڈر ہیں۔

صرف پچھلے چند ماہ میں وہ اپنے اقدامات کی بدولت سعودی ماحول، معاشرت، سیاست اور لائف اسٹائل پر تاریخی اثرات مرتب کرچکے ہیں۔ وہ سعودی عرب کو داخلی اور خارجی حکمت عملی کے میدان میں تبدیلیوں کے ذریعے موجودہ سعودی عرب کو تبدیل کر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ولی عہد مقرر ہونے کے بعد صرف چند ماہ میں انہوں نے جہاں خواتین کے شعبے اور سعودی معاشرتی ماحول میں جن تبدیلیوں کو رائج کیا ہے وہ بذات خود سعودی تاریخ کا ایک نیا موڑ ہے اور قدامت پرستی سے نکل کر مغربی معاشرے سے قربت کا نشان ہے۔ داخلی طور پر اپنے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد اب ولی عہد محمد بن سلمان بیرونی دنیا سے رابطوں اور سعودی سیکورٹی کو مستحکم بنا کر خطے میں سعودی عرب کو بڑی طاقت اور سنی مسلم دنیا کا لیڈر بنانے کا ایجنڈا لے کر برطانیہ اور یورپ کا دورہ کرچکے ہیں۔ برطانیہ میں 2 ارب ڈالرز خریداری وسرمایہ کاری پر خرچ ہوں گے۔

اب سعودی ولی عہد دو ہفتے کے طویل دورہ امریکہ پر آئے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد وہ متعدد امریکی شہروں کا دورہ بھی کررہے ہیں نیویارک، بوسٹن سمیت مختلف شہروں میں مختلف اداروں کارپوریشنوں، تنظیموں اور بااثر امریکیوں سے ملاقات و مذاکرات بھی کریں گے۔ امریکہ، برطانیہ اسرائیل اور ان کے اتحادی خوش ہیں کہ نوجوان نسل کی اکثریت والے سعودی عرب میں تاریخ کا پہلا نوجوان 32سالہ ولی عہد دو ٹوک انداز میں اپنے ملک سعودی عرب کی دولت اور مستقبل نہ صرف امریکہ اور یورپ سے ’’لنک‘‘ کرنے کے حامی ہیں بلکہ کنزرویٹو اور سخت مذہبی ماحول والے سعودب عرب کو ایک کھلے لبرل معاشرے میں تیزی سے تبدیل کرنا بھی چاہتے ہیں۔ سعودی ولی عہد نے اپنے دورہ امریکہ سے قبل ایک امریکی ٹی وی نیٹ ورک کو تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے جو کچھ کہا ہے وہ امریکی عوام کی توجہ اور دلچسپی کا باعث ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے لئے بڑا چیلنج لئے ہوئے ہے۔ اس انٹرویو کا لب لباب کچھ یوں ہے ۔

اگرایران نے ایٹم بم بنایاتو سعودی عرب بھی ایٹم بم بنائے گا۔ایران کی معیشت اور فوج سعودی عرب کی معیشت اور فوجی قوت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے لہٰذا برتر سعودی عرب ایران سے بڑی طاقت اور حیثیت کا مالک ہے اور اپنی دولت کو امریکہ اور یورپ میں انوسٹمنٹ کے ذریعے لنک کرکے مغرب کا اتحادی بننا چاہتا ہے جبکہ ایران امریکہ اور مغرب مخالف ہے اور اپنے وسائل بھی کہیں اور انوسٹ کرتا ہے۔

اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیئے ہیں وہ ابھی تک سعودی خواتین کو نہیں ملے۔ گویا آل سعود کے حکمرانوں نے ابھی تک سعودی خواتین کو انکے اسلامی حقوق بھی نہیں دیئے لہٰذا اب خواتین کو یہ حقوق دینے کا آغاز کیا گیا ہے۔ سعودی ولی عہد اپنی دولت کے بارے میں سوالات و اعتراضات کے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ نہ تو گاندھی ہیں اور نہ ہی نیلسن منڈیلا ہیں بلکہ وہ پیدائشی طور پر دولت مند انسان ہیں وہ دس بلکہ 20 سال پہلے بھی دولت مند تھے اور اپنی دولت کا بڑا حصہ غریبوں پر خرچ بھی کرتے ہیں لہٰذا میری طرز زندگی میری ذاتی زندگی کے بارے میں کسی کو کچھ کہنے کا حق نہیں۔

سعودی عرب میں ہر سال 10 تا 20 ارب ڈالرز کرپشن اور غبن کی نذر ہو جایا کرتے تھے میں نے 100 ارب ڈالرز کے اثاثے واپس حاصل کرکے سعودی خزانے کو دیئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کرپشن کرنے والے عناصر کو سخت ترین پیغام بھی دیا ہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے اپنے اس انٹرویو کے ذریعے اہل امریکہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب، امریکہ کا اتحادی ہے اور اپنے ماضی کی قدامت پرستی اور مذہبی ماحول سے نکل کر جدید دنیا کے نظام کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ 1979 کے بعد سعودی عرب میں جو مذہبی بنیاد پرستی کا ماحول پیدا ہوا تھا وہ غلط تھا۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب 21 ویں صدی کی دنیا کا حصہ بن کر مذہبی رواداری، برداشت اور اعتدال پسندی کو رائج کیا جا رہا ہے۔ روس، چین اور دیگر بڑی معیشتوں کے بارے میں ہم کچھ سوچنے کی بجائے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی معیشتوں کے ساتھ رابطوں اور سرمایہ کاری کو بدستور فروغ دیں گے اور اپنا سیاسی و معاشی مستقبل بھی مغربی ممالک کے ساتھ منسلک رکھیں گے۔

شنید یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈکشز نے ولی عہد کے دورہ امریکہ کے سلسلے میں اہم دوستانہ رول بھی ادا کیا ہے بلکہ بعض حلقے تو ثبوت کے ساتھ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ولی عہد خاموشی سے اسرائیل کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ اسرائیل، فلسطین کشیدگی اور سعودی، اسرائیل خاموش ڈپلومیسی اور رابطوں کے بارے میں بعض معاملات پر اتفاق بھی ہوچکا ہے۔ شام، لبنان اور یمن کے متعدد امور پر انڈر اسٹینڈنگ ہے۔

مختصر یہ کہ مشرق وسطیٰ کا منظر تیزی سے بدلتا جارہا ہے۔ دنیا کے مسلمانوں کو مسلک وعقیدہ کے حوالے سے تقسیم کرنے کا مشن جاری ہے۔ پاکستان، افغانستان اور ایسے ممالک جہاں مختلف مسلم مسالک کے انسانوں کی بڑی بڑی آبادیاں ہیں وہاں تقسیم اور منافرت کو فروغ دے کر مسائل پیدا کئے جاسکیںاور رواداری کے جذبات کی جگہ مسلک وعقیدہ کی تقسیم کو رائج کیا جا سکے۔ سعودی ولی عہد کے دو ہفتہ کے دورہ امریکہ کے اثرات و نتائج ابھی سامنے آنا باقی ہیں لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ برادر ملک اور اس کے اثاثے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک میں انویسٹ کئے جائیں گے تاکہ تیل کے واحد ذریعہ آمدنی پر انحصار کی بجائے سعودی عرب کو متعدد ذرائع سے معاشی وسائل حاصل ہو سکیں۔

امریکی اسٹاک ایکسچینج سے سعودی کمپنیوں کو لنک کرنے کا کام بھی جاری ہے لیکن معیشت کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظر کے دور میں سعودی۔امریکی اتحاد کے لئے جس تیسرے عنصر کی شرکت لازمی ضرورت ہے۔ اسے بھی اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسرائیل کے وجود اور مشرق وسطیٰ میں اسکے اہم رول کا کھلے بندوں اعتراف کرنے کا وقت بھی آ چکا ہے اور خاموشی سے اسے تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ بہر حال ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کے نتائج واثرات سامنے آنے سے قبل ہی صورتحال واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ تبدیل ہو چکا ہے۔ مسلم دنیا مزید چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنے والی ہے اور سعودی عرب بھی اپنے موجودہ معاشرتی اور سیاسی ماحول کا لبادہ تبدیل کرنے والا ہے۔ بزرگوں کی نسل کی جانب سے نئی نوجوان نسل کو عقل اور دلیل سے مطمئن نہ کرسکنے کی صورت میں تو ایسے ہی نتائج و اثرات ہوں گے۔ بشکریہ روزنامہ "جنگ"
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے