تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی ولی عہد کے دورۂ امریکا میں معیشت کی سیاست پر فوقیت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 9 ذوالحجہ 1439هـ - 21 اگست 2018م
آخری اشاعت: بدھ 4 رجب 1439هـ - 21 مارچ 2018م KSA 09:23 - GMT 06:23
سعودی ولی عہد کے دورۂ امریکا میں معیشت کی سیاست پر فوقیت

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امریکا کے دو ہفتے کے طویل دورے پر واشنگٹن پہنچ چکے ہیں۔ (اس تحریر کی العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ویب سائٹ پر اشاعت کے وقت سعودی ولی عہد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر چکے تھے۔) وہ یہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں ،جب کانگریس میں امریکا کی جانب سے یمن میں جاری جنگ کی حمایت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، صدر ٹرمپ کے سعود ی عرب سے تعلقات پر تنقید کی جا رہی ہے اور امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے بارے میں بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔تاریخی طور پر تو یہ تعلقات سعودی عرب کے تیل کے بدلے میں امریکا کے اسلحے اور سکیورٹی خدمات کی بنیاد پر استوار ہوئے تھے۔

ان تند وتیز مباحث اور واشنگٹن میں سیاسی غوغا آرائی کے تناظر میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے میں معیشت کو سیاست پر فوقیت حاصل ہوگی ۔اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے تو پھر دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ 75 سال سے جاری شراکت داری کو مزید وسعت اور تقویت ملے گی۔

سعودی ولی عہد اس دورے میں جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں،اس کا زیادہ تر تو واشنگٹن سے باہر سے حاصل ہوگا۔وہ امریکی دارالحکومت میں تین دن گزارنے کے بعد نیویارک ، بوسٹن ، سلیکان ویلی ، لاس اینجلس اور ہوسٹن جائیں گے۔ ان شہروں کے دورے کا بنیادی مقصد امریکا کے سرکردہ مالیاتی اداروں ، ٹیکنالوجی فرموں ، انٹرٹینمنٹ اور توانائی کی کمپنیوں کے ساتھ روابط ، شراکت داری اور تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے تا کہ ویژ ن 2030ء میں وضع کردہ منصوبے کے مطابق سعودی عرب کی اقتصادی ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

واشنگٹن کے دورے کے موقع پر جوہری توانائی کے سمجھوتے پر پیش رفت ہوسکتی ہے اور اس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔اس طرح کے سمجھوتے پر دستخط سے ایران کے ساتھ چھے ممالک کے طے شدہ معاہدے کی طرح سعودی عرب کو یورینیم کو افزودہ کرنے کے حقوق سے دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس سے امریکا روس کی سعودی عرب کی توانائی کی مارکیٹ میں دراندازی پر نظر رکھ سکے گا جبکہ سعودی عرب اپنے یورینیم کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھا سکے گا اور تیل کی پیدوار کو برآمد کرنے کے لیے بچا سکے گا۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری توانائی کے شعبے میں اس طرح کے تعاون کے سمجھوتے سے ایران کو بھی مذکورہ معاہدے کی مدت کے خاتمے کے بعد اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن شہری مقاصد تک محدود کرنے کی ترغیب ملے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان کاروبار اور توانائی کے شعبوں میں نئے سمجھوتوں سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا ۔ماضی میں اس شراکت داری کی بدولت امریکا کو 1945ء کے بعد سے وسیع تر سیاسی اور اقتصادی فوائد حاصل ہوئے ہیں ۔مثال کے طور پر سرد جنگ کے زمانے میں الریاض نے واشنگٹن کی تیل کی قیمتوں کے بحران کے ذریعے سوویت یونین کے معاشی دھڑن تختے میں مدد کی تھی اور 1980 ء کی دہائی کے وسط میں سوویت روس کی تیل پر منحصر معیشت شدید دباؤ کا شکار ہوگئی تھی۔اس نے افغانستان میں سوویت فوجوں کی مزاحمت کے لیے سی آئی اے کو ڈالر کے بدلے میں ڈالر کی مد میں مدد کی تھی۔

امریکا پر11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ ان میں بعض سعودی شہری بھی ملوث تھے تو اس سے وقتی طو ر پر سعودی مملکت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس کی قیادت بروقت جاگ گئی اور اس نے جہاد کے نام پر دہشت گردی سے درپیش خطرے کو بھانپ لیا تھا۔بعد کے برسوں میں سعودی عرب نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف ایک خوف ناک مگر کامیاب جنگ لڑی اور اس کے مالی ذرائع کا بھی سراغ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کی۔سعودی ولی عہد نے 2017ء میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا اور اس جنگ کا دائرہ کار سخت گیر نظریات تک بھی پھیلا دیا تھا ۔

آج اگرچہ امریکا کا تیل کی درآمدات پر انحصار کم ہوچکا ہے لیکن اس نے خلیج فارس میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھا دیا ہے۔وہ اپنے اہم یورپی اور ایشیائی اتحادیوں کے لیے توانائی کی رسد پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس طرح اس کو چین کی توانائی کی رسد پر اثر انداز ہونے کا بھی نمایاں موقع حاصل ہوگیا ہے۔

سعودی عرب نے روس اور چین کے دباؤ کے باوجود امریکا کے مفاد میں تیل کی قیمت کو ڈالر سے منسلک رکھنے پر اصرار کیا ہے اور اس طرح اس نے ڈالر کو دنیا میں ریزرو کرنسی کے طور پر برقرار رکھنے کی بھی حمایت کی ہے جس سے امریکی محکمہ خزانہ کو قرضوں پر انحصار کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

اس سب کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کسی قسم کی مشکلات کے بغیر ہیں ۔ واشنگٹن کی راہ داریوں میں سعودی عرب ایک یک طرفہ فٹ بال بن چکا ہے۔ اس کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلقات استوار کرنے کے لیے کوششوں کی راہ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں اور ایسا اس حقیقت کے باوجود کیا جارہا ہے کہ امریکا سعودی عرب کا ایک جونیئر پارٹنر ہے اور اس کے پاس روز ویلٹ کے بعد سے ہر امریکی صدر سے بہتر راہ ورسم کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

پراگندہ سیاسی ماحول اور امریکا اور سعودی عرب کے درمیان یمن جنگ سے متعلق کسی بہتر حکمت عملی پر عدم اتفاق ، قطر بحران اور اسرائیل اور فلسطینی تنازعے کے حوالے سے سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر کسی نمایاں پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔

سعودی عرب پڑوسی ملک یمن میں لڑی جانے والی جنگ کو اپنی ضرورت کی جنگ قرار دیتا چلا آرہا ہے ۔وہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی طرح مملکت کی جنوبی سرحد پر ایک اور حزب اللہ کا وجود نہیں چاہتا ہے اور وہ حوثی ملیشیا کو حزب اللہ بننے سے روک رہا ہے۔اب یمن میں یہ تنازع اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حوثی اس کے سیاسی تصفیے سے انکار جاری رکھتے ہیں اور انھوں نے گذشتہ ماہ بھی مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل سے انکا ر دیا تھا۔

کانگریس کی جانب سے بعض مواقع پر حمایت کے باوجود امریکا کی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی حمایت علامتی ہی ہے اور یہ صرف پرواز کے دوران میں فضا میں اماراتی لڑاکا طیاروں میں ایندھن کی بھرائی اور انٹیلی جنس کے تبادلے تک محدود ہے۔ اگر ضرورت پیش آتی تو الریاض پرواز کے دوران میں لڑاکا طیاروں میں ایندھن بھرائی کی خدمات کا کوئی متبادل بندوبست بھی کرسکتا تھا لیکن امریکا کی جا نب سے خفیہ معلومات کے تبادلے سے شہریوں کے جانی ضیاع اور جنگ کے ضمنی نقصان کو کم سے کم کرنے میں مدد ملی ہے۔یمن میں جب تک جنگ جاری رہتی ہے تو وہ معاونت بھی جاری رکھے گا لیکن انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اگر روک دیا جاتا ہے تو اس سے انسانی صورت حال اور خراب ہونے کا اندیشہ ہوگا۔

الریا ض کی جانب سے قطر پر پابندی کا مقصد دراصل اس ننھی خلیجی ریاست کو دو عشرے سے جاری دہشت گردی کی حمایت سے دستبردار ی پر مجبور کرنا ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر اس موضوع پر کم ہی گفتگو ہو گی ۔ قطر اس پابندی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے کیونکہ اس کے اس پر سخت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین پر قطر کے بائیکاٹ کے بہت معمولی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔چنانچہ ان چاروں ممالک میں سے کوئی بھی اس بات کا خواہاں نہیں کہ امریکا اس بحران میں کود پڑے یا کوئی مصالحتی کردار ادا کرے۔

جہاں تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کسی امن معاہدے کا تعلق ہے تو سعودی قیادت واضح طور پر ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کر چکی ہے کہ امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلیم ( مقبوضہ القدس) منتقلی سے صد ٹرمپ کی جانب سے مستقبل میں پیش کیے جانے والے کسی مجوزہ امن معاہدے پر کسی قسم کی کوئی پیش رفت قریب قریب ناممکن ہوجائے گی۔

سعودی ولی عہد کا دورہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کثیر الجہت تعلقات کے تمام خوش نما پہلوؤں ، وعدوں اور پیچیدگیوں کا بھی عکاس ہے۔کیا ان کے دورے سے معیشت اور توانائی کے شعبوں میں دونوں ممالک میں نئے تعلقات استوار ہونے چاہییں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے پالیسی کے محاذ پر کوئی معمولی پیش رفت ہوئے بغیر بھی امریکا اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داری مزید وسعت اختیار کرے گی ۔
_________________________
علی الشہابی سعودی شہری ہیں اور وہ واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک تھنک ٹینک عربیہ فاؤنڈیشن کے بانی ہیں۔وہ امریکا پرنسٹن یونیورسٹی اور ہارورڈ بزنس اسکول کے تعلیم یافتہ ہیں ۔ ان دونوں اداروں سے انھوں نے بالترتیب بی اے اور ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ان کا یہ کالم پہلے عربیہ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہوا تھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند