تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کی نئی پالیسیاں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 11 صفر 1440هـ - 22 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 19 رجب 1439هـ - 5 اپریل 2018م KSA 08:05 - GMT 05:05
سعودی عرب کی نئی پالیسیاں

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عالمی سطح پر ایسے لیڈر کے طور پر سامنے آرہے ہیں جو صاحب دانش و بصیرت ہیں، غلطیوں کے اعتراف کی ہمت اور اپنے ملک کی ترقی کیلئے اصلاح کا عزم رکھتے ہیں۔ ایک ایسے قدامت پسند معاشرے میں جہاں بعض غیر ملکی طاقتوں کی شہہ پر کئی دہائیوں تک انتہا پسندی پھیلائی گئی ہو، غلطیوں کا اعتراف اور اصلاح کی کوشش کوئی آسان کام نہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے مرعوب اور پسماندہ قوموں کے زمانہ حال کی ایک بڑی وجہ اور آنے والے دور میں اس کی ترقی یا تنزلی کے امکانات کو سمجھنا ایک سادہ لیکن وسیع المعانی شعر میں بہت خوبی سے بیان کر دیا ہے۔

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اَڑنا      ---------     منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

طرزِ کہن سے ہٹنے کی تلقین کا مطلب یہ نہیں کہ قومیں اپنی زبان یا اپنی ثقافتی خصوصیات ترک کر دیں۔ آئین نو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھنے اور نئی حکمت عملی اختیار کرنے میں محدود سوچ اور جامد فکر کو رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ اس دنیا میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے مواقع قدرت ہر شخص اور ہر قوم کو عطا کرتی ہے۔ مقاصد کے حصول، معاشی ترقی اور دنیا میں ممتاز و معتبر مقام پانے کیلئے ایک دو نہیں بیسیوں امکانات سامنے آتے ہیں۔ صحیح وقت پر صحیح سمت میں اٹھایا جانے والا قدم منزل تک رسائی آسان بنا دیتا ہے۔ سفر کے دوران کئی مشکلات بھی آ سکتی ہیں۔ سخت مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جان، مال معیشت کے نقصانات بھی جھیلنا پڑ سکتے ہیں لیکن زندہ اور پرعزم قومیں ان سب حالات کو رکاوٹ نہیں بلکہ آزمائش سمجھتی ہیں۔ جو قومیں مختلف آزمائشوں میں صبر کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا سیکھ لیتی ہیں، وہ مایوسی سے محفوظ رہتی ہیں۔ قوموں کے مورال کی بلندی کیلئے ان تھک محنت کرنے کا جذبہ بیدار کرنے میں ایک محبِ وطن، دوراندیش، باصلاحیت اور کمٹیڈ لیڈر شپ کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکا میں انٹرویو دیتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سرد جنگ کے دوران سعودی عرب کے فوجی اتحادیوں نے درخواست کی تھی کہ سوویت حکومت کی مسلم ممالک تک رسائی روکنے کیلئے مختلف ممالک میں مساجد اور مدارس کی تعمیر میں سرمایہ لگایا جائے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے بہت صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ماضی کی سعودی حکومتیں اس کوشش کے حصول کیلئے راستہ بھٹک گئی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں واپس صحیح راستے پر آنا ہے۔ چند دہائی پہلے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کی اسٹریٹجی کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک بڑی حقیقت بیان کی ہے۔ اس حقیقت کا اظہار کوئی آسان کام نہیں۔ کسی حکمراں کی جانب سے حقائق کو سامنے لاتے ہوئے ماضی کی غلطیوں کی نشان دہی اور مستقبل میں اصلاح کیلئے بہت زیادہ جرات، اعلیٰ درجے کی بصیرت، تاریخ سے رہنمائی لیتے ہوئے مستقبل کیلئے لائحہ عمل کی تیاری کیلئے اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان اوصاف کے ساتھ ساتھ اصلاح اور ترقی کیلئے طرز کہن سے ہٹنے اور آئین نو اختیار کرنے کیلئے ایک حکمراں کی سب سے بڑی طاقت عوام کا اس پر یقین اور اعتماد ہے۔ حقائق کا اعتراف اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان کے لہجے کی مضبوطی اور اعتماد سے بخوبی واضح ہو رہا ہے کہ انہیں سعودی عوام کی صرف حمایت ہی نہیں بلکہ محبت بھی مل رہی ہے۔

ساٹھ کی دہائی کے بعد سعودی معیشت کا انحصار تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدنی پر رہا ہے گو کہ سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے تیل پر انحصار کم کرنے اور صنعت و زراعت کو ترقی دینے کی باتیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس سمت پر زیادہ سنجیدگی سے تیز رفتار اقدامات شاہ سلمان کی حکومت میں اور شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر ہونے کے بعد ہی کئے گئے ہیں۔

کئی مبصرین کو یقین ہے کہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے تحت کئے جانے والے اقدامات سے سعودی معیشت نہ صرف تیل پر انحصار کم کرکے ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئے گی بلکہ تعلیم کے فروغ، خواتین کو سماجی و معاشی معاملات میں شرکت کے زیادہ مواقع فراہم کرنے، مختلف مکاتب فکر اور دیگر ثقافتوں کیلئے برداشت اور رواداری کو فروغ دے کر سعودی عرب اس پورے خطے میں امن کے فروغ میں سب سے اہم کردار ادا کرے گا۔ دنیا بھر میں علم کے فروغ کے خواہش مند طبقوں، بین المذاہب ہم آہنگی اور دیگر ثقافتوں کو اہمیت اور احترام دینے کیلئے کوشاں افراد اور اداروں کو سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت پر حمایت وتعاون کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔

توقع ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آتی جائے گی۔ سرد جنگ کے دوران مغربی ممالک کی حکمت عملی کے منفی اثرات کو زائل کرنے کیلئے مسلم ممالک کی حکومتوں اور عوام کو مل کر کوشش کرنا ہوں گی۔ پاکستان اور سعودی عرب دیرینہ دوست ہیں۔ پاکستان خود دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی ہمارا بہت بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اپنے اپنے ممالک میں رواداری، برداشت اور مختلف نقطہ ہائے نظر کے احترام کو فروغ دینے میں پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کی بہت مدد کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی تعاون کو زیادہ اہمیت دینا دونوں ممالک کیلئے مشترکہ فائدے کا سبب ہوگا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند