تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کا جوہری بم
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 صفر 1440هـ - 21 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: جمعہ 18 شعبان 1439هـ - 4 مئی 2018م KSA 04:12 - GMT 01:12
ایران کا جوہری بم

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اگلے روز کہا ہے کہ ایرانی رجیم دنیا کو دھوکا دے رہا ہے ۔یہ کہہ کر ایک طرح سے انھوں نے ایک سیاسی بم گرا دیا ہے۔یورپی گروپ اور سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کو سب سے پہلے ایران کے ’’خفیہ ‘‘ جوہری فوجی پروگرام سے متعلق فریب دیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی پریزینٹیشن میں ایسے بہت سے شواہد دکھائے ہیں جن سے انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام فوجی نوعیت کا ہے اور یہ کوئی شہری مقاصد کی سرگرمی نہیں ۔انھوں نے ایران پر احمد منصوبہ کے نام سے جوہری ہتھیاروں کے خفیہ پروگرام پر عمل درآمد کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران نے 2003ء میں اس منصوبے کے اختتام کے بعد جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر مزید تحقیق و ترقی جاری رکھی تھی۔ان کے بہ قول اس منصوبے کا مقصد پانچ جوہری ہتھیار تیار کرنا تھا ۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس خطرناک منصوبے کے بارے میں ’’ہزاروں‘‘ دستاویزات ہیں ۔

ایران نے حسب ِ روایت فوری طور پر اسرائیلی وزیراعظم کے ان بیانات کو مسترد کردیا ہے ۔اس کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی اور خود وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تو ان کا ٹھٹھا اڑایا ہے۔اب ان سے اس کے سوا امید بھی کیا کی جاسکتی تھی؟

تاہم سب سے خطرناک چیز کیا ہے؟وہ اس خطرناک امکان کی موجودگی ہے ،خواہ یہ پانچ فی صد ہی کیوں نہ ہو۔اس کے لیے انتہائی چوکس اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں ایک تکفیری ،سفاک اور پاگل پن کا شکار جنتا کا سامنا ہے جو گذشتہ صدیوں کے دیومالائی قصے کہانیوں کے دور ہی میں مستغرق ہے اور ہر اس شخص کو موت کی نیند سلانا چاہتی ہے جو اس کے تکفیری منصوبے کا مخالف ہے۔

لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جنھوں نے ایران کے ساتھ اس کرپٹ ڈیل میں کردار ادا کیا تھا ،بالخصوص فرانس اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ بائیں بازو کے نظریات کی حامل اطالوی خاتون فیڈریکا مغرینی ، ہر قسم کے اسقام کے باوجود اس ڈیل کو برقرار رکھنے پر مُصر ہیں ۔

مغرینی نے اسرائیلی وزیراعظم کے ہوشربا انکشافات پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ ان کی پیش کردہ دستاویزات سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ایران جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

بعض سرگرمیاں

ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے ذمے دار ادارے بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے نیتن یاہو کے الزامات پر دمِ تحریر براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن اس نے 2015ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔اس میں ایران کی 2003ء کی بعض سرگرمیوں کا ذکرہے جو ایران کے جوہری بم کی تیاری سے متعلق ہیں ۔

جہاں تک اسرائیل کے ان انکشافات کی اہمیت اور سنگینی کا تعلق ہے تو وہ ان کو افشا کرنے کا وقت ہے۔یہ تفصیل ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے جوہری سمجھوتے کے بارے میں اپنے حتمی موقف کا اعلان کرنے والے ہیں ۔وہ ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ وہ اس کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ ’’جھوٹ پر مبنی ہے‘‘۔نئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی ان نئی دستاویزات پر تبصرہ کیا ہے( اور ایران کی سرگرمیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے)۔

ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ یہ لازمی طور پر سعودی عرب کے لیے ہیں کیونکہ ایران اس کو اپنے بڑے دشمن کے طور پر دیکھتا ہے ،اسی لیے وہ اپنے تئیں سد جارحیت کے نام پر ایسے ہتھیار رکھنا چاہتا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’’60 منٹ‘‘ میں انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’’ اگرچہ سعودی عرب ان ممالک میں سے نہیں جو جوہری ہتھیاروں کو رکھنا پسند کرتے ہیں لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے‘‘۔

ایران کے ’’عام‘‘ میزائل سعودی شہروں کو نشانہ بنا چکے ،تو کیا یہ دانش مندی ہوگی کہ ان پاگل آدمیوں کا اس وقت تک انتظار کیا جائے جب وہ حقیقی معنوں میں ایک جوہری بم حاصل کر لیں گے؟ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا مغرب یہ چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایسے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی ایک دوڑ شروع ہوجائے جو بین البراعظمی میزائلوں کے ذریعے استعمال کیے جاسکیں ؟اور جو یورپ تک پہنچ سکیں ؟

جو لوگ دافع درد تکیوں پر سر رکھے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں ،انھیں اب جاگ جانا چاہیے اور اپنی بند آنکھیں کھول لینی چاہییں؟

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند