تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
علی خامنہ ای اور شمالی کوریا کی مثال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 7 محرم 1440هـ - 18 ستمبر 2018م
آخری اشاعت: پیر 28 شعبان 1439هـ - 14 مئی 2018م KSA 18:41 - GMT 15:41
علی خامنہ ای اور شمالی کوریا کی مثال

کیا آپ جانتے ہیں کہ جنوبی کوریا کی مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) 15 کھرب (1.5 ٹریلین) ڈالرز ہے جبکہ شمالی کوریا کی مجموعی قومی پیداوار 28 ارب ڈالرز ہے۔یہ درست ہے کہ شمالی کوریا ایک جوہری ملک ہے اور وہ امریکا کی جانب بیلسٹک میزائل داغ سکتا ہے۔اس فوجی طاقت کے باوجود شمالی کوریا نے اپنے ہمسایہ ملک جنوبی کوریا اور سخت حریف امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔یہ امن مذاکرات اس اعلامیے پر مختتم ہوں گے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے گا اور جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرےگا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کے لیڈر نے یہ فیصلہ کیوں کیا ہے ؟تمام اشاریے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کے صدر کو بظاہر اس حقیقت کا ادراک ہوگیا ہے کہ ان کے جوہری ہتھیار نہ تو عوام کو روٹی دے سکتے ہیں اور نہ وہ ملک کو درپیش گونا گوں اقتصادی مسائل کا حل یا مداوا ہوسکتے ہیں بلکہ اگر وہ اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جاتے ہیں تو اس سے شاید انھیں ان مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔

ایران میں غُربت اور بھوک

آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران بھی اسی طرح کے اقتصادی مسائل سے دوچار ہے۔ایران میں انتہائی غُربت ہے اور یہ روز بروز بڑھتی چلی جائے گی لیکن خامنہ ای کو ان مسائل کی کوئی فکر لاحق نہیں، بلکہ اگر انھیں کوئی فکر لاحق ہے تو یہ کہ ایران کسی طرح علاقائی طاقت بن جائے۔وہ خطے کے لوگوں میں شیت پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ملّائیت کے نظام کے حامل کسی ملک کا شاید یہی ارفع مقصد ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے نظریے کو پھیلائے۔چنانچہ وہ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ ایک جوہری سد جارحیت کی صلاحیت کی حامل مضبوط فوج کے ذریعے ان مقاصد کو حاصل کرسکتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ جہاں چاہیں اور جب چاہیں اپنی مرضی مسلط کرسکتے ہیں۔

دراصل وہ ایرانی معیشت کی آمدن کو فرقہ پرست شیعہ ملیشیاؤں پر بڑے اسراف کے ساتھ خرچ کررہے ہیں،وہ انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہتے ہیں اور وہ کسی بھی غیر ملکی سیاسی تنازع میں اس طرح کی سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔انھوں نے ایران کے داخلی مسائل کو نظر انداز کیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں غُربت بڑھ چکی ہے اور آج نصف سے آبادی غُربت کی چکی میں پس رہی ہے۔اعداد وشمار کے مطابق اس شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ایران کی آٹھ کروڑ کے لگ بھگ آبادی میں سے چار کروڑ نفوس بھوک کا شکار ہیں۔

فارس کے سیاسی ملّا اس بات سے آگاہ نہیں کہ آج کی دنیا کے معیار بدل چکے ہیں اور ماضی سے بالکل مختلف ہیں ۔ماضی میں جارحانہ چڑھائی ، جہاد ، بالادستی اور بزور طاقت نظریاتی انقلابات کی برآمد سے لوگوں کے باہمی تعلقات کو کنٹرول کیا جاتا تھا لیکن آج کے دور میں کسی ملک پر چڑھائی اور اس کو مفتوح بنانا ناممکن ہوچکا ہے۔آج کی دنیا کبھی بھی ، جی ہاں کبھی ایک مذہبی ریاست کو توسیع پسندی اور دہشت گرد ملیشیا ؤں کی طرح کے برتاؤ کی اجازت نہیں دے گی کیونکہ وہ اس وقت ہر کہیں ان دہشت گرد ملیشیاؤں اور ان کے کلچر کے استیصال کے لیے جنگ آزما ہے۔

ترقی کا آپشن

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علی خامنہ ای اور دوسرے ملّا اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور عقل و دانش کی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر کیا ہوگا؟ اگر وہ شمالی کوریا کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عالمی سلامتی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے بجائے دنیا کے ممالک سے تعاون کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟

مجھے پورا یقین ہے کہ اگر ایران اس طرح کا کوئی مؤقف اختیار کرتا ہے تو اس صورت میں اس کے ہاں وسیع تر ترقی کا ایک عمل شروع ہوگا کیونکہ وہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔سرمایہ کار ایران میں سرمایہ لگائیں گے ،اس کی معیشت کو ترقی دیں گے اور اس کے شہریوں کو اکیسویں صدی میں آگے بڑھنے میں مدد دیں گے۔اس صورت میں سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی عرب ریاستیں ایران میں سب سے پہلے سرمایہ کاری کے لیے آسکتی ہیں ۔

لیکن اس طرح کے دلیرانہ فیصلوں کے لیے محمد بن سلمان ایسی شخصیت کی ضرورت ہے۔ان کی طرح کا ادراک رکھنے والا، پُرعزم اور باحوصلہ شخص ہی اس طرح کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ علی خامنہ ای اس طرح کی صلاحیت کے حامل نہیں ہیں ۔ان میں اہلیت ہے اور نہ ذہنی اُپج ۔وہ ابھی تک ماضی میں الجھے ہوئے ہیں اور اس طرح کے دلیرانہ فیصلوں سے عاری ہیں ۔

ملّاؤں کے ارد گرد موجود موقع پرست لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ حقیقی اقتصادی ترقی ، اصلاحات اور بدعنوانی کے خاتمے سے ایران ایک شہری ریاست میں تبدیل ہو جائے گا۔جب شہری حکمرانی کا دور دورہ ہوجائے گا تو ملّاؤں کو مساجد اور حوزات ( دینی مدارس ) کی جانب لوٹنا پڑے گا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند