تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ساٹھ فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکی سفار تخانے کی تعمیر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 4 ذوالحجہ 1439هـ - 16 اگست 2018م
آخری اشاعت: پیر 6 رمضان 1439هـ - 21 مئی 2018م KSA 09:22 - GMT 06:22
ساٹھ فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکی سفار تخانے کی تعمیر

امریکا نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے القدس میں اپنے سفارت خانے کی تعمیر کاا ٓغاز کر دیا ہے۔ اس موقع پر لاکھوں فلسطینی احتجاج کے لئے گلیوں بازاروں اور سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیلی فوج نے ان پر سیدھی گولیاں چلائیں ٹینکوں سے گولے برسائے اور ڈرون سے میزائل داغے، دیکھتے ہی دیکھتے پچاس بے گناہوں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں اور زخمیوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر گئی جن میں سے مزید دس افراد چوبیس گھنٹے کے اندر دم توڑ گئے۔ یوں امریکا نے اپنے سفارت خانے کی بنیادوں کو بے گناہ فلسطینی مسلمانوں کے خون سے سینچا ہے۔

اقوم متحدہ کی ایک بڑی اکثریت نے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کی مخالفت کی تھی امریکا کے حق میں پوری دنیا سے صرف اٹھائیس ووٹ پڑے تھے ۔باقی تمام ا راکین نے مخالفت میں ووٹ ڈالا، مگر امریکہ اپنی ضد پر قائم رہاا ورا س نے دو دھمکیاں دیں، ایک تو یہ کہ وہ اپنے فیصلے پر ہر صورت عمل کر گزرے گا اور دوسرے جن ملکوں نے اس کے خلاف قرارداد پیش کی ہے یا اس قراداد کے حق میں ووٹ ڈالا ہے، اس کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے۔ امریکا نے فلسطین کی امداد بند کر دی ہے اور پاکستان جو اس قرارداد کے محرکین میں شامل تھا، اس کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ محتاج وضاحت نہیں۔

ستم ظریفی ہے کہ امریکہ دوسروں کے لئے دہشت گردی کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہا ہے اور خود اسے اپنی دہشت گردی یاد نہیں، اس نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم برسا کر لاکھوں جاپانیوں کو تہہ تیغ کیا، ویت نام، لاﺅس کمبوڈیا کے خلاف برسوں تک جارحانہ جنگ جاری رکھی۔ جدید دور میں وہ افغانستان، عراق، لیبیا، سوڈان اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجا چکا ہے۔ امریکا کے دو پٹھو ممالک اسرائیل اور بھارت ہیں، وہ بھی انسانیت کا خون بہانے میں آزاد ہیں، اسرائیل ایک طرف فلسطینیوں کی کئی نسلوں کو ختم کر چکا ہے، دوسرے اس کا کوئی ہمسایہ ا س کی جارحیت سے محفوظ نہیں، اردن، لبنان، شام ا ور مصر بار بار اس کی جارحیت کا نشانہ بنے۔

بھارت نے اکہتر برس سے کشمیریوں کا خون بہانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور بھارت جب دوسروں کو دہشت گردی کا لزام دیں تو ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں اور اپنے جبر وستم کا ریکارڈ دیکھ لیں، بھارت نے پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دولانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا ہے مگر خود اسے اپنی دہشت گردی یاد نہیں، اس کے ریاستی عناصر سمجھوتہ ایکسپریس کو خاکستر کر چکے ہیں ، مالی گاﺅں میں قتل عام کر چکے ہیں، خود نریندر مودی گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کی جان لے چکا ہے، اسے پوری دنیا نے دہشت گرد کہا تھا اور اسے برطانیہ اور امریکا کا ویزا نہیں مل سکتا تھا مگر اب وزیر اعظم بن کر اسے یہ سب سہولتیں میسر ہیں اور یہ بھی اجازت ہے کہ وہ کشمیریوں کا خون کرے یا کنٹرول لائن پر دہشت گردی کرتا رہے۔

بھارتی خفیہ ادارے "را" کے دہشت گرد نیٹ ورک کا سربراہ کلبھوشن یادیو پاکستان کی قید میں ہے مگر وہ جو محاورہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ بھارت پاکستان کو دہشت گردی کا الزام دیتا ہے۔ مگر بھارت کو اپنی دہشت گردی بھول گئی ہے جو اس نے پاکستان کے طول وعرض میں چودہ برس سے جاری رکھی ہوئی ہے اور جس میں ایک لاکھ جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور پاکستان کی معیشت کو اربوں کا ٹیکہ لگ چکا ہے۔ بھارت کو اصل میں امریکا کی شہہ حاصل ہے۔ وہ پوری دنیا میں دندنا رہا ہے۔ اس نے ایران میں اپنے کمانڈو اتارنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے ایبٹ آباد میںاپنے کمانڈو اتارے اور اس نے سلالہ کی پاکستانی چوکی پر جارحانہ حملہ کر کے ہمارے بہادر اور بے گناہ فوجیوں کو شہید کیا۔

القدس میں امریکی ہٹ دھرمی نے کرہ ارض کے امن کے لئے خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ عالم اسلام اگر صبر وتحمل سے کام نہ لے تو تیسری جنگ عظیم کو کون روک سکتا ہے۔ امریکی صدر بش نے دھمکی دی تھی کہ وہ نئی صلیبی جنگ شروع کر رہا ہے لیکن امریکا اور اسکے حواری اگر ایٹمی اسلحہ سے لیس ہیں تو آزاد دنیا نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ امریکا، پاکستان، چین، روس اور شمالی ویت نام اور ایران کے صبر کا مزید امتحان نہ لے اور اقوام متحدہ کے ا س چارٹر کا احترام کرے جو دوسروں کے معاملات میں مداخلت سے باز رہنے کے لئے زرو دیتا ہے۔

امریکا دوسروں کو تو دھمکاتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں مگر خود وہ دوسروں کی سرزمیں میں داخل ہو کر دہشت گردی کا ارتکاب کرتا ہے اور انسانیت کا خون کرتا ہے۔ امریکا اچھی طرح جانتا ہے کہ اسرائیل ایک ناسور ہے، یہ فلسطین میں جارحیت کے ذریعے قابض ہوا اور طاقت کے بل پر اپنے پاﺅں پھیلا رہا ہے۔ آج سے سو سال قبل جن علاقوں پر فلسطین محیط تھا، وہ اسرائیل کے تصرف میں چلے گئے ہیں اور فلسطینیوں کو ان کے گھر بار اور زمینوں سے دھکیل کر مہاجر کیمپوں میں پھینک دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ جن علاقوں کو آزاد فلسطین کا درجہ دے چکی ہے، اسرائیل یہاں بھی اپنی بستیاں بسا رہا ہے اور امریکا نے بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے القدس کے فلسطینی علاقے میں سفارت خانے کی تعمیر شروع کر دی ہے،یہ ایک ننگی دہشت گردی ہے۔ اگر امریکا خود یہ حرکت کرے گا تو اس کا لے پالک اور پٹھو اسرائیل کیا نہیں کر گزرے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اپنی قرارداد کے منافی اس اقدام کا سختی سے نوٹس لے۔ عالم اسلام کو بھی او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ایک متفقہ آواز بلند کرنی چاہئے اور امریکی فعل کی مذمت کرنی چاہئے۔ مہاتیر محمد، طیب اردوان اور شاہ سلمان جیسے قد آور مسلم رہنماﺅں کو اپنے مدبرانہ کردار کو بروئے کار لانا چاہئے اور مظلوم فلسطینیوں کے آئے روز کے قتل عام کا سلسلہ رکوانا چاہئے۔ مہذب، متمدن اورا ٓزاد ملکوں کی طرح فلسطین کو بھی جینے کا حق ملنا چاہئے،۔ اس کی تقدیر میں تباہی کیوں لکھ دی گئی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند