تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مشرقی القدس ہمارا ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 4 ذوالحجہ 1439هـ - 16 اگست 2018م
آخری اشاعت: پیر 6 رمضان 1439هـ - 21 مئی 2018م KSA 00:19 - GMT 21:19
مشرقی القدس ہمارا ہے!

امریکا نے اپنے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق اسرائیل میں اپنے سفارت خانے کو 14 مئی کو تل ابیب سے یروشلیم ( مقبوضہ بیت المقدس ) میں منتقل کردیا ہے۔اس موقع پر امریکی صدر کے مشیر ،ان کی بیٹی ایفانکا اور ان کا شوہر جیرڈ کوشنر ، کانگریس کے بعض ارکان اور بتیس مختلف ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو مرتبہ تل ابیب سے یروشلیم میں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے گذشتہ سال کے آخر میں پہلی مرتبہ یہ اعلان کیا تھا اور اس سے عرب دنیا اور اسلامی ممالک میں ایک کھلبلی سی مچ گئی تھی۔اس سال کے اوائل میں انھوں نے دوسری مرتبہ یہ اعلان کیا اور سفارت خانے کو منتقل کرنے کی ٹھیک تاریخ بھی مقرر کردی تھی۔

عربوں کا مضبوط مؤقف

یہ یقینی طور پر ایک دکھ بھری خبر ہے اور انتہائی اشتعال انگیز قدم ہے۔عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) نے مشرقی القدس کی حیثیت سے متعلق ایک واضح مؤقف اختیار کیا ہے اور وہ یہ کہ یہ شہر عربوں کا ملکیتی ہے۔ عربوں کے اس مؤقف کی تصدیق کے تسلسل کے طور پر سعودی عرب کے شہر ظہران میں منعقدہ گذشتہ عرب سربراہ اجلاس کا عنوان ہی ’’یروشلیم سمٹ ‘‘تھا۔

اب فلسطینی امریکا کے اس اقدام کو مسترد کرنے کے لیے مظاہرے جاری رکھیں گے اور بعض اسرائیلی بھی اس کے خلاف احتجاج کریں گے اور اس اقدام کی مذمت کریں گے کیونکہ وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اس سے طرفین میں اختلافات کی خلیج مزید گہری ہو گی اور اس سے امن کوششوں کو بھی نقصا ن پہنچے گا۔اسرائیلی سکیورٹی فورسز تمام امکانات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور گذشتہ سوموار کو سفارت خانے کی منتقلی کے موقع پر غزہ میں ان کی ہزارو ں احتجاجی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ سے ساٹھ سے زیادہ فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے پہلے صدر نہیں، جنھوں نے سفارت خانہ یروشلیم منتقل کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔البتہ ماضی کے صدور اور ان میں فرق یہ ہے وہ ایک عملی آدمی ہیں۔مجموعی منظرنامہ بہت ہی مایوس کن ہے لیکن ہمیں ہمیشہ روشنی کی طرف دیکھنا چاہیے ،ممکن ہے اس سے مستقبل میں امید کی کوئی کرن نظر آجائے۔

ٹرمپ انتظامیہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس اقدام سے امن عمل کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔تاہم وہ عرب خطے میں اسرائیلی پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہتی ہے اور اس کا تحفظ بھی کررہی ہے۔

امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے معاملے میں بعض مشکلات بھی حائل تھیں ،اگرچہ وہ کم تر نظر آئیں لیکن وہ حقیقی ہیں اور ان کے اثرات مرتب ہوں گے۔سب سے اہم تو یروشلیم میں امریکی سفارت خانے کی جگہ اورمحل وقوع کا انتخاب ہے۔

امریکی سفارت خانے کی جگہ

یروشلیم ایک بہت ہی ملا جل مرکب شہر ہے۔یہ عمارتوں سے بھرا پڑا ہے اور یہاں چند ایک مقدس اور تاریخی مقامات ہیں ۔تاریخی طور پر یہ جگہیں مسلمانوں یا عیسائیوں کے مذہبی اداروں یا افراد کی ملکیتی ہیں۔ان گنجان آباد علاقوں کے عین درمیان میں اگر امریکی سفارت خانہ قائم کیا جاتا تو وہ سکیورٹی اور سیاسی خطرات سے دوچار رہتا۔

مسلم اور مسیحی عربوں کا موقف ہے کہ شہر کے مشرقی حصے پر صرف ان ہی کا حق ہے۔اسی حصے میں مسلمانوں کا قبلۂ اول مسجد الاقصیٰ اور عیسائیوں کا مقدس كنيسہ القيامہ (ہولی سپلشر چرچ ) واقع ہیں۔وہ تمام عرب فورموں اور اجلاسوں میں یروشلیم کے بارے میں عمومی بات نہیں کرتے بلکہ وہ شہر کے مشرقی حصے کے بارے ہی میں بات کرتے ہیں اور یہ ان کا ناقابلِ تردید حق ہے۔

جب صدر ٹرمپ نے سفارت خانے کو یروشلیم میں منتقل کرنے کااعلان کیا تو میرے اور شاید کسی کے بھی ذہن میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ وہ مشرقی القدس میں مسلمانوں او ر عیسائیوں کو چیلنج کریں گے کیونکہ وہ اس کے تقدس سے آگاہ ہیں ۔ اگر اس کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو اس کے کیا سیاسی مضمرات ہوسکتے ہیں اور پھر خطے میں شہری امن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

یہی وجہ ہے کہ امریکی سفارت خانے کے لیے مغربی یروشلیم میں ایک دور دراز فاصلے پر واقع جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ اسرائیل اور اردن کے درمیان 1949ء سے ایک غیر فوجی علاقہ چلی آرہی تھی۔1967ء کی جنگ میں عربوں کی شکست کے بعد یہ علاقہ بھی اسرائیل کے قبضے میں آگیا تھا اور دوسرے فلسطینی علاقوں کی طرح اسرائیل کا مقبوضہ بن گیا تھا۔

اصولی طور پر تو امریکا کو اپنے سفارتی ہیڈکوارٹرز کے لیے جگہ کے انتخاب کا خود مختارانہ حق حاصل ہے۔وہ چونکہ دنیا میں سب سے طاقتور ریاست ہے اور اس کے لیڈر عشروں سے امن مصالحت کا ر کا کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں لیکن امریکا کا حالیہ اقدام کسی اچانک صدمے سے کم نہیں کیونکہ اس میں ایک فریق کے مقابلے میں دوسرے کی متعصبانہ انداز میں طرف داری کی گئی ہے۔

ایران سے جوہری ڈیل اور سفارت خانے کی منتقلی

عربوں کو دو نِکات کے ادراک کی ضرورت ہے۔پہلا نکتہ یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کبھی اپنے ذہن کو تبدیل نہیں کریں گے کیونکہ وہ اسرائیل کے ساتھ قریبی دوستی نبھائیں گے۔دوسرا یہ کہ انھوں نے اپنے یورپی اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود ایک دلیرانہ اقدام یہ کیا ہے کہ انھوں نے عربوں کو ایران کےمخالفانہ اثرورسوخ سے بچانے کے لیے جوہری معاہدے کو خیرباد کہہ دیا ہے، بالکل اسی طرح آج وہ اپنے اتحادی اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ تحفظ مہیا کررہے ہیں۔

امریکا عربوں اور بالخصوص فلسطینیوں کی توقعات پر پورا اترنے والا نہیں ہے۔فلسطینی تو یروشلیم کے ایشو پر خود کو متحد نہیں کرسکے ہیں ۔ہمارے اپنے تحفظات ہیں اور واشنگٹن کے اپنے ہیں۔

اس کا یہ ہرگز بھی مطلب نہیں کہ جوہری سمجھوتے سے امریکا کی دستبرداری دراصل سفارت خانے کی یروشلیم منتقلی کا بدل ہے۔تاہم بالآخر وہ اپنے مختلف نسلی ، نظریاتی اور سیاسی اتحادیوں کا تحفظ کرے گا یا کم سے کم اس کا وہ عزم رکھتا ہے۔

عربوں کے لیے موقع

ہم امریکا کےایران سے جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس کی تائید کرتے ہیں۔بالخصو ص ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ ایران شام میں چند روز قبل اسرائیل کے حملے کے بعد کتنا خوف زدہ تھا ۔ وہ اتنا خوف زدہ ہوا کہ اس نے اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پر حملے سے ہی لاتعلقی ظاہر کردی۔

دراصل ایران کا بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کا منصوبہ اس کی ایک بہت بڑی غلطی تھی اور اس نے سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے باوجود اس کی تکمیل پر اصرار کیا تھا مگر اس نے امریکا کو اشتعال دلایا اور ا س نے ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ایران کی اس دو سالہ خوش حالی کے دور کا بھی خاتمہ ہوجائے گا جب وہ تنازعات کو ہوا دینے کے لیے بھی آزاد رہا ہے۔

جہاں تک عربوں کے امریکی سفارت خانے کی یروشلیم میں منتقلی سے متعلق مؤقف کا تعلق ہے تو اب عقلی بات یہ ہوگی کہ اس نکتے پر مذاکرات کیے جائیں اور ان سے مُنھ نہ چرایا جائے۔غیظ وغضب کی حالت ، غیر لچک داری اور رعونت بھرے انداز سے پہلے کبھی کوئی فائدہ ہوا ہے اور نہ مستقبل میں اس طرح کے رویے سےکوئی فائدہ پہنچے گا۔

اگر فلسطینی انتظامیہ حوصلہ اور دانش کو بروئے کار لاتی ، امریکی سفارت خانے کی منتقلی سے ماورا دیکھنے کی کوشش کر تی اور سنجیدہ مذاکرات پر اصرار کر تی تو یہ ایک ایسا قدم ہوتا جس کی اسرائیل کو امید نہیں تھی اور فلسطینیوں سے مذاکرات سے انکار کی صورت میں اس کو عالمی برادری کے سامنے ایک مرتبہ پھر سبکی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا۔

عرب مشرقی القدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے سکتے ہیں ، اگر اس فیصلے پر عمل درآمد ممکن نہیں تو وہ تب بھی ایسا کر گزریں ۔اس معاملے پر صدر ٹرمپ سے براہ راست مذاکرات کی کوشش کریں اور اس طرح شاید دونوں فریقوں میں اعتماد کی فضا قائم ہوسکے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سفارت خانے کو یروشلیم منتقل کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کیا ہے،اس سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ وہ ایک دلیر اور فیصلہ ساز شخص ہیں۔ اس سے فلسطینیوں اور عربوں کے لیے بھی ایک اچھا موقع فراہم ہوا ہے اور شاید ایسا موقع انھیں پھر کبھی نہ ملے۔
_____________
امل عبدالعزیز الہزانی سعودی عرب کی جامعہ شاہ سعود میں پروفیسر ہیں ۔وہ لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط کی لکھاریہ ہیں ۔ان سے اس ٹویٹر اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے: @Alhazzani_Amal

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند