تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب میں خمینیت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 4 ذوالحجہ 1439هـ - 16 اگست 2018م
آخری اشاعت: پیر 20 رمضان 1439هـ - 4 جون 2018م KSA 16:45 - GMT 13:45
سعودی عرب میں خمینیت

کیا سعودی عرب کا خمینی ایرانی فارمولے کے مطابق تصور کیا جاسکتا ہے؟

یہ کوئی مذاق نہیں ، حقیقت ہے کہ اسلام پسند ہمیں سعودی مملکت میں اسی جانب لے جانے لگے تھے۔

ایرانی ماڈل نے اقتدار سے چمٹے رہنے کا تصور ہی پیش نہیں کیا بلکہ ریاست کو ’’ ولايت الفقيہ کی رہ نمائی ‘‘ میں چلانے کا تصور بھی دیا ہے۔اس نے عالمی سطح پر خمینی انقلاب کو فروغ دیا اور اس کے نمایاں نظریات کو برآمد کیا ہے ۔ اب ولايت الفقيہ کی تولیت تو بحر متوسط تک پہنچ چکی ہے۔اس ایرانی ماڈل نے بیسویں صدی کے دوسرے دلکش نعروں کو بھی اپنا یا۔ان میں اشتراکیت ، اقتدار پر اجارہ داری ، قیادت اور رہ نمائی ایسے تصورات شامل ہیں مگر انھوں نے اس کو ایک ناکام انقلابی نظام میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے جو لڑائی اور خوں ریزی کا پیاسا ہے اور اپنے ہی لوگوں میں بھُوک اور غربت کے بیج بوتا ہے۔

ایک تمام نسل ہی کو مایوسی سے دوچار کرنے والا یہ کوئی ماڈل نہیں کہ جس کی جانب عام لوگ دیکھتے لیکن یہ سعودی مملکت سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا کیونکہ اس کے نقوش کو دور ونزدیک سے دیکھا جاسکتا تھا۔

التباسوں میں غوطہ زنی

پہلے نمبر پر تو ولايت الفقيہ کے التباسوں میں غوطہ زن اس نظام کے سعودی عرب میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات کے ذریعے اعادے کی کوشش کی گئی۔ ایران میں مذہبی علماء نے حوزات ( دینی تعلیم کے مدارس) کو اپنے پیروکاروں کی بھرتی کے لیے نظریاتی کیمپوں میں تبدیل کردیا ہے۔ان کو وہ حکمراں نظام سے تنازع نمٹانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح کی جماعتوں نے سعودی عرب میں انتہا پسند تنظیموں کے ذریعے یہی کام کیا ہے۔ابتدا میں انھوں نے اپنی سرگرمیوں کو خفیہ رکھا ۔ پھر وہ منظرعام پر آگئیں۔یہ یا تو پُرامن انداز میں کا م کرتی رہیں یا پھر انھوں نے مسلح دہشت گردی شروع کردی ۔

دونوں ممالک میں بہت سے خفیہ قتل ہوئے ہیں۔جب خمینی گروپ اوّل اوّل ایران میں وارد ہوا تو اس نے امریکیوں اور اعلیٰ سکیورٹی عہدے داروں کا قتل کیا تا کہ انھیں اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرسکے اورمیڈیا کے لیے ایسا مواد اس کے ہاتھ لگے جس کو عالمی منظر نامے میں استعمال کیا جاسکے۔

سعودی عرب میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ تب کوئی بھی ایران میں دہشت گردی کی کارروائیوں پر تنقید کی جرأت نہیں کرتا تھا کیونکہ ان ناقدین کو معاشرے کی جانب سے غدار کے لقب سے نواز اجاتا تھا اور سعودی عرب میں بھی ایسا ہوتا رہا تھا۔

1929 میں السبلہ کا معرکہ جدید ریاست کی تعمیر کے خواہاں ایک حکمراں اور ایسے لوگوں کے درمیان برپا ہوا تھا جو ایک ایسی حکمت عملی اپنانے کے خواہاں تھے جو مستقبل میں خمینی انقلاب کا روپ دھارنے والی تھی۔تاہم سعودی عرب کے بانی کو فتح حاصل ہوئی ۔اس فیصلہ کن لڑائی کے تین سال کے بعد انھوں نے ریاست کے ستونوں کو حتمی شکل دی اور مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی تھی۔

1979ء میں ایک انتہا پسند نے اپنے ہی ایسے دو سو سے زیادہ انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر مسجد الحرام پر قبضہ کرلیا تھا۔وہ ایرانی ماڈل کی تقلید میں سعودی عرب میں ایسا ہی ماڈل لانا چاہتا تھا۔ان کی مسجد الحرام میں کارروائی سے دس ماہ قبل ہی ایرانی ماڈل قائم ہوا تھا۔

1994ء میں البریدہ میں خمینی نظام کے تجربے کو دُہرانے کی ایک بڑی کوشش کی گئی تھی مگر اس کا استیصال کردیا گیا تھا۔2003ء میں بیک وقت دو متوازی خطوط پر اسی طرح کی کوششیں کی گئیں۔ ان میں ایک مسلح عملی کارروائی تھی اور دوسری نظریاتی محاذ پر جدوجہدتھی۔ان دونوں کا مقصد ریاست اور رائے عامہ کو دھوکا دینا تھا۔2011ء میں مصر اور بعض دوسرے عرب ممالک میں ’’عرب بہار‘‘ کے تناظر میں بڑے پیمانے پر اُتھل پُتھل کی یہ کوششیں کی گئی تھیں۔

ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ان چاروں مراحل میں حکومت کا طوائف الملوکی پھیلانے کی کوششوں سے نمٹنے کے لیے ردِ عمل کیا رہا ہے۔ حکومت نے نظریاتی انتہاپسندی سے رعایت برت کر بد امنی پھیلانے کی ان کوششوں کا سکیورٹی حل نکالا ہے جبکہ نو عشرے قبل السبلہ کے معرکے میں تو اس کا جامع استیصال کیا گیا تھا اور بالآخر 2017ء میں سعودی مملکت نے اسی آزمودہ علاج کو دوبارہ آزمایا تھا۔
______________

فارس بن حزام العربیہ نیوز چینل کے ایڈیٹر انچیف ہیں ۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند