تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نئے سعودی عرب کی ترجیحات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 10 ذیعقدہ 1439هـ - 23 جولائی 2018م
آخری اشاعت: بدھ 20 شوال 1439هـ - 4 جولائی 2018م KSA 17:31 - GMT 14:31
نئے سعودی عرب کی ترجیحات

شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو سعودی عر ب کی عنان ِاقتدار سنبھالے قریباًساڑھے تین سال ہوگئے ہیں۔مغربی ممالک کی جمہوریتوں میں روایتی صدارتی مدت سے یہ تھوڑا ہی کم عرصہ بنتا ہے۔ان کے دورِ حکومت میں گہری اور دور رس اثرات کی حامل سیاسی اور اقتصادی اصلاحات اور تبدیلیاں رو نما ہوئی ہیں۔ان اصلاحات کے اثرات سعودی عرب اور خطے سے ماورا بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔اس دورا ن میں دنیا بھر میں بھی بہت سے سیاسی تجربات ہوئے ہیں۔

سعودی عرب میں بڑی تیزی سے اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں نے ایک ایسی ریاست کے بارے میں تمام توقعات اور قیاس آرائیوں کو جھٹلا دیا ہے جس کو ایک طویل عرصے سے قدامت پسند اور روایتی قرار دیا جاتا رہا ہے۔حتیٰ کہ وہ ماضی میں کسی تبدیلی کی مزاحمت بھی کرتی رہی ہے۔

تبدیلی داخلی اصلاحات سے بڑھ کر ہوئی ہے اور نوجوانوں کو بااختیار بنا کر قدیم نظم ونسق کو بحال کیا گیا ہے۔سعودی عرب کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔خارجہ محاذ پر سعودی عرب نے اپنے دوست ممالک کے ساتھ ٹھوس اتحاد بنائے ہیں اور تمام ممالک کے ساتھ بے مثال فیصلہ کن انداز میں معاملہ کیا گیا ہے،درآں حالیکہ یہی ممالک پہلے سعودی دانش کی خاموشی پر نالاں ہوتے تھے۔

فیصلہ کن مرحلہ

شاہ سلمان نے جب تخت سنبھالا تو انھوں نے نئے خون کو نظم ونسق چلانے کے لیے آگے لانے کا فیصلہ کیا۔انھوں نے نوجوان شہزادے محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کیا ۔وہ اپنا یہ منصب سنبھالنے کے بعد سے سعودی عرب میں سب سے بااثر شخصیت بن چکے ہیں۔انھوں نے عالمی سطح پر بہت سے پیچیدہ اور مشکل امور نمٹائے ہیں۔

یہ ایک بہت ہی مشکل مرحلہ تھا اور درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت چوکنا ہونے کی ضرورت تھی۔یہ خطرات تین لہریں پھوٹ پڑنے کے بعد سے دوچند ہوچکے ہیں۔یہ لہریں تھیں:

اول ،منظم دہشت گردی ۔ دوم ،خطے کے بہت سے ممالک میں نام نہاد عرب بہار کے نتیجے میں عدم استحکام اور حکومتوں اور حکومتی نظاموں کا دھڑن تختہ ، ملیشیاؤں کا احیاء اور سوم ، خطے کے ممالک میں ایران کی مداخلت ۔ایران نے اپنے انقلاب کو برآمد کرنے کے لیے ہدف ممالک میں بحران پیدا کیے۔نیز ایران نے خطے کے ممالک میں فرقہ واریت کی بنیاد پر اپنے پروردہ حزب اختلاف کے مسلح گروپ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔اس کی سب سے بڑی مثال یمن کے حوثی باغی ہیں۔ایران کو اپنا اثرورسوخ جمانے کا اس لیے بھی موقع مل گیا کہ عالمی تنظیموں اور بڑی طاقتوں نے خطے کے شورش زدہ ممالک سے پسپائی یا لاتعلقی اختیار کرلی۔

گذشتہ برسوں کے دوران میں خطے میں بڑی سیاسی افراتفری دیکھنے کو ملی ہے اور نئے نئے چیلنجز پیدا ہوئے ہیں ۔ان سے نمٹنے کے لیے شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد کے ویژن کے مطابق پالیسی اور مختلف حکمت عملیاں وضع کی گئی تھیں ۔ان سب کے نتیجے میں تین بڑے راستے کھلے۔

سب سے پہلے تو خارجہ پالیسی کی سطح پر سعودی عرب کی ترجیحات کا از سرنو تعیّن کیا گیا۔ان میں سب سے اہم دہشت گردی کے خلاف جنگ تھی اور اس میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اس نے دہشت گردی اور ملیشیاؤں کی ہلاکت آفرینی اور تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دیا۔اس نے اس اتحاد میں اکتالیس عرب اور مسلم ممالک کو اکٹھے کیا اور یہ واضح کیا کہ ریاستی سکیورٹی اور استحکام کو ہدف بنانے والی دہشت گردی مملکت کی اوّل نمبر کی دشمن ہے۔ سعودی عرب دہشت گردوں کے حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والے ممالک میں سے ایک ہے۔

دوسراراستہ ایران کی مداخلت کے آگے کھڑے ہونا تھا اور اس کو نئی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایران نے سعودی عرب کے ہمسایہ ملک یمن میں حوثیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی اور انھیں ایک سیاسی بلاک سے ملیشیا میں تبدیل کردیا ۔اس وقت حوثیوں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کررکھی ہے۔ان کا مقصد سعودی مملکت کی سلامتی کو ہدف بنانا ہے اور وہ یمن میں سیاسی صورت حال کو ہائی جیک کرنے کے اقدام کو پختہ تر کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

سعودی عرب نے یمن میں ایرانی خواہشات کا سدباب کرنے اور اپنی تزویراتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے قانونی حکومت کے حق میں آپریشن فیصلہ کن طوفان کا آغاز کیا تھا۔اس کا مقصد یمن میں استحکام کی حمایت کرنا تھا۔سعودی عرب نے قطر اور اس کے خطرناک کردار کے خلاف بھی ایک مضبوط اور واضح پالیسی اختیار کی۔وہ قطر مخالف اتحاد میں چار ممالک پر مشتمل اتحاد میں شامل ہے۔

تیسرا راستہ ، دنیا کے بااثر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات ا ستوار کرنا تھا۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بیس سے زیادہ ممالک کے دورے کیے ہیں اور ایک سو سے زیادہ لیڈروں کی میزبانی کی ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دنیا کے اہم دارالحکومتوں کے دورے اس پر مستزاد ہیں۔ ان کے دورے محض سیاسی نوعیت کے نہیں تھے بلکہ انھوں نے تجارتی ، ثقافتی اور ٹیکنیکل شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے معاہدے کیے اور اتحاد بنائے ہیں۔

کامیابیاں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

سعودی عرب میں فیصلہ کن اور امن کے زمرے میں غیر معمولی سرگرمی بڑے پیمانے پر تبدیلی کے ویژن 2030ء کے تحت رونما ہوئی ہے۔سیاسی مراعات کے ذریعے اقتصادی ترقی کے اس ویژن کے تحت تمام شعبوں میں عالمی کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ علاقائی چیلنجز سے بھی نمٹا جار ہا ہے۔

ایک سال سے کچھ اوپر عرصہ ہوا ہے، شاہ سلمان نے مشرقی ایشیا کے چار اہم ممالک ملائشیا ، انڈونیشیا ، جاپان اور چین کا دور ہ کیا تھا۔اس دوران ہی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا کا دورہ کیا تھا او ر ان کی بات چیت کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پہلا غیرملکی دورہ سعودی عرب کا کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے الریاض میں قیام کے دوران میں تین سربراہ کانفرنسوں میں شرکت کی تھی۔پہلا سعودی ،امریکا سربراہ اجلاس ، دوم ،خلیج ،امریکا سربراہ کانفرنس اور سوم ،اسلامی، امریکی سربراہ کانفرنس ۔یہ ایک اہم دورہ تھا او ر کوئی بھی مبصر اس دورے کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔

خلیج کی سکیورٹی سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی اوّلین ترجیحات میں سے ایک ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ ہے اور وہ یہ کہ خطے کے سیاسی نظاموں کے درمیان اقتصادی مواقع ، تاریخ اور جغرافیے کی بنا پر گہری مشابہت ہے۔اس کا مظہر قطر کی پالیسیوں اور دہشت گردی کی حمایت ، انتہا پسند تنظیموں اور شخصیات کو پناہ دینے کے کردار کے خلاف سعودی عرب کا مضبوط مؤقف ہے۔بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک کے علاوہ قطر کے دُہرے معیار سے نقصان اٹھانے والے متعدد ممالک نے بھی سعودی عرب کے اس مؤقف کی حمایت کی تھی۔

سعودی عرب آج ’’ پیشگی اقدام‘‘ کا نعرہ بلند کررہا ہے۔وہ نوجوان خون کے ساتھ اپنے گھر کی تجدید کررہا ہے اور علاقائی ویژن کے متوازی بڑی سیاسی اصلاحات پر بھی عمل پیرا ہے۔چناں چہ اس نے یمن میں ایران کی مداخلت اور خلاف ورزیوں سے فیصلہ کن انداز میں نمٹنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔

مذکورہ بالا ان تمام اقدامات کی بدولت سعودی عرب مذاکرات کی میز پر اعلیٰ قدری پتے اپنے انداز میں کھیلنے کا حامل ہوگیا ہے۔اس نے عرب دنیا کے سب سے اہم ملک مصر میں استحکام میں اہم کردار کیا ہے۔اردن کے اقتصادی بحران کو حل کرنے میں مدد دی ہے ، بحرین میں استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہےاور برائی کے محوروں : دہشت گردی ، انتہا پسند تنظیموں اور ان کے پشتیبان ممالک سے بھی نمٹ رہا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند