تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فتوے اور ان پر کنٹرول
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 12 ربیع الاول 1440هـ - 21 نومبر 2018م
آخری اشاعت: پیر 25 شوال 1439هـ - 9 جولائی 2018م KSA 22:56 - GMT 19:56
فتوے اور ان پر کنٹرول

بنیاد پرست گروپ اکثر وبیشتر مذہبی تعلیمات کی اپنے مقاصد کے مطابق سیاق وسباق سے ہٹ کر تشریح و توضیح کرتے رہتے ہیں۔وہ دینی مواد کا معروضی معانی سے ہٹ کر اپنی مطلب برآری کا مفہوم اخذ کرتے۔ پھر اس کا حالات و واقعات کے مطابق اطلاق کرتے ہیں اور اس کو دوسروں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

مذہبی متون کا مقصد برآری اور من پسند فتاویٰ کے اجرا کے لیے استعمال اسلامی تحریکوں کے لیے ناگزیر رہا ہے۔مصر کے سابق صدر انور السادات کا قتل ، ناول نگار نجیب محفوظ کے قتل کی کوشش ، الجزائر میں مسلح اسلامی گروپ کے ہاتھوں قتلِ عام ،القاعدہ اور داعش کی تمام فدائی کارروائیاں ان فتاویٰ ہی کی بنیاد پر کی گئی تھیں جنھیں دہشت گردوں نے اپنے مقاصد کے لیے جاری کیا تھا۔

اس طرح فتاویٰ جاری کرنے کی یہ حکمت عملی دراصل اپنے تشدد آمیز اقدامات کے متنی جواز کی تلاش کے لیے ہوتی ہے۔یہ جہاد کی اساس سے متصادم اور مسلم علماء کے فقہی مسئلہ کے استنباط کے طریق کار کے بھی منافی ہے۔نیز یہ جدید ریاست اور شہریت کے تصور کے بھی خلاف ہے۔ریاست کا یہ تصور ادارہ جاتی کام اور قوانین کے مطابق اس کو منظم کرنے کے اصول پر مبنی ہے۔پھر ان قوانین کا سب پر یکساں اطلاق کیا جاتا ہے۔یہی ایک شہری ریاست کا سب سے اہم حوالہ ہے۔

بہت سے ممالک اس وقت فتاویٰ کے اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور انھیں ادارہ جاتی سطح پر منظم کرنے کے لیے کام کررہے ہیں تاکہ متشدد گروپ اور مذہبی اہلیت نہ رکھنے والے لوگ ان مذہبی فتاویٰ کا غلط استعمال نہ کرسکیں۔

فتاویٰ کے غلط استعمال سے بچاؤ

گذشتہ جون میں متحدہ عرب امارا ت کی وزارتی کونسل نے شیخ عبداللہ بن بیہ کی سربراہی میں امارات فتویٰ کونسل کے قیام کی توثیق کی تھی۔اس میں خواتین سمیت متعد د ماہرین شامل ہوں گے۔

شیخ بن بیہ مذہبی ماہر ہونے کے ساتھ فقہ کے ارتقاء پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔وہ حالات ِ زمانہ کی رعایت سے مذہبی فیصلوں پر اثرات کے بارے میں بھی گہرا ادراک رکھتے ہیں۔مزید برآں وہ انتہا پسندی سے کوسوں دور ہیں اور زیادہ روادار اور کھلے مذہبی مباحثے و بیانیے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ مسلم معاشروں میں امن کے فروغ کے لیے کام کرنے وا لے فورم کے صدر ہیں۔یہ فورم فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کام کررہا ہے۔

اس کونسل سے قبل شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کی سربراہی میں مسلم زعماء کی ایک کونسل قائم کی گئی تھی۔ان تمام اداروں کے قیام کا مقصد فقہ اور مذہبی مباحثے کو قرونِ اولیٰ اور عرب معاشروں کی جدید شہری ریاستوں میں تبدیلی کے تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔

اسلام کو انتہا پسندوں کے ہاتھ سے بچانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس کے لیے وسیع جامع سیاسی اور سفارتی کام کی ضرور ت ہے۔

متحدہ عرب امارا ت کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے حال ہی میں ویٹی کن کا دورہ کیا تھا اور پاپائے روم پوپ فرانسیس سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے مذاہب کے درمیان مکالمے ، روا داری وبرداشت کی اقدار اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

یہ تمام کام اسلام کی ایک کھلے دین کی حیثیت سے بحالی کے لیے کیا جارہا ہے ،ایک ایسا انسانیت پسند اسلام ، جو مختلف نظریات کے حاملین کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاتا ہے بلکہ مختلف مذاہب اور کمیونٹیوں کے درمیان ایک مشترکہ جگہ بنتا ہے تاکہ دنیا میں تنازعات اور جنگوں کے خطرات سے بچا جاسکے۔

گذشتہ عشروں کے دوران میں خلیجی عرب ممالک اپنے مختلف عناصر ترکیبی کے لیے بقائے باہمی اور ہم آہنگی سے رہنے کی جگہ بن چکے ہیں۔اس لیے فتاویٰ کے غلط استعمال ،ان سے پیدا ہونے والی ابتری اور معاشرے کو غیر اخلاقی اور بے راہ روی کا الزام دینے کے رجحان سے بچاؤ ضروری ہے۔اس مقصد کے لیے مستقل بنیاد پر اقدامات اور شہریوں اور حکومت کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
_________
حسن المصطفیٰ سعودی صحافی ہیں ۔ مشرق ِ اوسط اور خلیج کی سیاست ان کی دلچسپی کا بڑا موضوع ہے۔ وہ سوشل میڈیا ، عرب نوجوانوں کے امور اور مشرقِ اوسط کے معاشرتی امور ایسے موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں۔ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ یہ ہے:@halmustafa.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند