تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وہ محمد بن سلمان سے مَحبَّت کیوں کرتے ہیں ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 12 ربیع الاول 1440هـ - 21 نومبر 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 28 شوال 1439هـ - 12 جولائی 2018م KSA 23:32 - GMT 20:32
وہ محمد بن سلمان سے مَحبَّت کیوں کرتے ہیں ؟

’’ہم تنہا اکیلے آگے نہیں جاسکتے ہیں ،ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ خواب کو آگے لے جانے کے قابل ہو‘‘۔مجھے لندن میں ایک نوجوان نے کم وبیش یہی الفاظ کہے تھے۔اس کی مجھ سے ایک ہوٹل کی لابی میں ملاقات ہوئی تھی۔

میں نے سعودی مملکت کے ویژن 2030ء کے اعلان کے بعد سعودی نوجوانوں میں جوش وجذبہ اور ہیجان دیکھا ہے۔ اس سے پہلے بھی جوش وجذبہ دیکھا تھا مگر وہ اس سے قبل ختم ہوا چاہتا تھا۔

میں نے جب کولمبیا یونیورسٹی میں دسمبر 2017ء میں ایک لیکچر دیا تھا ، تو یہ نکتہ ہرسوال میں پنہاں نظر آیا تھا کہ عرب نوجوان اور بالخصوص سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے نوجوان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے محبت کیوں کرتے ہیں ؟

جہاں تک میری نسل کے لوگوں کا تعلق ہے تو ہم شاید خود کو کنفیوژ اور غصے کا شکار پائیں کیونکہ ہماری زندگیوں کے کئی قیمتی سال مذہبی اور قومیت پرستی کی تحریکوں اور جنگوں کی نذر ہوگئے تھے۔پھر یہ جنگیں ایک اور نئی جنگ کے آغاز پر منتج ہوتی تھیں ۔البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خلیج میں ہم دوسرے عرب ممالک کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور بہتر فلاح وبہبود کے حامل تھے لیکن ہم کسی خواب کے بغیر ایک فاصلے پر سروقد کھڑے تھے ۔ہم اس لیے بھی قد نکالے کھڑے تھے کہ ہمارے طلبہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جاتے تھے۔ہم نے ریتلے میدانوں میں شاہراہیں بنائیں ۔ہم اس امید میں عربی فلمیں دیکھا کیے کہ ہمارے پاس بھی ایسی سکرینیں ہوں گی جن پر ہم اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو دیکھ سکیں گےاور پھر خود کو دیکھ سکیں گے۔ ہم فنون میں یقین رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں ۔ہم خاموشی سے محبت کرتے تھے،خاموشی سے چلنے اور ہر کسی سے ایک فاصلے پر رہنے کے عادی ہوگئے تھے۔ہم ایسا گھر تعمیر کررہے تھے جہاں خواب زندہ رہ سکے۔ ایک ایسا خواب جو محمد بن سلمان کے ساتھ اُبھرا ہے۔

1745ء میں وفات پا جانے والے آئرش طناز جوناتھن سوئفٹ نے ایک مرتبہ کہا تھا:’’ ویژن (چیزوں کو )دیکھنے کا ایک ایسا فن ہے جو دوسروں کو دکھائی نہیں دیتا ہے‘‘۔تاریخ کے ظہور کے بعد سے خواب دیکھنے کی صلاحیت کا تسلسل جاگنے اور آدمی کو بااختیار بنانے کے لیے جاری ہے ۔روشن دماغ وہ ہیں ، جو پیداواریت ، محنت اور لگن میں نعمت ڈھونڈتے ہیں ،نہ کہ ہڈحرامی اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ رہنے میں ۔

ایک ایسے آدمی کے عزم کے سوا کچھ بھی درست نہیں ہے جو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے اپنے دفتر میں بیٹھ رہتا ہے۔پھر مسکراتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’ ہم آگے جاسکتے ہیں ، ہمارے پاس ہرچیز ہے۔اللہ نے ہمیں ایسے فطری مناظر سے نوازا ہے جن کو ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے۔ہم عجائب گھروں پر سرمایہ کاری کیوں نہیں کرتے ہیں؟ ہم کس کے لیے خوب صورت مناظر اور شاندار جزیرے چھوڑے جا رہے ہیں؟ہم کب تک تیل پر انحصار جاری رکھیں گے جبکہ دنیا کی ہر چیز ہمارے پاس موجود ہے؟ ہم اپنی زندگی کے بہترین برسوں کو یرغمال بنانے کی کوشش نہیں کرنے دیں گے‘‘۔

محمد بن سلمان نے چیلنجز کو دیکھا ،ان کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر تیزی سے پیش رفت کی۔یہ ایک ایسے شخص کا سفر ہے جس کے خواب کا راستہ موت کے سوا کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ترکی الدخیل ہم ان سے محبت کیوں نہیں کرسکتے ؟ اس نوجوان سعودی نے مجھ سے کہا تھا۔

آپ عرب اور خلیجی نوجوانوں کو ولی عہد شہزادے سے محبت پر مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ہمارے عرب ممالک 1960ء کے عشرے سے جہد آزما ہیں ۔خطے میں چند ایک مستثنیات ہیں اور انھیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ وہ طوائف الملوکی اور انارکی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں کیونکہ ان جمہوریاؤں میں ابتری کا دور دورہ ہے۔بعض ممالک کی بہار خزاں کا روپ دھار چکی ہے اور تشدد سے صرف مزید تشدد ہی جنم لے رہا ہے۔شام کی طرف دیکھیے جہاں ہر روز ہلاکتوں کی خبروں پر بندہ پریشان ہو کر رہ جاتا ہے۔

یہ سب اس لیے رونما ہورہا ہے کہ ایک ایرانی مولوی نے عرب دنیا کا نرم گوشہ دیکھا اور وہاں شمال اور جنوب سے نقب لگائی۔ وہ عرب دنیا کے سب سے ’’قدیم گھر‘‘ یمن کو بھی چھین لینا چاہتا ہے۔اس نے صعدہ میں جہلاء کی ملیشیا کو مسلح کیا لیکن صرف قبرستان کی آبادکاری کے لیے۔ جیسا کہ محمد بن سلمان بیان کرتے ہیں ،یمن ہر عرب کی اساس ہے۔انھوں نے یمن کو مسلح افواج مہیا کیں اور وہ اس ملک کو علی خامنہ ای کے تخریبی گند اور ان کی بھوت باقیات سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔

بدعنوانی کے خلاف جنگ

سعودی عرب میں ہر کوئی محمد بن سلمان سے محبت کرتا ہے۔اس کا سبب ان کی بدعنوانی کے خلاف جنگ ہے۔اس سے وہ بہت سے لوگ حیران و پریشان ہوئے تھے جو انھیں جانتے نہیں تھے ۔اس سے ان لوگوں کو بھی ان کے ارادو ں کی تصدیق ہوئی تھی جو یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی خواہشات بادی النظر سے بھی بلند تر ہیں۔جہاں دوسرے لوگوں کو کچھ حاصل کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ لگ جاتا ہے ، وہاں محمد بن سلمان کو بہت کم وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ ان تمام امور کو مختصر وقت میں طے کرسکتے ہیں ، یہ ان کا حق ہے کہ وہ خواب دیکھیں اور اپنی طرف بڑھنے والے خواب کو بھی دیکھیں ۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی لکھاری ڈیوڈ اگنیشئس سے انٹرویو میں کہا تھا:’’ آپ کے پاس ایک ایسا جسم ہے جس میں ہر جگہ سرطان ہے ، بدعنوانی کا سرطان ۔اس کے خاتمے کے لیے آپ کو کیموتھراپی کرانا ہوگی اور بجلی کے جھٹکے لگوانا ہوں گے۔نہیں تو پھر سرطان پورے جسم ہی کو کھا جائے گا‘‘۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ لوٹ کھسوٹ کو روکے بنا سعودی عرب اپنے بجٹ اہدا ف کو پورا نہیں کرسکتا ہے۔

شہزادہ محمد نمبروں ، اعداد وشمار کے شوقین ہیں ۔یہ نمبر جھوٹ نہیں بولتے اور ان کے ساتھ ملمع کاری بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔وہ نمبروں کا حوالہ دیتے ہیں اور ان کی بنیاد پر دوسروں کو قابل احتساب گردانتے ہیں ۔ ان کے بارے میں طرف داری سے کام لیتے ہیں ، بالکل ایک قانون پسند شخص کی طرح جو قوانین اور قواعد وضوابط پر اعتبار کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب اسدعا برسن مارس ٹیلر کے دسویں سالانہ عرب یوتھ سروے میں عرب نوجوانوں سے ان کے بارے میں سوال پوچھے گئے تو اعداد ان کے حق میں تھے۔اس سروے کے نتائج کے مطابق 90 فی صد سعودی نوجوان اور 60 فی صد عرب نوجوان محمد بن سلمان کو ایک با اثر اور مضبوط رہ نما سمجھتے ہیں اور وہ مستقبل میں خطے میں اثرانداز ہونے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں ۔

یہ کوئی عام سروے نہیں تھا بلکہ اس میں 18 سے 24 سال کی عمر کے ساڑھے تین ہزار سعودی نوجوان مرد وخواتین سے سوالا ت پوچھے گئے تھے۔یہ سروے 16 عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے بالمشافہ کیا گیا تھا۔

میں جب کبھی شہزادہ محمد بن سلمان کی خواہشات کو دیکھتا ہوں تو میرا لندن کے ہوٹل کی لابی میں ملنے والے ہنستے مسکراتے نوجوان کی دیانت داری پر یقین مزید پختہ ہوجاتا ہے۔اس نے کہا تھا:’’ہم اس کام کو تنہا نہیں کریں گے بلکہ ہمیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو خوابوں کا حقیقت کا روپ دے سکتا ہو‘‘ ۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند