تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
درعا کی جنگ کا کوئی اُفق نہیں !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 9 محرم 1440هـ - 20 ستمبر 2018م
آخری اشاعت: ہفتہ 1 ذیعقدہ 1439هـ - 14 جولائی 2018م KSA 10:32 - GMT 07:32
درعا کی جنگ کا کوئی اُفق نہیں !

شام کے صوبےدرعا میں جاری جنگ نے یہ ثابت کہا ہے کہ روس ، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنوبی شام کے بارے میں گہرا سمجھوتا پایا جاتا ہے۔اس سمجھوتے کے نتیجے میں ایران سے وابستہ فوجیوں کو اس جنگ میں شرکت کی اجازت مل چکی ہے۔وہ اردن کی سرحد تک پہنچنا اور نصیب بارڈر کراسنگ کو کھولنا چاہتے ہیں۔یہ فوجی اس جنگ میں سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی وردی میں ملبوس ہیں اور لبنانی اور عراقی ملیشیاؤں کے ارکان شامی فوج کی وردی میں ملبوس ہوکر لڑرہے ہیں ۔شامی فوج کو اس وقت انسانی وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔

یہ سمجھوتا نئے انتظامات پر مبنی ہے جس کے تحت جنوبی شام کو دو علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک جنوب مغربی شام کہلاتا ہے ۔یہیں ایرانی ملیشیاؤں کو اسد ی فورسز کی حمایت میں لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔انھیں روس کی فضائی مدد حاصل ہے۔اس روسی بمباری نے شام کے شہر اور قصبے تباہ کردیے ہیں ۔اس صورت حال میں حزبِ اختلاف کے پاس صرف ایک آپشن رہ گیا ہے اور وہ ایک ایسے حل پر متفق ہونا ہے جس کا بظاہر فائدہ شامی رجیم (نظام ) ہی کو پہنچے گا۔

شام کے بارے میں اسرائیلی مؤقف

مختصر یہ کہ جنوبی شام میں ایک کھیل کھیلا جارہا ہے۔اس کھیل کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ اسرائیل کے نزدیک نہیں آنا اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ 1967ء سے اس کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں کا ایشو حتمی ہے۔اسی لیے جنوبی شام کے ایک علاقے کو دوسرے علاقے سے جدا کیا جارہا ہےاور کسی کو بھی جنوب مغربی علاقے اور گولان کے نزدیک آنے سے روک دیا گیا ہے۔یہ محاذ ہی دراصل موجودہ شامی رجیم کے 1967ء کی جنگ کے زمانے سے موجود رہنے کا سبب رہا ہے۔ تب حافظ الاسد شام کے وزیر دفاع تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان 15 جولائی کو ماسکو میں فٹ بال کے عالمی کپ کے فائنل میچ کے بعد 16 جولائی کو ہیلسنکی میں سربراہ ملاقات ہوگی۔ہم اس ملاقات اور اس کے نتائج کے منتظر ہیں ۔ بظاہر اس کے حوالے سے ایک ہی سچ سامنے آیا ہے اور وہ اسرائیل کا یہ کھلا اعلان ہے کہ وہ شامی جرائم سے جڑا ہوا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ شام میں ایرانی چوکیوں پر فضائی حملے روک دیے گئے ہیں۔

اس کے برعکس گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں اسرائیل نے فضائی حملے کیے ہیں جبکہ ایران سے وابستہ ملیشیائیں شامی رجیم کی حمایت میں اپنے جنگجوؤں کی جانوں کے نذرانے پیش کررہی تھیں ۔ان کے جانی نقصان کی بدولت ہی شامی رجیم یہ سمجھتا تھا کہ وہ درعا کی جنگ میں ایک فاتح کی حیثیت سے ابھر رہا تھا۔

دریں اثنا ء روس نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہی صرف ایک ایسا فریق ہے جو اس بہت ہی پیچیدہ کھیل کے انتظام کی صلاحیت کا حامل ہے۔یہ کھیل اسرائیل اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک سمجھوتے کی بنیاد پر کھیلا جارہا ہے اور شامی فوج میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو استعمال کیا جارہا ہے۔

روس اس کھیل کے انتظا م میں ہر طرح سے فائدے میں رہا ہے۔اس نے ایک فائدہ تو اس طرح اٹھایا کہ شامی رجیم کے لیے ایران سے وابستہ فرقہ پرست ملیشیاؤں کا انتظام کیا جبکہ وہ دوسری جانب اسرائیل سے تعاون کرکے بھی فائدے میں رہا ہے ۔ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک ڈیل کے لیے بھی کام کررہا ہے اور صدر ٹرمپ کے بارے میں تو یہ بات مشہور ہے کہ وہ صہیونی ریاست کی کسی بھی درخواست کو رد نہیں کرتے ہیں ۔

کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ شامی رجیم کا بھی کوئی مستقبل ہے؟شامی رجیم کے مستقبل پر بات کرنے سے قبل ہمیں یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ایران نے دمشق میں حتمی اور حرف آخر کا درجہ پانے کی کوشش کی ہے ۔پھر وہ اس نظریے سے خود ہی مجروح ہوا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

جی ہاں! ایران لبنان کی فرقہ پرست ملیشیاؤں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔وہ عراقی ملیشیاؤں کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔تاہم یہ ایک پہلو ہے اور بشار الاسد کو بچانے کے لیے روس کا استعمال چیزے دیگر است۔ولادی میر پوتین نے ستمبر 2015ء میں اپنے لڑاکا جیٹ حمیمیم کے فوجی اڈے پر بھیج کر دراصل بشارالاسد کو بچا لیا تھا۔انھوں نے یہ اقدام ایران سے سبز جھنڈی کا اشارہ ملنے سے قبل نہیں کیا تھا۔یہ کوئی سربستہ راز نہیں کہ روس کے لڑاکا جیٹ اللاذقیہ میں واقع حمیمیم کے فوجی اڈے پر پہنچنے سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے ماسکو کا دورہ کیا تھا۔

درعا کی اہمیت

شام میں جاری جنگ میں ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔روس کی مداخلت کے نتیجے میں ایران کو بھی ایک قیمت چکانا پڑی ہے ۔اس قیمت میں ایک جانب تو اسرائیل کے مفادات کو تسلیم کرنا تھا اور دوسرے جانب اس کے روس کے ساتھ گہرے تعلقات کو ملحوظ رکھنا تھا۔اسرائیل ایران سے قبل روس سے ہوکر گذرتا ہے۔

ان تمام باتوں سے اہم روس اور امریکا کے تعلقات کا مستقبل ہے۔روسی کسی اور سے قبل یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اگر امریکا شامی حزب اختلاف کو براہ راست آگاہ نہ کرتا کہ اس کو درعا میں ہتھیار ڈالنا ہوں گے اور یہ کہ اس کو و اشنگٹن کی کسی امداد پر انحصار نہیں کرنا چاہیے تو اس کے بغیر جنوب مغربی شام میں جنگ اتنی آسان نہ ہوتی۔

لیکن روس ، ایران اور شامی رجیم نے جس چیز کو نظر انداز کیا ہے ،وہ یہ کہ درعا اور اس کے نواحی علاقے ان کے لیے کوئی آسان تر ترنوالہ ثابت نہیں ہوں گے۔درعا ہی وہ شہر ہے جہاں شامی انقلاب نے جنم لیا تھا۔درعا ہی وہ علاقہ ہے جہاں حافظ الاسد کے قائم کردہ رجیم کو سب سے پہلے دھچکا لگا تھا اور یہیں سے انھوں نے سُنیوں پر اعتبار کرنا شروع کیا تھا۔ درحقیقت حافظ الاسد شام کے بڑے شہروں میں اہلِ سنت سے نفرت کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انھیں یہ بھی تشویش لاحق تھی کہ ان کے رجیم کی علویت کو سُنیوں کےساتھ کیسے ملایا جلایا جاسکتا ہے اور عیسائی اور اسماعیلی اقلیتوں کے ساتھ کیسے معاملہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ تصور دشوار ہے کہ درعا ایسے علاقے میں شامی نظام کا کیا مستقبل ہوگا کیونکہ اس علاقے میں ابھی تک خاندانی تعلقات وروایات ہر چیز پر بالاتر ہیں۔درعا اور اس کے نواحی علاقوں میں قبائلی معاشرت ہے اور یہ معاشرت اردن تک پھیلی ہوئی ہے۔اس علاقے میں مقیم قبائل کی شاخیں اردن میں بھی آباد ہیں ۔یہ خاندانوں آپس میں گہرے مراسم ہی نہیں بلکہ انتقام کی روایت کے لیے بھی مشہور ہیں۔

اسد رجیم درعا میں فتح کے ڈونگرے برسانے اور فتح کا نشان بلند کرنے کو ہے۔ شامیوں کے خلاف یہ فتح ایرانی ملیشیاؤں ، روس کی فضائی بمباری اور امریکیوں اور اسرائیلیوں کے اتحاد کی مرہونِ منت ہے۔درعا کے شہریوں کے خلاف جیت تو حاصل کی جاچکی لیکن اس فتح کا کوئی اُفق نہیں ہے۔اس فتح کو سرد جنگ کے زمانے میں مشرقی یورپ کے ممالک کے خلاف سوویت ٹینکوں کے ذریعے حاصل کی جانے والی فتوحات کے مشابہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ہنگری ، پولینڈ ، مشرقی جرمنی ، رومانیہ ، بلغاریہ اور چیکو سلواکیہ میں سوویت قبضے کی کیا باقیات رہ گئی ہیں ؟ چیکو سلواکیہ تو دو ممالک جمہوریہ چیک اور سلواک میں بٹ چکا ہے۔

آج کس کو یاد ہے اور کون جانتا ہے کہ ماسکو سے بھیجے گئے ٹینکوں نے 1956ء میں بڈاپسٹ میں عوامی مزاحمت ، 1968 میں پراگ میں بہاریہ تحریک اور 1980ء کے عشرے میں پولش عوام کے انقلاب کو کچلا تھا؟ یہ تو چند ایک مثالیں ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایک ٹینک اور ایک لڑاکا جیٹ جو کچھ کرسکتا ہے،اس کی کچھ تحدیدات بھی ہیں۔سادہ سی بات ہے۔شام میں اسد رجیم کا دور لد چکا۔یہ رجیم روسی طیاروں ، ایران کی پروردہ ملیشیاؤں اور درعا کی جنگ میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے بشارالاسد کو ہر طرح کی امداد ملنے کے باوجود دوبارہ اٹھ نہیں سکے گا۔

شام میں کچھ ٹوٹ چکا ہے اور وہ اسد نظام ہے۔اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے اور ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ تمام شام کو تباہ کرسکتا ہے لیکن یہ تمام شامی عوام کا استیصال نہیں کرسکتا ،خواہ اسرائیل اس کے لیے تمام متناقضات کو ایک جگہ اکٹھا کردے اور امریکی کوریج مہیا کرے، مگر اس کے باوجود وہ تمام شامیوں کو ختم نہیں کرسکتا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند