تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
چین کا ایران سے خلیج کی جانب رُخ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 4 ذوالحجہ 1439هـ - 16 اگست 2018م
آخری اشاعت: پیر 3 ذیعقدہ 1439هـ - 16 جولائی 2018م KSA 20:02 - GMT 17:02
چین کا ایران سے خلیج کی جانب رُخ

جعلی معلومات پر انحصار کرنے والے ٹویٹر کے بعض پُرجوش لکھاری بند گلی میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ بعض گروپوں نے پہلے ایک جعلی خبر گھڑی اور پھر اس کی تشہیر کردی ۔اس کا مقصد سوشل میڈیا کے مباحث کا رُخ موڑنا تھا۔

ایک ٹویٹ میں لکھا تھا:’’ چینی اپنی رقوم اور فورسز کے ساتھ آ رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پوتین جہنم میں جائیں‘‘۔یہ درست ہے کہ چینی خلیج کے خطے میں آرہے ہیں اور وہ اس کی اقتصادی اور سیاسی قدر میں اضافہ کریں گے لیکن پوتین اور ٹرمپ بھی خطے میں علاقائی توازن کے لیے موجود رہیں گے۔

چین امریکا اور روس کی طرح نہیں ہے کیونکہ وہ کوئی جارحانہ خارجہ پالیسی نہیں رکھتا ہے اور وہ جنگوں کا حصہ بھی نہیں بننا چاہتا ہے۔چین ہمارے خطے میں اپنی گماشتہ طاقتوں کو بروئے کار لانے کی پالیسی بھی نہیں رکھتا ہے ۔اس سب کے باوجود وہ ایک بڑا ملک ہے اور اس کے اس خطے میں تیل سمیت بہت سے مفادات وابستہ ہیں۔یہ خطہ اس کے لیے ایک اہم شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اورا س کو اس بات پر تشویش لاحق ہے کہ یہ علاقائی یا بین الاقوامی طاقتوں یا غیر ریاستی عناصر کی پیدا کردہ افراتفری اور طوائف الملوکی کے کنٹرول میں ہے۔

چین کی عملیت پسندی

اگرچہ چین کسی خاص محل وقوع کا حامل نہیں ، مگر اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ اس کا کوئی کردار ہی نہیں ہے۔وہ ایک اقتصادی طاقت کی حیثیت سے وجود رکھتا ہے اور وہ ہتھیاروں کے بغیر اپنے مفادات کا دفاع کرنا چاہتا ہے۔جیسا کہ وہ پاکستان اور افغانستان میں کررہا ہے۔

چین کی پالیسی حقیقت پسندانہ ہے۔امریکا کے ایران کے ساتھ تنازعے کے دوران میں اس نے واشنگٹن کی حمایت نہیں کی تھی۔وہ ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے بھی دستبردار نہیں ہوا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ اس نے ایران کے تیل پر انحصار کم کرنے کا فیصلہ کیا اور تیل کی خرید کے لیے متبادل کے طور پر سعودی عرب سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔اس سے ایران کو یقیناً سخت دھچکا لگے گا۔

سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس پر پھیلائی گئی یہ خبر کہ چین کویت کے دو جزیروں میں نصف ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا،ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ جو لوگ اعداد وشمار کی زبان کو سمجھتے ہیں ، ان کے لیے یہ رقم نہ صرف غیر عقلی ہے جبکہ چین نے درحقیقت خطے کے پانچ ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے بیس ارب ڈالرز سے زیادہ مختص کیے ہیں ۔

دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ چین اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ وہ کسی جگہ فوجی مداخلت کا مخالف ہے اور اس نے صرف مچھلیاں پکڑنے والے جہا ز اور مال بردار جہاز بھیجے ہیں۔نصف ٹریلین کی رقم دراصل بیجنگ نے اپنے ملک کے اندر مختلف منصوبوں کے لیے مختص کی ہے۔ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین ہماری طرف مرحلہ وار تعاون بڑھانے کے لیے آرہا ہے تاکہ دوطرفہ تعاون کے مواقع کو بہتر بنایا جاسکے اور ہمارے لیے آپشنز کو بڑھایا جاسکے۔

چین کے ساتھ سلسلۂ جنبانی کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ یہ سیاست دانوں کے چین کے ساتھ مسلسل روابط اور تعلقات کا نتیجہ ہے۔اس ضمن میں سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا گذشتہ برسوں میں چین کا دورہ ایک نمایاں قدم تھا۔اس دورے میں دوطرفہ جامع تعاون کے سمجھوتوں پر دست خط کیے گئے تھے۔چینی صدر شی جین پنگ اپنے دوبارہ انتخاب کے بعد متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے اور یو اے ای انھیں خوش آمدید کہنے کے لیے شدت سے منتظر ہے۔اس دورے سے قبل بیجنگ نے گذشتہ ہفتے امیرِ کویت کا شاندار خیرمقدم کیا تھا۔

معیشت خلیج کی طاقت ہے اور چین کی جانب شاہراہ اس کا دل اور ذہن ہے۔یہ دوسرے وعدے وعید کے علاوہ ایک طرح کی شراکت داری ہے۔ہمیں اس سے تشویش نہیں ہونی چاہیے کہ ایرانی اس تعلق داری کو کیسے دیکھتے ہیں۔ چین اب سعودی عرب اور خلیج کی جانب آرہا ہے اور وہ ایران کے تیل پر انحصار کم کررہا ہے جبکہ پہلے یہی ملک اس کے لیے تیل کے حصول کا پہلا ذریعہ تھا۔ اس سے ایران اور اس کی فورسز غصے میں ہیں ۔ایرانی اس پیش رفت کو ایک مختلف منطق کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ اقتصادی طور پر گھٹن کا شکار ہیں،فوجی طور پر شکست خوردہ ہیں اور سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہیں۔

ایران ہر کسی سے یہ توقع نہیں کر سکتا کہ وہ اس کے آگے جھکے گا جبکہ وہ تباہی اور تخریب کار ی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ان سے صدر ٹرمپ کے ایرانی کمانڈ کی باغیانہ روش کا ٹھٹھا اڑانے سے متعلق بیانات کی بھی تائید ہوتی ہے اور وہ اب معنی خیز نظر آتے ہیں ۔

چناں چہ چین ایران کے تیل سے دستبردار ہوجاتا ہے اور خلیج کے تیل کی خریداری کے لیے رجوع کرتا ہے تو ہم اس کو ایک اہم شراکت دار کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں ۔چین کے ساتھ کاروباری معاملات اور تعلق داری میں اضافے سے اس ملک کے بین الاقوامی بیلٹ اور روڈ اقدام سے ہم آہنگ ہونے میں بھی مدد ملے گی۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند