تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فلسطینی کاز کھودینے والے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 4 ذوالحجہ 1439هـ - 16 اگست 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 20 ذیعقدہ 1439هـ - 2 اگست 2018م KSA 17:14 - GMT 14:14
فلسطینی کاز کھودینے والے!

1940ء کے عشرے میں جب دنیا ہٹلر کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی تو فلسطینی لیڈر الحاج امین الحسینی نے دنیا کے برعکس ہٹلر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جرمن نازی 1945ء میں شکست سے دوچار ہوگئے اور جنگ کے فاتحین نے ریاستِ اسرائیل کے قیام میں مدد وحمایت کی تھی۔

1956ء میں اسرائیل ، برطانیہ اور فرانس کے سہ فریقی اتحاد نے نہر سویز پر جارحیت کی تو امریکی صدر آئزن ہاور نے مصر کا ساتھ دیا اوراس سہ فریقی جارحیت کو رکوا دیا تھا ۔ مصر کے صدر جمال عبدالناصر اس جنگ میں اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہے تھے مگر انھوں نے بعد میں امریکا سے مُنھ پھیر لیا اور روس کے اتحادی بن گئے تھے۔اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے پھر’’ تل ابیب ،واشنگٹن ‘‘ ہائی وے کا افتتاح کیا کیونکہ وہ اس بات میں یقین رکھتے تھے کہ اسرائیل کا مستقبل واشنگٹن کے ساتھ وابستہ ہے، لندن کے ساتھ نہیں ۔

یہ سیاسی انتخاب قابض ریاست کے قیام اور توسیع میں فیصلہ کن ثابت ہوئے تھے۔یہ کوئی سعودی عرب کے انتخاب نہیں تھے بلکہ یہ ان کے انتخاب تھے جو فلسطین کے اندر اور باہر اس کے امور کے براہ راست ذمے دار تھے۔ الحاج امین الحسینی اور صدر جمال عبدالناصر نے تصوراتی فتح کا ساتھ دینے کا انتخاب کیا تھا۔

تب عرب ازم (عربیت) کی آوازیں بہت بلند آہنگ تھیں اور وہ جارح درانداز کو نکال باہر کرنا چاہتی تھیں۔عربوں کی زبان میں فتح پُرعزم استقامت کا دوسرا نام ہے۔یہ شکست کے بعد حاصل ہوتی ہے لیکن یہاں صرف نقصان کا اعادہ کیا گیا ۔چناں چہ عربوں کی اپنے انداز میں فتح کی تخلیق میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی گئی تھی۔شکست کو فتح کا نام دینا ان بدترین چیزوں میں سے ایک ہے جن کے ساتھ رہا جاسکتا ہے۔

یہ اتنی ہی خطرناک ہے جتنا سرطان کا مرض ہمارے جسم کے لیے ضرررساں ہے۔البتہ جوہری فرق یہ ہے کہ یہ فتح تمام طاقت کو کنٹرول کرتی ہے اور پھر رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال دیتی یا سرنگوں ہوجاتی ہے۔اس کو جو چیز مزید تقویت دیتی ہے، وہ شکست سے انکار اور دوسروں کو ندامت کا احساس دلانا ہے۔شکست کی فتح ایک بہت ہی خطرناک چیز ہے ،حتیٰ کہ انسانی سوانح عمریوں کی بدترین شمار کی جانے والی تاریخی کتب میں بھی اس سے رواداری نہیں برتی جاسکتی۔

سعودی عرب کا کردار

گذشتہ چند عشروں کے دوران میں فلسطینی جماعتیں سعودی عرب کے ایک کردار کی خواہاں رہی ہیں۔اس کا پہلا حصہ تو یہ ہے کہ انھیں جب بھی وہ کہیں رقم ادا کی جائے اور پھر سیاسی حمایت مہیا کی جائے۔مرحوم فلسطینی صدر یاسر عرفات نے واحد سیاسی اور عسکری فیصلہ ساز بننے کے بعد یہی حکمت عملی اختیار کی تھی۔انھوں نے فلسطینی امور کو ایک انتہا پسند نظریاتی رجیم سے اعتدال پسند ریاست میں تبدیل کرنے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

سعودی عرب فلسطینی نصب العین کی حمایت کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔اس نے فلسطینی اتھارٹی پر اپنی کوئی چیز یا کوئی سیاسی یا فوجی آپشن مسلط نہیں کیا تھا بلکہ اس کو فلسطین کا قانونی نمائندہ سمجھا ہے۔اس نے مالی اور سیاسی امداد مہیا کرنے کے لیےفلسطینی کاز کے لیڈروں کی خواہش کا احترام کیا ہے۔اس نے اس وقت بھی ان کی حمایت کی، جب انھوں نے بغاوت برپا کردی تھی اور جب وہ امن کے خواہاں ہوئے ،تب بھی انھیں سہولت بہم پہنچائی۔سعودی عرب نے ہرقدم پر فلسطینی نصب العین کا ساتھ دیا ہے حالانکہ امن کے لیے یک طرفہ کوششیں کی گئیں مگر خطے کے بہت سے ممالک نے انھیں مسترد کردیا تھا۔

یہ سعودی عرب ہے جس نے آپ کی پوری تاریخ میں نہ صرف آپ کے اپنے علاقوں کے اندر بلکہ وسیع تر تناظر میں بھی آپ کا ساتھ دیا ۔آپ کو اپنے ہم جولیوں سے قبل چھوٹوں کی خواہشات بھی پورا کرنا پڑتی ہیں۔جب آپ زیادہ اہم امور کی ذمے داری قبول کرنے کے قابل ہوتے ہیں اور ایک روز آپ کا شمار ایسے ہوتا ہے جیسے ایک دور تعمیر کیا جارہا ہے۔تب آپ ان امور میں مصروف ہوجاتے ہیں جو مکان کی چھت کو محفوظ اور بلند رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

ہماری تاریخ کے ابتدائی برسوں اور ہمیں منتقل کی گئی توانا یادداشت کے مطابق ہم سعودی مملکت کو اس کی سیاست میں ایک پُرعزم ریاست کے طور پر جانتے ہیں۔یہ مملکت کی تاریخ کے تناظر میں بھی ایک درست بات ہے۔یہ بھی ایک اعزاز کی بات ہے کہ یہ الحرمین الشریفین کی سرزمین ہے اور بین الاقوامی نظام میں امن وسلامتی کے قیام کے لیے توازن برقرار رکھنے کی غرض سے ایک قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔وہ 2002ء کے عرب امن اقدام کو فلسطینی تنازع کا واحد حل سمجھتا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند