تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
رجب طیب ایردوآن کس کا ساتھ دے رہے ہیں ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 10 صفر 1440هـ - 21 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: جمعہ 28 ذیعقدہ 1439هـ - 10 اگست 2018م KSA 17:27 - GMT 14:27
رجب طیب ایردوآن کس کا ساتھ دے رہے ہیں ؟

رجب طیب ایردوآن کا ترکی خمینی کے ایران کے ساتھ کھڑا ہونے پر کیوں مُصر ہے؟

کیا یہ بظاہر اور ’’ خفیہ‘‘ تجارتی مفادات کا نتیجہ ہے؟ کیا یہ ایرانی گیس ہے، جیسا کہ کہا جارہا ہے؟یا کیا یہ صدر رجب طیب ایردوآن کی قیادت میں ترکی کے اندر کسی گہرے بحران کا سبب ہے۔صدر ایردوآن جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے بعد سب سے زیادہ آئینی اختیارات کے حامل ہیں اور ’’طاقتور ‘‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح انھیں مختلف سیاسی ، سکیورٹی اور تجارتی امور پر اختیارات حاصل ہیں ۔

کیا یہ شام پر اختیارات کا مسئلہ ہے اور وہ تجارتی جنگ سے ختم نہیں ہوں گے۔ اس میں ترکی میں زیر حراست امریکی پادری برونسن کا کیس بھی شامل ہے جبکہ امریکا نے صدر ایردوآن کے سب سے بڑے مخالف فتح اللہ گولن کو پناہ دے رکھی ہے۔

ترکی اور ایران میں ایک فرق یہ ہے کہ ایران کسی ایسے سیاسی یا سکیورٹی اتحاد میں شامل نہیں ہے جس کی قیادت امریکا کے ہاتھ میں ہے جبکہ ترکی معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا ایک بااثر رکن ملک ہے۔

حال ہی میں ایک اسی راستے سے صدر ٹرمپ اور صدر ایردوآن کے درمیان سیاسی حدّت کو کم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔سی این این ترک نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ترک حکام کا ایک وفد واشنگٹن روانہ ہورہا ہے جہاں وہ نیٹو کے دونوں رکن ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کرے گا۔

یہ بحران حقیقی اور اہمیت کا حامل ہے۔ یہ محض حادثاتی یا اتفاقی نہیں ہے۔ معاشی جنگیں ، تند وتیز شعلہ بیانیاں اور دونوں طرف سے وزراء کے اثاثوں کو منجمد کیا جانا ایک گہرے بحران کا مظہر ہیں ۔ (البتہ ہم یہ بات نہیں جانتے کہ انقرہ حکومت کے پاس ترکی میں امریکی وزراء کے منجمد کرنے کے لیے کیا اثاثے ہیں۔)

بحران کا جوہر

اس بحران کا جوہر دراصل وہ کیمپ اور سمت ہے جس کا ’’ مقبول‘‘ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے انتخاب کیا ہے۔انھوں اور ان کے آدمیوں نے بالکل آغاز ہی سے خمینی رجیم کے بارے میں تعصب کا اظہار کیا تھا۔صدر ایردوآن نے ایرانی صدر حسن روحانی سے فون پر گفتگو کی اور انھیں ایرانی نظام کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔

ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے بھی ایسے کیا اور ترک حکومت کے ترجمان ابراہیم کالین نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو مسترد کردیا اور کہا کہ ترکی ان پابندیوں کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔

ترکی نے ایسا کر کے دراصل خمینی نظام کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کردیا ہے۔اسی نظام کے دہشت گرد پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر بریگیڈئیر جنرل ناصر شعبانی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے آبنائے باب المندب میں دو سعودی آئیل ٹینکروں پر تہران سے براہ راست احکامات کے بعد حملہ کیا تھا۔

سیاسی اسلام

صدر ایردوآن کی قیادت میں ترکی واضح طور پر ان ریاستوں کے ساتھ کھڑا ہے جو سیاسی اسلام کی حامی ہیں۔خواہ یہ ریاستیں شیعہ ہیں یا سُنی ہیں۔دوحہ کے حکام اور مصر میں اخوان المسلمون کی سیاسی اور میڈیا کی حمایت اور شاید سکیورٹی کی معاونت اس کردار کی مثالیں ہیں جو مقبول صدر ایردوآن کی ہدایات میں ترکی نبھانا چاہتا ہے۔

سلطان بننے کے خواب کو مضبوط معیشت کے ذریعے شرمندۂ تعبیر کیا جاسکتا ہے اور اس میں یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ کامیاب معیشت ہی ان کی ، ان کی جماعت اور گروپ کی ترکی میں قیادت سنبھالنے کا ٹکٹ ثابت ہوئی تھی۔اسی کی بدولت آج وہ ترکی کی قیادت پر فائز ہیں۔

لیکن ان دنوں ترکی کی معیشت کوئی زیادہ بہتر نہیں رہی ہے۔ترک کرنسی لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے اور اس سال کے دوران میں اب تک ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں 27 فی صد تک کمی واقع ہوچکی ہے۔

’’ رجب میں زندگی گزاریں تو آپ ایک اعجوبے ہی کو ملاحظہ کریں گے‘‘۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند