تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عید الاضحیٰ عمران خان کے ساتھ !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 10 ذوالحجہ 1439هـ - 22 اگست 2018م KSA 06:42 - GMT 03:42
عید الاضحیٰ عمران خان کے ساتھ !

پاکستانی عید الاضحیٰ ایک نئے وزیراعظم کے ساتھ منا رہے ہیں۔عمران خان ایک مشہور کرکٹر تھے اور ایک مقبولیت شخصیت ہیں لیکن سیاست کی مہارتیں کھیل سے بالکل مختلف ہوتی ہیں اور مذہب بعض کے نزدیک اس سیاست کے کھیل میں جیت کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔عمران خان بھی مذہب کا کھیل کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں درآں حالیکہ ا ن کا پس منظر ایک لبرل اور سیکولر کا رہا ہے۔

وہ اپنی عوامی تقریروں میں مغرب اور مغربی ماڈل کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جبکہ ان کی برطانوی یہودیہ سابقہ بیوی سے دوبچے ( بیٹے) ہیں۔انھوں نے اپنے ان دونوں بیٹوں کو وزارتِ عظمیٰ کی حلف برداری کی تقریب میں نہیں بلایا تھا کیونکہ انھیں ان کی جان کا خطرہ لاحق تھا۔عمران خان کی سابقہ زندگی کا سب کچھ مغربی ہے۔وہ برطانیہ کے کلبوں میں کھیلتے رہے تھے ، انھوں نے آکسفورڈ میں تعلیم پائی تھی اور اسی جامعہ سے گریجوایٹ ہوئے تھے۔

تیسری دنیا کے صدور اور وزرائے اعظموں کی بڑی تعداد کی طرح عمران خان کے حامی بھی ان کی مقبول خبروں اور تصاویر کی مارکیٹ کرتے ہیں۔انھوں نے حلف برداری کے موقع پر پُرتعیش ظہرانے کو منسوخ کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بجٹ خسارے کو کم کرنا چاہتے ہیں ۔انھوں نے وزیراعظم کے فلیٹ میں شامل سرکاری کاروں کو فروخت کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

یہ تصویر ان کے مثبت تاثر کو ابھارتی اور ان کے انتخابی وعدوں کے عین مطابق ہے جبکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے تشخص کی نفی کرتی ہے۔ میاں صاحب کو حال ہی میں پاکستان کی ایک عدالت نے بدعنوانیوں کے ایک مقدمے میں دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پاکستان ایک ہم ملک ہے۔یہ مسلمانوں کی تعداد کے لحاظ سے انڈونیشیا کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے۔یہ ایک جوہری طاقت ہے اور اس کی آرمی دنیا کی آٹھویں مضبوط ترین فوج ہے۔علاقائی سطح پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی میں بھی یہ ایک اہم ملک ہے اور بین الاقوامی سطح پر چین اور امریکا کے درمیان مسابقت میں بھی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ اگرچہ عمران خان کے سابقہ بیانات کی بنا پر ان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کی بات کی جاتی ہے لیکن ہم اقتدار سے باہر سیاست دانوں کے بارے میں (ان کے بیانات کی بنا پر) کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ۔

خلیج کے ساتھ تعلقات

اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ کیا کہا گیا ہے،پاکستان کے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات بہت گہرے اور ٹھوس ہیں ،خواہ اس کا حکمراں کوئی بھی رہا ہو۔ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان کی سابق وزیراعظم (شہید) بے نظیر بھٹو کے بارےمیں بھی یہی بات کی جاتی تھی اور انھوں ے یہ بات ثابت کی تھی کہ وہ کبھی ایران کے زیر اثر نہیں آئی تھیں۔

اسلامی دنیا کا قلب ہونے کے علاوہ سعودی عرب میں پاکستان سے باہر سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی آباد ہے اور دونوں ملکوں میں تجارتی توازن بھی بہت بڑا ہے۔پھر ہمیں یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے امریکا کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار ہیں۔ امریکا کی پابندیوں کے نفاذ کے بعد تو ایران کے ساتھ تعلقات کسی اجازت نامے کے محتاج نہیں رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم پاکستان ان پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے ہیں۔

پاکستان کی داخلی صورت حال سے قطع نظر ، جس کے پیش نظر نئے وزیراعظم اس طرح کے بیانات جاری کررہے ہیں ، یہ امید کی جاتی ہے کہ اس ملک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنائے جائیں گے اور اس کو افغانستان سمیت علاقائی مسائل کے حل کے لیے زیادہ کردار ادا کرنے دیا جائے گا تاکہ وہ ایران پر بھی خود پاکستان کے اندر اور خطے میں مداخلت کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ملک کے ریاستی عہدوں پر فائز ہونے کے لیے قیادت کے درمیان مسلسل تنازع اور اس جنگ کے نتیجے میں بہت سے لیڈروں کے جیل یا موت کے منھ میں جانے سے بلاشبہ بیرونی سطح پر پاکستان کا تشخص کم زور ہوا ہے۔اس طرح اس کی قیادت داخلی سطح پر درپیش مسائل ہی میں الجھی رہی ہے اور معاشی طور پر اس کا کباڑا ہو گیا ہے۔

عمران خان اس حقیقت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں کہ ان کا سابق وزرائے اعظم سے پس منظر ذرا مختلف ہے۔ان کے پاس خلیج میں اپنے ملک کا درجہ اور تشخص بہتر بنانے کا ایک موقع ہے۔ وہ خلیج میں اپنے اتحادی ممالک سے مل کر ایسے حقیقی اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف ادائی کے توازن میں بہتری آئے بلکہ معیشت بھی بہتر ہو۔ وہ ایسے منصوبے شروع کرسکتے ہیں جو طرفین کے مفاد میں ہوں اور یہ بالکل قابلِ عمل امرہے۔

اب ہم ایران کے بارے میں کوئی زیادہ مشوش نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنی مارکیٹ کی ضروریات کا بھی پورا حصہ نہیں لے سکتا ہے حالانکہ وہ خود تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔تہران کے حکمرانوں کے پاس اب وہ کچھ ہے جس کی وجہ سے وہ آج زیادہ مصروف ر ہ سکتے ہیں اور ان کے لیے بدتر حالات تو ابھی آنے والے ہیں۔

اس تبدیل شدہ صورت حال میں پاکستان کو زیادہ اہم کردار ادا کرنا چاہیے اور درحقیقت وہ ایک بڑی علاقائی طاقت ہے۔ایران پر اس کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے لیے مزید دباؤ ڈالا جانا چاہیے۔اس سے مشرقِ اوسط اور جنوب ایشیا میں پاکستان کا کردار مضبوط ہوگا لیکن اگروہ یہ کردار ادا کرنے سے لاتعلقی اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے برعکس کردار ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند