تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کیوں نہیں ہوگا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 22 صفر 1441هـ - 22 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 14 ذوالحجہ 1439هـ - 26 اگست 2018م KSA 16:33 - GMT 13:33
ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کیوں نہیں ہوگا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک وکیل مائیکل کوہن اور ان کی صدارتی مہم کے چئیرمین پال منافورٹ پر ایک عدالت میں فرد جرم عاید کیے جانے کے بعد یہ عمومی سوال کیا جارہا ہے کہ کیا اس سے خود صدر ٹرمپ کا مواخذہ ممکن ہوگیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں پر فرد جرم سے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی راہ ہموار نہیں ہوگئی ہے کیونکہ وہ دونوں اتنی اہمیت کے حامل نہیں کہ محض ان کی بنا پر ایک امریکی صدر کا مواخذہ کردیا جائے۔

پال منافورٹ کو ورغلایا گیا تھا اور ان کے ارد گرد خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی ٹیم کا گھیراؤتھا۔ رابرٹ میولر امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کا معاملہ دیکھ رہے تھے اور وہ یہ تحقیقات کررہے تھے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم اور روس کے درمیان کوئی تعلق داری تھی۔

اس ضمن میں تحقیقات سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا تھا ۔ البتہ منافورٹ پر ٹیکس سے بچاؤ اور بنک فراڈ سمیت آٹھ الزامات میں فرد جرم عاید کردی گئی تھی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی مہم کا ان کے مسائل اور بدعنوانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سے ٹرمپ کو اس معاملے میں نہیں کھینچا جاسکتا ۔ایسی صورت میں صدر اپنے ہی حق میں ایک معافی نامہ بھی جاری کرسکتے ہیں۔

جہاں تک ٹر مپ کے وکیل مائیکل کوہن کا تعلق ہے تو ان پر پانچ الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ان میں دو کا تعلق ٹیکس اور بنک فراڈ سے ہے جبکہ دو کا تعلق صدارتی مہم کے لیے رقوم کی ادائی میں قوانین کی خلاف ورزی سے ہے۔

وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک اور کیس میں بھی ملوث ہیں۔یہ اسٹارمی ڈینیلز اور کیرن میکڈوگل کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالرز اور ڈیڑھ لاکھ ڈالرز کی ادائی سے متعلق ہے۔یہ رقوم انھیں مبینہ طور پر صدر ٹرمپ سے ان کے ناجائز تعلق کے بارے میں منھ بند رکھنے کے لیے ادا کی گئی تھیں۔کوہن نے اعتراف کیا تھا کہ انھیں خود ٹرمپ نے یہ رقم ادا کرنے کے لیے کہا تھا حالانکہ وہ خود پہلے کچھ عرصے تک ان عورتوں سے تعلق کی تردید کرتے رہے تھے۔

یہ ایک زیادہ سنجیدہ کیس ضرور ہے لیکن یہ اتنا بڑا بھی نہیں کہ اس کی وجہ سے صدر کو ان کے دفتر سے نکال باہر کیا جائے۔اگر ڈیمو کریٹس ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلیں تو پھر بھی وہ صدر ٹرمپ کا مواخذہ نہیں کرسکیں گے کیونکہ انھیں سینیٹ میں مواخذے کی قرارداد کی منظوری کے لیے دو تہائی ووٹ درکار ہوں گے اور ایسا امریکا کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ حزبِ اختلاف کو کسی صدر کے خلاف مواخذے کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہوگئی ہو۔

اب تک امریکا کے پینتالیس صدور میں سے صرف دو کے خلاف مواخذے کا ’’ جوہری ‘‘ ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔ یہ دو بل کلنٹن اور اینڈریو جانسن تھے۔صدر بل کلنٹن کا مونیکا لیونسکی سے ناجائز تعلق پر مواخذہ کیا گیا تھا ۔صدر اینڈریو جانسن نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیرِ جنگ ایڈون اسٹانٹن کو تبدیل کردیا تھا۔ان دونوں کیسوں میں مواخذے کا عمل ناکام رہا تھا۔(صدر نکسن نے واٹر گیٹ اسکینڈل میں ملوث ہونے کے بعد استعفا دے دیا تھا اور ان کا مواخذہ نہیں ہوسکا تھا۔)

امریکی آئین اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ اس میں ایک صدر کو اس کے عہدے سے ہٹانا بہت ہی مشکل ہے تاکہ سیاسی نظام میں استحکام برقرار رہے۔صدر ٹرمپ کے مواخذے کا کیس ایک سے زیادہ وجوہ کی بنا پر کوئی زیادہ خطرناک نہیں۔اول ، یہ معاملہ اس وقت پیش آیا تھا جب وہ ابھی صدر منتخب نہیں ہوئے تھے یعنی صدارتی مہم کے دوران میں مذکورہ بالا دونوں عورتوں کو خاموش کرانے کے لیے رقم ادا کی گئی تھی لیکن ان کے ساتھ مبینہ معاشقے کا تعلق 2006ء سے ہے۔

دوم ،ادا شدہ رقم کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ انھوں نے یہ اپنی جیبِ خاص سے دی تھی اور صدارتی مہم کے لیے رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔اگر وہ ایسا کرتے تو یہ انتخابی مہم کے قانون کی خلاف ورزی ہوتی۔ چنانچہ اب ہم ایک طویل قانونی جنگ ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔

سوم ،کوہن کی شہرت ان کی بدعنوانیوں کی وجہ سے داغ دار ہے،وہ اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں اور ان کا کردار بھی ایک سا نہیں رہتا۔ایک مرتبہ انھوں نے یہاں تک کہا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے لیے گولی بھی کھاسکتے ہیں لیکن پھر انھوں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا اور جب ہیلسنکی میں صدر ٹرمپ کو روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ مودبانہ انداز میں کھڑے دیکھا تو پھر ان کے بارے میں حقائق کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا۔

وہ ایک ایسے شاطر اور دھوکے باز وکیل کی طرح ہیں جو قانونی مقدمات میں اپنے کان کھڑے رکھتا ہے مگر پھر وہ اچانک ایک محب وطن شخصیت بن جاتا ہے۔ایک ناقابل اعتبار اور فریب زدہ وکیل کے بیان پر انحصار کرکے صدر کو ان کے دفتر سے نکال باہر کرنا بہت مشکل ہے۔ان تمام وجوہ کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دھڑن تختہ نہیں کیا جاسکے گا۔ایسا کرنے کے لیے ایک شدید طوفان درکار ہے اور یہ تو صرف ایک بگولا ہے۔

ٹرمپ ایک بلی کی طرح ہیں ۔ وہ ایک کے بعد دوسری چھلانگ لگاتے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ان کے مواخذے کی باتیں انھیں فائدہ پہنچائیں گی اور ان سے ان کے ڈیموکریٹ حریفوں کو نقصان پہنچے گا۔

یہی سبب ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں اقلیتی لیڈر ، تجربے کار سیاست دان نینسی پیلوسی نے اپنے ساتھی ڈیمو کریٹس کو خبردار کیا ہے کہ وہ مواخذے سے متعلق بیان بازی سے گریز کریں کیونکہ اس طرح ری پبلکن بھی میدان میں آجائیں گے اور وہ یہ سمجھیں گے کہ ان کے لیڈر کو ایک گندی سازش کا سامنا ہے جس کا مقصد انھیں اقتدار سے نکال باہر کرنا ہے۔چنانچہ وہ صدر کی اقتصادی کامیابیوں کے پیش نظر اپنی حمایت کا وزن ان کے پلڑے میں ڈال دیں گے۔

اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر ان کا مواخذہ کیا جاتا ہے تو پھر ملکی معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے گی ،اسٹاک مارکیٹ بیٹھ جائے گی اور غربت پھیل جائے گی۔وہ اپنے مواخذے کا اس افراتفری اور خوف وہراس سے تعلق جوڑ رہے ہیں ، جو اس کے نتیجے میں پھیلے گا۔اس طرح وہ اپنے حامیوں کو بھی پیغام دے رہے ہیں ۔ وہ آیندہ وسط مدتی انتخابات اور 2020ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل سڑکوں پر آسکتے ہیں۔

چنانچہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک ایسا ہتھیار جس کا رُخ صدر ٹرمپ کے سر کی جانب تھا،اب ان کے اپنے ہاتھ میں آچکا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند