تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گوادر بندرگاہ خلیج کی تجارت کے فروغ میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 9 محرم 1440هـ - 20 ستمبر 2018م KSA 19:04 - GMT 16:04
گوادر بندرگاہ خلیج کی تجارت کے فروغ میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟

پاکستان کی گہرے پانیوں کی گوادر بندرگاہ ایک جانب چین کے خشکی میں گھرے بڑے صوبے سنکیانگ کو بحیرہ ٔعرب سے ملاتی ہے اور دوسری جانب یہ وسط ایشیا ، افریقا اور مشرقِ اوسط کے لیے سب سے مختصر اور مناسب تجارتی راستہ ہے۔

چین کے بڑے منصوبے بیلٹ اور روڈ اقدام ( بی آر آئی) کے آغاز کے بعد سے پاکستان چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) اور گوادر بندرگاہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوچکی ہے اور سی پیک کو بیلٹ اور روڈ اقدام کے تحت تعمیر ہونے والی تمام چھے راہ داریوں میں ’’ فلیگ شپ کوریڈور‘‘ کا درجہ حاصل ہوچکا ہے۔

خلیج سے آبنائے ہُرمز کے راستے گوادر بندر گاہ تک براہ راست بالکل آسان رسائی ہے اور اس بندر گاہ کے راستے مشرقِ اوسط اور افریقا سے چین تک تجارتی مال کو کم سے کم وقت میں جاسکتا ہے۔ ان ہر دو علاقوں کے درمیان پاکستان کی بندرگاہ سے فاصلہ محض قریباً 3400 میل رہ جاتا ہے۔

ان تمام فوائد وثمرات کے باوجود بد قسمتی سے گوادر شہر کو سی پیک کے منصوبوں کے تحت پہلے مرحلے میں ترقی نہیں دی جاسکی ہے لیکن یہ توقع کی جاتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے زیر قیادت پاکستان کی نئی حکومت میں چیزیں تیزی سے تبدیل ہوں گی کیونکہ اس نے سی پیک کو وسعت دینے اور تیسرے فریق کی مزید سرمایہ کاری کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تیز رفتار بنیاد

گوادر کو تیز رفتار بنیاد پر ترقی دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بجلی اور پانی کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ یہ ساحلی شہر صنعتیں لگانے کے لیے معاشی طور پر زیادہ قابل عمل ہوسکے۔

یہ توقع کی جاتی ہے کہ سرمایہ کاری کی شکل میں گوادر بندرگاہ بہت جلد اپنے مالی ثمرات دینا شروع کردے گی،فی الوقت تو اس کو یکہ وتنہا منصوبہ ہی قرار دیا جارہا ہے۔اگلے مرحلے میں خصوصی اقتصادی علاقوں ( زونز ) کے قیام میں علاقائی دوست ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

چین اور پاکستان دونوں کے ترقیاتی کمیشن گوادر کی برآمدی مارکیٹوں کے لیے ایک صنعتی مرکز کے طور پر اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں ۔وہ خاص طور پر اس کے شاندار محل وقوع ، بین البراعظمی جہاز رانی اور فری زون کی اہمیت کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔

گوادر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر کے کام میں تیزی ، ایک اسپتال اور ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کی اس سال کے اختتام تک تعمیر مکمل ہوجائے گی،اس طرح یہ شہر آیندہ دو سال میں تیزی سے وسعت پذیر ہوگا۔

جزیرہ نما گوادر

اس وقت جزیرہ نما گوادر کی آبادی قریباً ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ۔شہر کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کی آبادی میں بھی اضافہ ہو گا اور ایک تخمینے کے مطابق یہ 2020ء تک بڑھ کر پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہوجائے گی۔گوادر شہر میں آب رسانی کے مسئلے کے حل کے لیے پانی صاف کرنے کے متعدد پلانٹ نصب کیے جارہے ہیں۔ان میں سے ایک متحدہ عرب امارات اور دوسرے سوئٹزر لینڈ اور چین کی مدد سے لگائے جارہے ہیں۔

اس دوران میں چین پاور کمپنی کوئلے سے 300 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ کو چالو کرنے کی تیاری کررہی ہے۔اس سے گوادر کو بجلی مہیا کرنے کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔

پاکستان کے ترقی اور منصوبہ بندی کے وزیر خسرو بختیار نے وزیراعظم عمران خان کی گوادر میں صنعتوں کی تیز رفتار ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کے حوالے سے کہا:’’ ہم زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرسکتے کیونکہ ہماری معیشت کے پاس وقت کی عیاشی نہیں ہے۔اس ساحلی شہر میں صنعتوں کا فروغ اس کی بین الاقوامی رابطہ کاری اور ٹرانسپورٹ کی مناسب لاگت کے پیش نظر بہت جلد پھل دے گا ‘‘۔

گوادر کی بندرگاہ ابتدائی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کے بعد برآمدات کے یونٹ اور بین البر اعظمی جہاز رانی کے مرکز کی حیثیت اپنے ثمرات دینا شروع کردے گی۔ ریلوے کے ذریعے اور سی پیک کے مغربی روٹ سے ملانے کے لیے مواصلات کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔اس کی ماضی میں عدم موجودگی کی وجہ سے ہی صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مضافاتی علاقوں کو مرکزی شاہراہوں اور راستوں سے جوڑا نہیں جاسکا تھا۔

درآمدی ایندھن سے چلنے والے بجلی کے منصوبوں کی رفتار سست کرنا ہوگی جبکہ پن بجلی کے منصوبوں کو پہلے پایہ تکمیل کو پہنچانا ہوگا۔گوادر فری زون کی تعمیر بھی شیڈول کے مطابق شروع نہیں ہوسکی ہے۔اس میں تاخیر کی وجہ یہ ہوئی ہے کہ ابھی تک چینی حکام کو اس کے لیے اراضی منتقل ہی نہیں کی گئی ہے۔اس وقت یہ پاکستان بحریہ کے کنٹرول میں ہے ۔ اراضی کی جلد سےجلد منتقلی کے لیے طریق کار اور قواعد وضوابط کو طے کرنا ہوگا۔

گوادر میں بہتر سکیورٹی کی وجہ سے اقتصادی خطرات بھی کم سے کم ہیں۔ یہ روایتی آبنائے ملاکا بحری مواصلاتی لائن سے بھی زیادہ محفوظ ہے۔پاکستان بحریہ کی ٹاسک فورس 88 گوادر کے تحفظ ودفاع کی ذمے دار ہے ۔یہ لڑاکا طیارے ، بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں اور سریع الحرکت جنگی کشتیوں سے لیس ہے۔

گوادر بندرگاہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی کے بعد بڑے پیمانے پر کام شروع کردے گی۔یہ بندرگاہ جب اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام کرے گی تو یہاں سالانہ تیس سے چالیس کروڑ ٹن تک مال کو جہازوں سےاتارا اور لادا جاسکے گا۔یہاں اس کی قدرتی گہرائی کی وجہ سے بڑے بحری جہازوں کو بھی لنگر انداز کیا جاسکے گا۔

کراچی ، خلیج ایکسپریس

متحدہ عرب امارات نے اس سال گوادر میں مقامی کمیونٹی کو مختلف سہولتیں مہیا کرنے میں مدد دی ہے۔اس نے گوادر کے ذریعے سی پیک کے تحت تجارتی جہاز رانی کا بھی آغاز کردیا ہے۔اس نے اس کو کراچی ،خلیج ایکسپریس کا نام دیا ہے۔اس کنٹینر سروس نے ابو ظبی ، شارجہ اور جبل علی کو گوادر کی بندرگاہ سے ملا دیا ہے۔

چین کی تیل کی درآمدات کو گوادر سے سنکیانگ تک پہنچانے کا ایک اور منصوبہ بھی زیر غور ہے اور گوادر سے سنکیانگ تک تیل کی ایک نئی پائپ لائن بچھانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کی یومیہ صلاحیت دس لاکھ بیرل ہوگی۔ ادھر بیلٹ اور روڈ اقدام کے تحت سنکیانگ کے شہر اُرمچی کو ایک بڑے تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دی جارہی ہے۔ اس شہر تک انیس ریلوے لائنیں بچھائی گئی ہیں جو یورپ اور ایشیا کے سترہ ممالک کو آپس میں ملاتی ہیں۔

اس اہم تجارتی جنکشن پر آج قریباً 36 سو ٹن وزنی مال کی روزانہ آمد ورفت ہورہی ہے۔دوسرے خطوں اور ممالک سے اُرمچی تک پہنچنے کا سب سے قریبی اور آسان راستے گوادر سے ہی ہوکر گذرتا ہے۔مزید برآں اگر مشرقِ اوسط اور افریقا کے ممالک بھی سی پیک میں شامل ہوجاتے ہیں تو دنیا کے اس حصے میں ان ممالک کے لیے تجارتی رابطے کے ضمن میں یہ ایک کامیاب اور سود مند حل ہوگا۔

درحقیقت گذشتہ سال ہی پاکستان میں متعیّن سعودی سفیر نے گوادر اور سی پیک کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔
______________________________
سبینہ صدیقی خارجہ امور کی ماہر صحافیہ اور جغرافیائی سیاسی تجزیہ کار ہیں۔بیلٹ اور روڈ اقدام ، سی پیک اور جنوبی ایشیا ان کے خصوصی موضوعات ہیں۔ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر @sabena_siddiqi رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند