تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیتن یاہو کے دورۂ مسقط کے بعد کیا ہوگا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 17 صفر 1440هـ - 28 اکتوبر 2018م KSA 21:45 - GMT 18:45
نیتن یاہو کے دورۂ مسقط کے بعد کیا ہوگا؟

عرب عوام اور میڈیا کے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورۂ مسقط پر عام سے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہےکہ یہ خطہ اپنے ماضی کے مقابلے میں اب کتنا تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔ سلطنت آف اومان ( عُمان) نے خود اس دورے کا اعلان کیا تھا ۔اسرائیلی سرگرمی اب صرف سیاسی میل ملاقاتوں تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ معیشت اور کھیل ایسے دوسرے شعبوں میں تعلقات بڑھانے کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے اور اس کا متعدد عرب ممالک میں اعادہ کیا جاچکا ہے۔چناں چہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ (اسرائیل سے ) ممنوعہ تعلق داری کا اختتام ہے؟

میں ایسا ہی خیال کرتا ہوں۔تنازع سے ایک غیر مثبت انداز میں نمٹنے سے فلسطینیوں ہی کو نقصان پہنچا ہے اور اسرائیلیوں کا کچھ نہیں بگڑا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے استرداد کے عرب کلچر کی جڑیں بڑی گہری ہیں اور یہ ابھی تک زندہ ہے۔البتہ اب ایک تبدیلی یہ رونما ہوئی ہے کہ اس کی حیثیت عرب حکومتوں کی پالیسیوں کو حرکت دینے والے انجن کی نہیں رہی ہے۔ پہلے عرب حکومتیں اس کو ایک گیند کی طرح ایک دوسرے کی جانب اچھالنے کی عادی تھیں۔

سلطنت آف اومان نے ایک اچھا کام یہ کیا ہے کہ اس نے چیزوں کے ساتھ واضح اور کھلے پن سے معاملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اومان علاقائی تنازعات میں سے کسی کا بھی حصہ نہیں ہے۔اس لیے ان ( عرب) حکومتوں نے اپنے میڈیا کا رُخ اومان کی جانب نہیں کیا ہے حالانکہ نیتن یاہو کے ساتھ وزراء کا ایک طائفہ بھی مسقط کے دورے پر گیا تھا اور انھوں نے بڑے خوش گوار ماحول میں یہ دورہ کیا تھا۔

اس دورے کے پس پردہ مناظر ابھی تک نامعلوم ہیں ۔اومان کی اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں ثالثی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے ،اس سے بظاہر ا س بات کا امکان نہیں کہ مصر اس دیرینہ تنازع میں اپنے ثالثی کے کردار سے دستبردار ہوجائے گا۔اسی طرح اس کو ایرانی ،اسرائیلی تنازع میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا ۔اس کا ایک جواز یہ ہے کہ اومان طرفین کے لیے ایک قابل اعتماد اور دیانت دار ثالث ہے۔

اسرائیل کا ایران کے خلاف اہم کردار

ایران اس وقت دونوں محاذوں پر اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔شام میں اس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکا کی اس کے خلاف پابندیوں کا دوبارہ نفاذ کیا جا چکا ہے اور صرف ایک ہفتے کے بعد نومبر کے اوائل میں اس کی تیل کی برآمدات اور ڈالر میں رقوم کی ترسیل پر مزید پابندیاں عاید کی جارہی ہیں۔اس دوران میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اسرائیل خطے میں شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد سے اپنا کرداران علاقوں تک بڑھا رہا ہے جنھیں وہ اپنی ایک سکیورٹی بیلٹ قرار دیتا ہے۔

اسرائیل نے شام میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کو نشانہ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اس نے وہاں ایسا کردار ادا کیا ہے جو عرب ممالک بھی ادا نہیں کرسکتے تھے۔ اس سے خطے میں فوجی توازن قائم ہوگیا ہے او ر اسرائیل علاقائی سلامتی کا ایک داخلی کردار بن گیا ہے جبکہ اس سے پہلے اس کو ایک ایسا زہریلا سیب قرار دیا جاتا تھا جس کا ذائقہ کوئی بھی چکھنے کو تیار نہیں تھا۔

شام کی جنگ میں اسرائیل کے کودنے کے بعد توازن بھی تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ترکی اور روس کے علاوہ ایران کی شام جنگ میں بہت زیادہ مداخلت سے اسرائیل کو بھی اس میں کودنے اور ایک اہم کھلاڑی بننے کا موقع مل گیا۔بالخصوص اس وقت جب امریکا اور ترکی دونوں ہی شام میں ایرانی رجیم کے توسیع پسندانہ عزائم اور بالادستی کے قیام کے لیے کوششوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے تھے جبکہ یہ واضح ہوچکا تھا کہ ایران اپنی کٹھ پتلی شتر بے مہار ملیشیاؤں کی مدد سے ایک شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے کوشاں تھا۔

جو لوگ اسرائیل کی فلسطینی تنازع کے تناظر میں مخالفت کرتے رہے تھے، وہ بھی اسرائیلی فضائیہ کے شام میں فضائی حملوں کے خیرمقدم پر مجبور ہوگئے تھے۔ ان حملوں سے شام میں ڈرامائی طور پر صورت حال تبدیل ہوگئی تھی اور خطے میں ایرانی خطرات کو روک لگانے میں بھی مدد ملی تھی۔

اسرائیل نے خود کو خطے کے فوجی کیمپوں کے قلب میں مسلط کیا ہے اور اس کی مداخلت کے بغیر سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی توسیع پسندی کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔پاسداران انقلاب روسی فوج کی حمایت کے حصول اور سیاسی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔

کیا ایران اسرائیل کے ساتھ اپنی سوجھ بوجھ کو بڑھا رہا ہے اور درمیانی واسطوں کے ذریعے سے اس کو کوئی یقین دہانی کرانے کی کوشش کررہا ہے؟ یا پھر یہ اسرائیل ہے جو ایران کو کوئی پیغام دینا چاہتا ہے اور یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ امریکا کے فیصلہ سازی کے عمل اور پالیسیوں پر بہت حد تک اثرا نداز ہوتا ہے ۔چناں چہ ایرانی رجیم کے بائیکاٹ اور معاشی طور پر اس کو اپاہج کرنے کے لیے ان پالیسیوں پر تیزی سے عمل کیا گیا ہے۔

خطے میں یہ اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور یہ اسرائیلی لیڈروں کی مسقط میں سرگرمیوں کو روکیں گی نہیں۔درحقیقت ایک طرح سے یہ شام ، یمن اور دوسرے تنازعات پر پیدا ہونے والی سیاسی تقسیم کا آغاز ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند