تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران سخت پابندیوں کے مضمرات سے راہ ِفرار اختیار کرسکتا ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 16 ربیع الثانی 1441هـ - 14 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 21 ربیع الاول 1440هـ - 30 نومبر 2018م KSA 23:51 - GMT 20:51
ایران سخت پابندیوں کے مضمرات سے راہ ِفرار اختیار کرسکتا ہے؟

ایران امریکا کی نومبر کے اوائل میں اپنے خلاف عاید ہونے والی دوسرے مرحلے کی پابندیوں کا سامنا کرنے کی تیاری کررہا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نہ صرف 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کے نتیجے میں ایران کے خلاف ہٹائی گئی پابندیوں کا دوبارہ نفاذ کریں گے بلکہ مستقبل میں ایران کے خلاف مزید بھی پابندیاں عاید کی جائیں گی تاکہ اس کو ’’دنیا کے تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری سے روکا جاسکے‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے مکمل’’ ضرررساں کردار ‘‘پر قدغن لگانے کے لیے مزید بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

امریکانے اگست میں پہلے مرحلے میں ایران پر ڈالروں کی خریداری ، سونے کی تجارت اور آٹو گاڑیوں کے شعبے پر پابندیاں عاید کی تھیں۔آیندہ ہفتے ایران کے تیل ، جہاز رانی کی شعبے اور مرکزی بنک پر مزید پابندیاں عاید کر دی جائیں گی۔لگتا یہ ہے کہ امریکا نچلا نہیں بیٹھے گا اور اس نے ایک مرتبہ پھر واضح کردیا ہے کہ جو ممالک بھی 4 نومبر کے بعد ایران کے ساتھ لین دین اور کاروبار جاری رکھیں گے تو ان کی امریکا کے بنک کاری اور مالیاتی نظام تک رسائی بند کردی جائے گی۔امریکا ان ہدایات کو نظر انداز کرکے ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے خلاف بھی جوابی اقدامات میں سنجیدہ نظر آتا ہے۔ یہ پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ امریکا کے اس انتباہ کے بعد مزید ممالک بھی ایران سے کاروبار کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں گے۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے آنے والے وقت میں منظرنامے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ میرے خیا ل میں پابندیوں کے دوبارہ نفاذکے بعد ان کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے اور میرے خیال میں یہ بدتر صورت اختیار کرنے والی ہے‘‘۔

بظاہر امریکا کا مقصد صرف ایران کی تیل کی برآمدات پر سخت پابندیاں عاید کرنا ہی نہیں بلکہ وہ دوسرے ممالک کی ایران کے لیے برآمدات کو بھی روکنا چاہتا ہے تا کہ اس کی معیشت کو مکمل طور پر اپاہج کیا جاسکے۔

داخلی صورت حال

ایران امریکا کی ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور وہ اپنے کام کرنے والے طبقہ ( ورکنگ کلاس) کی حوصلہ افزائی کے ذریعے داخلی صورت حال کو مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔اگر گذشتہ سال دسمبر میں ایران کے کے مختلف شہروں میں خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہروں سے پیدا ہونے والی صورت حال کو ملحوظ رکھا جائے تو ایران اپنی آبادی کے ایک چوتھائی حصے کو مالی امداد مہیا کرنا چاہتا ہے اور یہ تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔

پست اور پسماندہ طبقات ایران کی کل آبادی کا ایک کروڑ دس لاکھ کے لگ بھگ ہیں ۔ان کی ماہانہ آمدن 217 ڈالر فی کس ہے ،انھیں مالی امداد کا زیادہ حصہ دیا جائے گا تاکہ عوامی غیظ وغضب کی لہر پیدا ہونے کے امکانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔دوسری جانب ایران میں افراطِ زر کی شرح پہلے ہی 30 فی صد کے لگ بھگ ہوچکی ہے اور تیل کمپنیوں کو ایران میں کاروبار سمیٹنے اور اپنی سرگرمیاں ختم کرنے کے لیے دیے گئے 180 دن کے نوٹس کی مدت بھی ختم ہونے والی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے تخمینے کے مطابق ایران کی معیشت 2019ء میں مزید کم سےکم 3.6 فی صد سکڑ جائے گی۔ اس نے اپریل میں ایران کی معیشت میں 4 فی صد شرح نمو پیشین گوئی کی تھی اور اس کے ایک ماہ کے بعد مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے چھے بڑ ی طاقتوں کے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر علاحدہ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

اگرا یرانی ابتر معاشی حالات کے خلاف ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آتے ہیں تو ایران کے داخلی مسائل دوچند ہوسکتے ہیں اور امریکا کی مزید پابندیاں عاید ہونے کی صورت میں اس کے لیے خطرات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔

ایرانی حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی غرض سے پانچ ارب ڈالرز مالیت کے ایک فنڈ کا اعلان کیا ہے ۔اس طرح وہ آنے والے کٹھن حالات میں خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے اور رقوم کے لین دین کے لیے ایک خصوصی چینل بھی قائم کیا جارہا ہے تاکہ یورپی ممالک ( امریکی پابندیوں سے بچ کر) ایران کے ساتھ تجارت کو جاری رکھ سکیں۔ایران کے توانائی کے شعبے کو بہت جلد دھچکا لگنے والا ہے اور اس کا دس لاکھ بیرل تیل یومیہ عالمی مارکیٹ میں نہیں پہنچ سکے گا ۔اس طرح وہ آمدن کے ایک بڑے ذریعے سے محروم ہوجائے گا۔

گذشتہ سال ایران کی تیل کی برآمدات سے ہونے والی آمدن ایک تخمینے کے مطابق 55 ارب ڈالرز رہی تھی۔آنے والے مہینوں میں چین اور روس تو ایران کے ساتھ معمول کے مطابق کاروباری جاری رکھیں گے لیکن بہت سے دوسرے ممالک شاید امریکا کی ناراضی کا خطرہ مول نہ لیں ۔

خاص مقصد کے لیے گاڑی

بہت سے عوامل کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔حتیٰ کہ یورپی یونین کا ’’ خصوصی مقاصد‘‘ کے لیے مالیاتی کمپنی کے قیام کا منصوبہ حال ہی میں تہس نہس کیا جاچکا ہے۔ یہ کمپنی معرض وجود میں آجاتی ہے تو پھر یورپی یونین کے رکن ممالک ایران سے تیل خرید کر سکیں گے۔

ٹوٹل ، ای این آئی اور سی ای پی ایس اے سمیت تیل کی تمام بڑی کمپنیاں ایران میں اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں ۔ٹوٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹرل پویین کا کہنا تھا کہ ’’وہ امریکا کے مالیاتی نظام کو استعمال کرنے پر پابندی لگوانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے ہیں‘‘۔

ای این آئی نے تو اس بات کی تصدیق کرنا بھی ضروری سمجھا ہے کہ ’’ اب ہم ایران میں موجود نہیں رہے ہیں ۔ہمارے کاروباری سودے فطری طور پر نومبر میں ختم ہوجائیں گے۔نیز ان کمپنیوں کو اپنے حصص داران کی خواہشات کا بھی احترام کرنا ہے۔

امریکی پابندیوں کے مضمرات سے بچنا ایران کے لیے کوئی آسان نہیں ہوگا جبکہ اس کو پہلے ہی گذشتہ چند ماہ سے معیشت کی زبوں حالی اور کساد بازاری کا سامنا ہے۔گذشتہ سال دسمبر میں خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ان مظاہروں میں کام کرنے والے طبقہ کے افراد پیش پیش ہوتے تھے اور مظاہروں نے پہلی مرتبہ شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کا بھی رُخ کر لیا تھا حالانکہ عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے۔

ایسا شاید اس وجہ سے بھی ہوا ہو کہ ایران کی نوجوان آبادی اکثریت میں ہے ۔اس کو تو روزگار اور بہتر معیار زندگی کی ضرورت ہے۔ جوہری معاہدے کے بحران سے قبل بھی ایران کو اپنی معیشت کے اشاریوں کو بہتر بنانے کی ضرورت تھی ۔اگر وہ ایسا کر لیتا تو پھر اس کو پابندیاں کے بدتر حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

ایران کے ریاستی امور کے پیش نظر اگر وہ 2012-15ء کے دوران میں عاید کردہ پابندیوں ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے اور اس کی معیشت بیٹھ جاتی ہے تو پھر عوام کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا جبکہ معاشی صورت حال تو پہلے ہی ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند