تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب اور یمن میں مصالحت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 18 ذوالحجہ 1440هـ - 20 اگست 2019م
آخری اشاعت: منگل 26 صفر 1440هـ - 6 نومبر 2018م KSA 11:48 - GMT 08:48
سعودی عرب اور یمن میں مصالحت

میں 2004ء کے وسط میں یمن کے شہر عدن میں ایک آئل کمپنی کے لیے سمجھوتے پر دستخط کیلئے پہنچا۔ ہمارا یہ سمجھوتہ عدن ریفائنری کے ساتھ تھا جس میں اس کمپنی کے سی ای او سے ملا تو میرا تاثر یہ تھا کہ وہ بھارتی نژاد ہے۔ بعد میں جب اس سے تفصیلی ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ ان کے آباؤ اجداد انڈیا سے آکر عدن میں قیام پذیر ہوگئے تھے۔ بعد میں جب مجھے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے شہر کی سیر کرائی تو عدن کی بندرگاہ کے قریب جاکر مجھے احساس ہوا کہ یہ سارا ماحول بھارت یا پاکستان جیسا ہے۔ میرے میزبان نے مجھے بتایا ہے کہ یمن میں تیل کی تلاش کے علاقے قبائلی لوگوں کو دئیے جاتے ہیں۔ یہ علاقے قومی قبائل کے زیراثر ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو آج کل یمن کی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ یمن کی سرحد کے پہاڑی علاقے ہمارا فاٹا کی طرح دکھائی دیتے ہیں میں نے اپنے دورے کے دوران دیکھا کہ اس علاقے کے بچوں کے ہاتھوں میں بھی بندوقیں تھیں یہ بالکل وہ منظر تھا جو بطور ڈائریکٹر ایف آئی اے فاٹا کے علاقے میں دیکھ چکا تھا۔ ان لوگوں کی عادات بھی ہمارے قبائلی علاقہ کے لوگوں سے مماثلت رکھتی ہیں وہ بھی سارے لوگ گوشت خور ہیں ۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ لوگ شام کو کھانے کے بعد سبز رنگ کے پتے چباتے تھے جس طرح ہمارے قبائلی بھائی نسوار استعمال کرتے ہیں ۔ مجھے اس بات کا ذاتی طور پر علم ہے کہ فاٹا میں آپریشن کے بعد وہاں موجود افریقہ اور عرب کے انتہا پسند یمن چلے گئے تھے انہیں یمن پہنچنے میں سی آئی اے نے مدد دے رکھی تھی۔

قدیم زمانے میں یمن کو عرب کا خوش قسمت علاقہ سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ علاقہ بدقسمتی کا شکار ہے۔ یمن کے پہاڑوں کی وجہ سے وہاں سازشیں زیادہ ہوتی ہیں حالانکہ یہ علاقہ بہت زرخیز ہے۔ یمن کی تاریخ تین ہزار سال پرانی ہے۔ ایک ہزار قبل مسیح میں جنوبی عرب میں تین قبائل حکمران رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یمن میں ملکہ سباء یا شہزادی بلقیس کا وطن ہے۔ ملکہ سباء کو حضرت سلیمانؑ نے خدا کی وحدانیت قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ اس قصے کا انجیل اور قرآن دونوں میں تذکرہ ہے۔

بعد میں حضرت سلمان نے ملکہ سباء سے شادی کرلی اور اسے یمن کا حکمران رہنے کی اجازت دے دی۔ یمن تاریخی اعتبار سے اہم ملک ہے یہاں رہنے والے عرب النسل لوگ ہیں زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ یمنی معاشرہ قبائلی معاشرہ ہے شمالی یمن میں قریباً 400 زیدی قبائل آباد ہیں۔ اسامہ بن لادن کا خاندان بھی جنوبی یمن کی وادی دوان سے تعلق رکھتا ہے بعد میں لادن خاندان یمن سے سعودی عرب آکر آباد ہوگیا۔ بعد میں نوے کی دہائی میں جہادی جو افغانستان میں سویت یونین کی فوج کے خلاف لڑتے رہے افغانستان سے جاکر یمن میں آباد ہوگئے۔

ایک زمانے میں سعودی عرب اور یمن میں گہرے مراسم تھے ۔ مغربی ملکوں کو سعودی عرب اور یمن کے قریبی تعلقات پسند نہیں تھے۔ مغربی ملکوں نے یمن کے ذریعہ مشرقی وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی سازش کی سعودی عرب اور یمن کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔2009ء میں عبداﷲ حسن العسیری نامی شخص نے جو القاعدہ کارکن تھا‘ اس نے سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ ایک خودکش حملے میں عمر بن نائف کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس حملے میں شہزادہ بچ گیا۔ البتہ وہ معمولی زخمی ہوا۔ خودکش بمبار خود مارا گیا۔ یہی حملہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی کا سبب بن گیا۔ یمن پر طویل عرصہ تک زہری شیعہ اماموں نے حکومت کی۔حوثی قبائل نے یمن میں شیعہ تحریک کے احیاء کی کوشش کی۔ حوثیوں نے امامت کی بحالی کا مطالبہ نہیں کیا۔

درحقیقت حوثی یمن میں سیاسی اور معاشی اصلاحات چاہتے ہیں۔ وہ یمن میں کسی سنی حکمران کی جگہ شیعہ حکمران کے حق میں ہیں اس وقت یمن میں جنگ حوثیوں اور حکومت کے درمیان جاری ہے۔ شمالی یمن پر حوثیوں کا قبضہ ہے۔ ستمبر2011 میں حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا۔ حوثیوں کے صدر مروی کی حکومت کو جلا وطنی پر مجبور کردیا۔ مالی اعتبار سے یمن ایک اہم ملک ہے حوثی سارے ملک پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں۔ اس لئے سعودی عرب نے 2015ء میں ایک کوالیشن قائم کی تاکہ حوثیوں کو شکست دی جائے جنگ اب بھی جاری ہے۔

سعودی عرب کا مؤقف یہ ہے کہ ایران حوثیوں کو مالی اور عسکری امداد دے رہا ہے اور انہیں تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔ اس ملک کی وجہ سے یمن میں 2015ء سے 2017ء تک 13ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جس میں 5200 بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب اور ایران دونوں کو اس جنگ میں گھسیٹا گیا ہے۔

سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک یمن میں امن اور استحکام کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر عبداﷲ صائم کو قتل کردیا تھا۔ اب صرف 32 کلومیٹر کی حدود یمن حکومت کے قبضے میں ہے۔

یمن کی تعمیرنو کی حوثی کسی عرب ملک کو اجازت نہیں دیں گے۔ یمن کے اندرونی ذرائع کے مطابق وہ پاکستان آرمی کو یمن کی تعمیر نو کا کام کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے جو سعودی عرب کی دوستی کا دم بھرتا ہے اور ہمیشہ سعودی عرب کی تعریف کرتا ہے نے سعودی عرب کے بارے میں انتہائی قابل اعتراض ریمارکس دیئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ’’شاہ سلمان کو پسند کرتا ہوں لیکن میں نے کہا کہ شاہ ہم آپ کو تحفظ دے رہے ہیں ورنہ آپ کی حکومت دو ہفتے تک قائم نہیں رہ سکتی۔ آپ کو اپنی فوج کے لئے ادائیگی کرنا ہو گی۔ یہ نہ صرف سعودی عرب کے لئے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لئے چیلنج ہے کیونکہ ہمارا مکہ اور مدینہ سعودی عرب میں ہے۔

میرے خیال میں سعودی عرب کو اب پاکستان کے سیاسی یا تعاون کی ضرورت نہیں سعودی عرب کو پاکستان زون کی ضرورت ہے۔ ملک پاکستان کو ان مخصوص حالات کی وجہ سے خاص طور پر دہشت گردی کی وجہ سے کسی اور ملک میں مداخلت سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی مکمل حمایت کرے۔ ہمیں سعودی عرب کی داخلی ا ور خارجی خطرات میں غیر مشروط مدد کرنی چاہئے۔ مشرق وسطیٰ میں داعش اور دوسری تنظیمیں مسلسل خطرے کا سبب ہیں۔ صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے بھی صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے۔ بڑھتا ہوا بین الاقوامی دباؤ سعودی عرب پر مزید بڑھ سکتا ہے۔ میرے خیال میں یمن میں پاکستان کی مصالحت کی ضرورت نہیں بلکہ سعودی عرب کو پاکستان کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے۔

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند