تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جمال خاشقجی کے باوقار بیٹے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 12 ربیع الثانی 1441هـ - 10 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 27 صفر 1440هـ - 7 نومبر 2018م KSA 05:23 - GMT 02:23
جمال خاشقجی کے باوقار بیٹے

مقتول جمال خاشقجی کے بیٹوں نے سی این این سے انٹرویو میں واضح اور دو ٹوک الفاظ میں ان لوگوں کے اختیار کردہ مؤقف سے اختلاف کیا ہے جو ان کے والد کی موت سے ناجائز سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور اپنے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں لیکن ان کا مقتول جمال خاشقجی یا ان کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سچ بولا جانا چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت جو کچھ کہہ رہی ہے، جمال خاشقجی کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں تھا۔دراصل یہ لوگ ان کی موت کے کیس کو سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔وہ اپنا انتقام لینا چاہتے اور اپنی کسریں نکالنا چاہتے ہیں یا اپنی نفرت کا اظہار چاہتے ہیں تاکہ اپنے سیاسی مخالفین کو نقصان پہنچا سکیں۔

جمال خاشقجی مرحوم (اللہ ان کی مغفرت فرمائیں) کے بڑے بیٹے صلاح الدین خاشقجی نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا:’’ شاہ سلمان نے یہ بات زور دے کر کہی ہے جو کوئی بھی اس واقعے میں ملوث ہے،اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور مجھے ان کی بات پر اعتبار ہے۔ ایسا ہوگا ورنہ سعودی عرب کبھی اپنی داخلی تحقیقات شروع نہیں کرتا‘‘۔

صلاح الدین خاشقجی اور ان کے بھائی عبداللہ خاشقجی کا واشنگٹن میں سی این این سے انٹرویو ان لوگوں کے چہرے پر ایک طرح سے چانٹا ہے جو اس قتل کیس کو سعودی عرب کی شہرت کو داغ دار کرنے اور اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔انھیں اس کی کچھ پروا نہیں تھی کہ حقیقت میں ہوا کیا ہے اور خاشقجی خاندان کے کیا محسوسات ہیں؟

سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل پر ایک واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے اور اس کا اظہار شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یوں کیا تھا کہ جو لوگ بھی قتل کے اس واقعے میں ملوث ہیں،انھیں سزا دی جائے گی اور انصاف کا بول بالا کیا جائے گا۔سعودی عرب میں حکام اس سمت میں کام شروع کرچکے ہیں۔تاہم سعودی عرب کے دشمن ان سنجیدہ اور عملی اقدامات کو نظرانداز کرتے ہوئے خاشقجی کیس کو ایک رستے ہوئے زخم کے طور پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ و ہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں لیکن مملکت کی سیاسی کمان فیصلہ کن اور پُرعزم انداز میں اس کے خلاف کھڑی ہے۔

صلاح الدین اور عبداللہ خاشقجی کا سی این این سے انٹرویو میں کہنا تھا کہ انھیں سعودی عرب کے نظامِ عدل میں یقین ہے اور عدلیہ پیشہ ورانہ انداز میں اپنا کام کرے گی۔ بالخصوص مملکت کی اعلیٰ اتھارٹی شاہ سلمان نے صلاح الدین کو ملاقات میں یقین دلایا تھا کہ جس کسی نے بھی ان کے والد کو قتل کیا ہے،اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور اس سے واضح اور شفاف انداز میں انصاف کیا جائے گا۔

صلاح الدین نے اپنے والد کے کیس سے مفاد حاصل کرنے کی کوششوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ بہت سے لوگ ابھی تک آگے آ رہے ہیں اور وہ ان کی وراثت کے دعوے دار بننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بعض اس معاملے کو سیاسی انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ہم ان سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے اپنے والد کے خون سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے ۔جب ان سے انٹرویو نگار نے پوچھا کہ کیا انھیں سعودی عرب کی سیاسی کمان کے وعدوں پر اعتماد ہے تو انھوں نے واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ ’’ہاں‘‘۔ یوں انھوں نے ان لوگوں کا ساتھ دینےسے انکار کردیا ہے جو سعودی عرب اور اس کے عوام کا بُرا چاہتے اور مُوت میں مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔

’’جمال کا انصاف‘‘ کے عنوان سے نعرے بازی کرنے والوں کی کوششوں پر خاشقجی خاندان کو تشویش لاحق ہے اور اس کے خیال میں اس طرح رائے عامہ پر منفی انداز میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس سے انصاف سے انحراف ہی کا راستہ کھلے گا اور ان لوگوں ، ممالک اور فریقوں کے ہاتھ میں ایک پتا آ جائے گا جو سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں اور اپنے اپنے سیاسی ، سکیورٹی اور اقتصادی مفادات کا حصول چاہتے ہیں۔انھیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ جمال کے ساتھ درحقیقت معاملہ کیا پیش آیا تھا کیونکہ ان کا اپنا پہلے سے طے شدہ ایک ایجنڈا اور مقاصد ہیں اور وہ ان کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

اس تناظر میں صلاح الدین کا کہنا تھا کہ ’’ رائے عامہ اہمیت کی حامل ہے لیکن مجھے یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس کو زیادہ سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔لوگ اس طرح کے تجزیے کررہے ہیں جن سے ہم سچائی سے دور جاسکتے ہیں۔ان میں زیادہ تر سیاسی تجزیے اچانک وارد نہیں ہورہے ہیں بلکہ جان بوجھ کر کیے جارہے ہیں۔ان کے ذریعے سعودی مملکت کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں تاکہ اس کا نشاۃ ثانیہ کا سفر تاخیر کا شکار ہوجائے اور وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء پر عمل درآمد سے پیچھے ہٹ جائے۔یہ ویژن صرف سعودی عرب کی نشاۃ ثانیہ ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے آیندہ تیس سال کے دوران میں ایک مختلف مشرقِ اوسط کو تخلیق کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور جیسا کہ ولی عہد نے چند روز قبل ہی کہا ہے کہ یہ نیا مشرقِ اوسط ایک بالکل ’نیا یورپ‘ ہوگا۔ متعدد ممالک اور جماعتیں جو سعودی عرب کو ایک جدید، مضبوط اور پیداواری معیشت کی حامل ریاست کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اس تبدیلی کی راہ میں حائل ہونا چاہتے ہیں۔

صلاح الدین نے انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان سعودی عرب لوٹنا چاہتے ہیں تا کہ وہ جدہ میں بنک کاری کے شعبے میں اپنا کام جاری رکھ سکیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ سعودی عر ب میں یقین رکھتے ہیں اور اس کو اپنا پہلا اور آخری مادر وطن بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔انھوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تمام غیر منطقی وضاحتوں اور افواہوں کو مسترد کردیا ہے۔بالخصوص انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اپنی ملاقات کے بعد بعض میڈیا ذرائع کی اطلاعات پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کی شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات کے حوالے جن تجزیوں میں منفی آراء کا اظہار کیا گیا ہے، وہ محض بے بنیاد دعوے ہی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔

جمال کے دوسرے بیٹے عبداللہ نے کہا کہ وہ بے تکان میڈیا کے دعووں پر حیران وپریشاں ہیں۔ وہ خاشقجی خاندان کے احساسات کو ملحوظ رکھے بغیر ہی من گھڑت کہانیاں پھیلا رہا ہے ۔انھوں نے کہا:’’ ہم میڈیا اور گم راہ کن اطلاعات کو بھی دیکھ رہے ہیں۔بہت سے اتار چڑھاؤ رونما ہورہے ہیں‘‘۔ان کا اشارہ علاقائی اور عالمی میڈیا کی دیومالائی کہانیوں کی جانب تھا جن کی دلیل ومنطق کو بالائے طاق رکھ کر تشہیر کی جارہی ہے اور جان بوجھ کر صحافت کے پیشہ ورانہ معیارات کو بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔

خاشقجی خاندان کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جمال کی مغفرت فرمائیں اور وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے حب الوطنی پر مبنی موقف پر کان دھرے جائیں اور وہ غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔مقتول کے خاندان نے سعودی عرب کی عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کردیا ہے۔

مقتول جمال کے بیٹوں نے اس وقار ، حب الوطنی اور وفادار ی کا اظہار کرکے ان لوگوں کو خاموش کردیا ہے جو ان کے ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور اپنے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ان کے والد کی موت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب سعودی عرب کی شہرت اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے لوگ اس خاندان کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلیں گے یا وہ ان کا احترام نہیں کریں گے اور اپنے تخریبی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی راہ پر چلتے رہیں گے لیکن سعودی عوام پہلے بھی ایسی تخریبی کوششوں کو اپنے طویق پہاڑ ایسے بلند عزم کے ذریعے ناکامی سے دوچار کرچکے ہیں۔وہ اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

تخریبی ذہنیت کے حامل لوگوں کو امید تھی کہ اس بحران سے وہ سعودی عوام اور شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان کچھاؤ کی سی کیفیت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ان کے چلائے گئے تیر وں کا رُخ ان ہی کی جانب ہوگیا ہے اور ان کی سب کوششیں رائیگاں چلی گئی ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند