تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین کون؟ کونسی پارلیمانی اور جمہوری روایت ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 12 ربیع الثانی 1441هـ - 10 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 29 صفر 1440هـ - 9 نومبر 2018م KSA 23:04 - GMT 20:04
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین کون؟ کونسی پارلیمانی اور جمہوری روایت ؟

آج کل اپوزیشن بالخصوص پاکستان مسلم لیگ نون اس بات پر زور دے رہی ہےکہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی قیادت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو سونپی جائے کیونکہ یہ پارلیمانی روایت ہے کہ کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے ۔ پیپلز پارٹی خاص طور پر کمیٹی کے سابق چیئرمین سید خورشید شاہ اس مؤقف میں ان کا بھر پور ساتھ دے رہے ہیں ۔۔ دونوں کی مشترکہ اور متفقہ رائے ہے کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیاں کسی بھی پارلیمانی کمیٹی کی ر کنیت قبول نہ کرنے سمیت کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتی ہیں ۔

کرپشن کے خلاف طویل جدوجہد اور اس پر سخت بیانیے کی بدولت بر سر اقتدار آنے والی پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) سختی سےاس مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ کرپشن کے الزام میں زیر ِحراست میاں شہباز شریف کو کسی طور اس کمیٹی کا چیئر مین نہیں بنایا جا سکتا جس کا کام ہی کرپشن اور مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرنا ہے اور وہ بھی اس دورانیے کی کہ جس میں شہباز شریف خود مسلم لیگ نون کے گڑھ اور سب سے بڑے صوبےپنجاب کے طاقتور وزیر اعلیٰ اور ان کے بڑے بھائی نواز شریف ریکارڈ تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم تھے ۔

پی ٹی آئی اس اہم منصب کے لیے سابق اسپیکر اور بزرگ سیاستدان سیّد فخر امام کا نام تجویز کر رہی تھی جو 25 جولائی کو منعقدہ عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے منتخب ہو کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے ۔ اپوزیشن کے سخت مؤقف کے بعد حکمران جماعت نے درمیانی راستہ نکالنے کے لیے بلوچستان سے قوم پرست رہنما اوربلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کے نام پر بھی رضامندی ظاہر کر دی لیکن اپوزیشن کے غیر لچکدار طرز ِعمل کی وجہ سے یہ بیل بھی منڈھے نہیں چڑھ سکی ۔

اب کہ کمیٹیوں کی تشکیل کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے تو معاملے کو افہام و تفہیم سے نمٹانے کی غرض سے پی ٹی آئی نے شہباز شریف کی جگہ مسلم لیگ نون کے کسی بھی دوسرے رکن اسمبلی کو یہ منصب دینے کی پیشکش کی ہے ۔اس کا مسلم لیگ کی طرف سے کوئی مثبت جواب آنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ وہ اپنے پارٹی صدر ہی کو اس منصب پر فائز کرکے ان کی مشکلات میں ممکن حد تک کمی لانا چاہتی ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے چار اور مسلم لیگ نون نے اپنے تین ادوار حکومت میں اس منصب پر کن لوگوں کو نامزد کیا اور کیا درخشاں روایات قائم کیں کہ جس پر وہ اترا رہے ہیں اور جس عظیم 'پارلیمانی روایت ' کا دونوں اپوزیشن پارٹیاں حوالہ دے رہی ہیں وہ ہے کیا اور کتنی پرانی اور مستحکم ہے؟

1۔ پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت (ذوالفقاربھٹو دور 77-1972) میں پارٹی کے کسی عام رکن اسمبلی کو تو ایک طرف ، اس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن اور بعد میں رانا حنیف خان ہی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنادیاگیا تھا ۔

2۔ پی پی پی کے دوسرے دور حکومت (بے نظیر بھٹو کا دورِاوّل 90-1988) میں پارٹی کے اپنے ایم این اے ، وزیر اعظم کے محترم سسراور آصف علی زرداری کے والد محترم حاکم علی زرداری کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا تھا اور وہ ’’بہ خیر وخوبی ‘‘ اپنے فرائض انجام دیتے رہے تھے ۔

3۔ پیپلز پارٹی کےتیسرے دور حکومت ( محترمہ بے نظیر بھٹو کا دورثانی 96-1993) میں بھی کمیٹی کا چیئرمین راؤ ہاشم خان کی صورت میں پارٹی کا اپنا جیالا ہی تھا۔

4۔ پیپلز پارٹی کے چوتھے دورِ حکومت ( 13- 2008) میں بظاہر تو میثاقِ جمہوریت کی پسندیدہ شقوں پر یک طرفہ عملدرآمد کرنے کا تاثر دیا گیا اور بڑے زور شور سے مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر اور اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کیا گیا لیکن یہ رومانس صرف تین سوا تین سال ہی جاری رہ سکا ۔ چودھری نثار اس منصب سے الگ ہوگئے یا الگ ہونے پر مجبور ہوئے تو مسلم لیگ نون کے کسی دوسرے رکن اسمبلی کو اس منصب پر فائز کرنے کے بجائے برسر اقتدار پیپلز پارٹی ہی کے ندیم افضل چن کو یہ سعادت بخش دی گئی جو اپریل 2012 سے مارچ 2013 میں حکومت کی مدت پوری ہونے تک کمیٹی کے چیئرمین رہے ۔دوسرے لفظوں میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں "اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کی جمہوری و پارلیمانی روایت " صرف تین سال قائم رہ سکی تھی۔

5۔ مسلم لیگ کے تین ادوار حکومت کا جائزہ لیں تو سوائے آخری دور حکومت کے ، اس نے بھی اپنے ہی پارٹی ارکان کو نوازا اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی جیسا اہم عہدہ انھیں سونپا ۔

میاں نواز شریف کے پہلے دونوں ادوار حکومت(93-1990 اور 99-1997)میں مسلم لیگ ہی کے ایم حمزہ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کےچیئرمین کا عہدہ تفویض کیا گیا ۔

6۔ گذشتہ اڑتالیس سالہ دور میں نواز شریف(مسلم لیگ نون ) کا تیسرا دور حکومت ( 18-2013)ہی واحد استثنا تھا جب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا اور انھیں حکومت کی آئینی مدت پورے ہونے تک اس عہدے پر برقرار رکھا گیا ،یہ وہ واحد "پارلیمانی روایت " ہے جس کے کریڈٹ کا مسلم لیگ نون دعویٰ کر سکتی ہے ۔ اس مثبت روایت کی وجہ اس کی جمہوریت سے کمٹمنٹ بھی ہو سکتی ہے اور مبینہ دھاندلیوں کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنوں اور طویل عرصہ تک باری باری اقتدار میں ر ہنے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی مبیّنہ کرپشن کے خلاف عمران خان کی مسلسل اور انتھک سیاسی مہم بھی کہ جس نے دونوں ممکنہ متاثرین کوایک دوسرے کے مزید قریب رہنے پر مجبور کیے رکھا اور انھیں کئی نمائشی اقدامات کرنا پڑے ۔

موجودہ حالات میں تحریک ِانصاف کا مؤقف یہ ہے کہ نیب کے ہاتھوں کرپشن کےالزام میں گرفتار اور سپیکر کی طرف سے جاری پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے والے اپوزیشن لیڈر اورمسلم لیگ نون کے صدرشہباز شریف کو کیسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جاسکتا ہے جبکہ کرپشن کا خاتمہ اور اس قبیح فعل میں ملوث افراد کو منطقی انجام تک پہنچانا حکمران جماعت کا سب سے بڑا اور مقبول نعرہ اور انتخابی وعدہ تھا ۔ دوسرے یہ کہ ایک بھائی کو کیسے اپنی ہی پارٹی اور اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے دور ِحکومت کے حسابات کا آڈٹ کرانے اورمبیّنہ کرپشن اور مالیاتی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے ، ایسا کرنا میرٹ ، انصاف ، فیئر پلے، عوامی مفاد اور مفادات کے تصادم کے بنیادی اور مسلمہ اصولوں کے بھی خلاف ہے ۔

ایسے معلوم ہو رہا ہے کہ سپیکر اسد قیصرکی رائے اور خواہش کے برعکس حکمران جماعت ، خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان ، جہانگیر ترین ، فواد چودھری اور بعض دوسرے مرکزی قائدین اس بات پر ڈٹ گئے ہیں کہ شہباز شریف کوپبلک اکاؤٹس کمیٹی کا چیئرمین قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایسا کرنا انکے بنیادی بیانیے کی نفی بلکہ موت ہوگا ۔ اس کا حل ان کی نظر میں یہ ہے کہ یا تو مسلم لیگ کو شہباز شریف کی جگہ کسی اور رکن اسمبلی کو اس منصب کے لیے نامزد کرنے پر مائل اور قائل کیا جائے یا مسلم لیگ کےدورحکومت کے عرصے کے حسابات کے لیے تحریک انصاف کے نامزد کردہ کسی رکن کو اور اس کے بعد تحریک انصاف کے دور حکومت کے حسابات کے جائزے کے لیے شہباز شریف یا حالات کے مطابق مسلم لیگ کے کسی اور رکن کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کیا جائے ۔اس عرصے میں سیاسی گرد بھی کافی حد تک بیٹھ جائے گی اورفضا مزید نکھر جائے گی۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند