تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب: پرامن ایٹمی کلب میں داخل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 جمادی الثانی 1440هـ - 19 فروری 2019م
آخری اشاعت: منگل 11 ربیع الاول 1440هـ - 20 نومبر 2018م KSA 08:32 - GMT 05:32
سعودی عرب: پرامن ایٹمی کلب میں داخل

بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ سعودی عرب وژن 2030 میں منظور شدہ متعدد ایٹمی منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے کئی ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے کے بعد پرامن بین الاقوامی ایٹمی کلب میں داخل ہو گیا ہے۔

بعض مبصرین ایٹمی پلانٹ کی بابت خدشات ظاہر کر رہے ہیں تاہم ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اب ایٹمی پلانٹ سلامتی کیلئے پرخطر نہیں رہے۔ اسی لئے بین الاقوامی ایٹمی مارکیٹ میں صاف ستھری ایٹمی توانائی کے استعمال کا رجحان بڑھنے لگا ہے۔ ماضی میں پیٹرول، گیس اور کوئلے کے استعمال پر زیادہ زور تھا۔ اب اس کے مقابلے میں صاف ستھری ایٹمی توانائی کو ترجیح دی جانے لگی ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ ایٹمی توانائی ہی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ شمسی توانائی پر بھی اس کو سبقت حاصل ہے۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی پائدار ترقیاتی پروگرام میں ایٹمی توانائی کے استعمال کی سفارش کرنے لگی ہے.

سعودی عرب کو آئندہ دس برس کے دوران ہزاروں میگا واٹ بجلی اور لاکھوں ٹن پینے کے پانی کی ضرورت پڑے گی۔ سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے مختلف جہتوں میں پھیلا ہوا وسیع وعریض ملک ہے۔ اس کے مشرق ومغرب میں سمندر کے ساحل پھیلے ہوئے ہیں۔ ساحل پر ایٹمی پلانٹ آسانی سے قائم کئے جا سکتے ہیں۔ ایٹمی توانائی کے مثبت اور براہ راست اثرات دسیوں شعبوں پر پڑیں گے۔ خاص طور پر بجلی سازی اور کھارے پانی کو میٹھا بنانے والے منصوبوں کو اس سے بڑا فائدہ ہو گا۔ علاوہ ازیں کھیتی باڑی، صحت، صنعت، تعلیم بلکہ پیٹرول اور گیس نکالنے میں بھی اس کی بدولت سہولت ملے گی۔

سعودی عرب گذشتہ 10 برس کے دوران ایٹمی توانائی کے ماہر تربیت یافتہ افراد تیار کر چکا ہے۔ سعودی جامعات بھی اس تبدیلی کیلئے تیار ہیں۔ ان کے یہاں تربیت یافتہ انجینئرز، تکنیکی عملہ اور اعلیٰ تعلیم پانے والے طلباء موجود ہیں۔ ہمارے یہاں انجینیئرنگ اور ایٹمی فزکس کے شعبے 10 سے زیادہ جامعات میں کھلے ہوئے ہیں۔ ان شعبوں سے اچھی خاصی تعداد تیار ہو چکی ہے۔ ریسرچ سینٹرز، انسٹی ٹیوٹس اور اس طرح کے دسیوں نئے شعبے بھی کھولے جا سکتے ہیں۔اس کی ذمہ داری کنگ عبدالعزیز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سٹی اور کنگ عبداللہ ایٹمی توانائی سٹی کی ہے۔

مملکت میں کھارے پانی کو استعمال کے قابل بنانے کیلئے ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال سے لاگت بھی کم ہوگی۔ اس سے پیٹرول کا بھاری مقدار میں ضیاع بند ہو گا۔ اس کی بدولت سعودی عرب کی آنے والی نسلوں کو خام پیٹرول ملتا رہے گا۔ ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہو گی۔

ایٹمی توانائی کی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مختلف ممالک بھاری مقدار میں پیٹرول استعمال کرتے رہے تو ایسی صورت میں پیٹرول کے ذخائر آئندہ چند عشروں میں ختم ہو جائیں گے۔ ویسے بھی پیٹرول کے نرخ کفایت شعاری کے دائرے سے نکل گئے ہیں۔ ان سے اچھے نرخ ایٹمی توانائی کے ہیں۔ ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایٹمی توانائی ہی دنیا بھر میں صاف ستھری، سستی اور مناسب نعم البدل ہے۔ بڑے ممالک نے جو تیل بھاری مقدار میں استعمال کر رہے ہیں۔ پیٹرول کی بجائے ایٹمی توانائی کے استعمال کا عندیہ دینا شروع کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیمیں بھی پیٹرول کے استعمال سے ہونے والی آلودگی کے نقصانات سے مسلسل آگاہ کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پوری قوت سے ایٹمی توانائی سائنس کا رخ کرنے لگے ہیں۔ ایٹمی توانائی ”ایٹمی میڈیسن“، زرعی محصولات، کھاد وغیرہ میں بھی اہم کردار ادا کرنے لگی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے، کم ہے کہ اس نے سعودی عرب کو تمام نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ ہمارے یہاں تیل کے ذخائر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔ ہمارے یہاں شمسی توانائی کا سرچشمہ سب سے بڑا ہے۔ یہاں سال بھر سورج کی تیز شعاعیں پڑتی ہیں جو شمسی توانائی کا اہم ماخذ ہیں۔ اسی طرح ہمارے یہاں سمندری ساحل کی پٹی سیکڑوں میل میں پھیلی ہوئی ہے جہاں جتنے چاہیں ایٹمی پلانٹ قائم کر سکتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند