تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب مخالف مہم میں دنیا کا نقشہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 18 ذوالحجہ 1440هـ - 20 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 12 ربیع الاول 1440هـ - 21 نومبر 2018م KSA 18:26 - GMT 15:26
سعودی عرب مخالف مہم میں دنیا کا نقشہ

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں ترکی نے قطر کے ساتھ مل کر سعودی عرب کو نیچا دکھانے کا ایک موقع حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔اس مہم کے ہر گزرتے دن کے ساتھ انھیں یہ احساس ہوا کہ کوئی دوسرا ملک ان کی اس مہم میں شامل ہونے کو تیار نہیں کیونکہ خطے کے ملکوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مکمل منظرنامےسے ان سے زیادہ بہتر انداز میں آگاہ تھے اور وہ اس کو حقیقی فریم ورک ہی میں جانچ رہے تھے( اور یہ مہم عارضی ثابت ہوئی ہے) ۔وہ بخوبی سمجھتے تھے کہ حالات کا صفحہ پلٹ جائے گا اور پھر احتساب کا وقت آ جائے گا۔

آیندہ چند روز میں جمال خاشقجی کے اندہ ناک قتل کے واقعے کو دوماہ پورے ہوجائیں گے۔ اس واقعے کی پہلے روز سے ہی میڈیا پر اس منظم انداز میں مہم برپا کی گئی ہے کہ اس کے شعلے مسلسل جلتے ر ہیں۔چناں چہ جو کچھ ہوا تھا ،اس کو سیاسی جرم بنانے کی کوشش کی گئی اور اس مہم کو سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے ایک منظم منصوبے میں تبدیل کردیا گیا۔ ان گرما گرم دنوں میں عرب اور دوسرے ممالک کے مؤقف کا نقشہ وضع ہوا تھا۔

تندوتیز میڈیا مہم نے مختلف مغربی ممالک میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اپنی حکومتوں کو سز ا دینے کا ایک موقع فراہم کردیا تھا ۔خاشقجی کیس یورپ میں مقامی سیاسی تنازعات میں ایک موضوع بحث بن گیا اور امریکا میں وسط مدتی انتخابات کا ایجنڈا بن گیا تھا۔یورپی حکومتوں کو اپنے مخالفین کے دباؤ کا جواب دینا تھا ۔اس لیے ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ اس جرم کی مذمت کریں اور سعودی عرب کو اس کا ذمے دار ٹھہرائیں۔

قطر کے سوا تمام عرب ممالک سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ترکی کے سوا اسلامی ممالک بھی سعودی عرب کے ساتھ کھڑے تھے۔ حتیٰ کہ ایران نے بھی ترکی یا قطر کا مکمل ساتھ نہیں دیا تھا۔

مغرب کے بظاہر تین ماڈل سامنے آئے تھے۔ روس نے سعودی عرب کی حمایت کا ماڈل پیش کیا تھا۔امریکا نے اپنے تزویراتی تعلقات میں ایک طرح سے توازن قائم کرنے کی کوشش کی تھی اور الریاض کو سزا دینے کے مطالبے کا بھی جواب دیا تھا۔یورپ کے بڑے ممالک نے سعودی عرب کے خلاف کھڑے ہونے سے اتفاق کیا تھا۔

مؤقف میں تبدیلی

سعودی عرب کے خاشقجی کیس سے متعلق اقدامات کے اعلان کے بعد چند ہفتوں ہی میں منظرنامہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا۔سعودی عرب نے واقعے میں ملوث مشتبہ ملزمان کی گرفتاری اور سیاسی طور پر ذمے دار افراد کی برطرفی کا اعلان کیا۔اس کے ساتھ اس نے جو کچھ رونما ہوا تھا،اس کی ابتدائی تفصیل کا اعلان کیا تھا۔اس سے عرب ممالک کی جانب سے الریاض کی حمایت میں اضافہ ہوا،امریکا نے اس کی حمایت کااعادہ کیا ۔ یورپ کے موڈ میں بھی تبدیلی رونما ہوئی اور اس نے سعودی مملکت کی اس کیس سے متعلق اقدامات کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی۔

خاشقجی کیس کے ابتدائی ہفتوں کے دوران میں میڈیا کی تندوتیز مہم ہوا کا رُخ سعودی عرب کے خلاف موڑنے میں کامیاب ہوگئی تھی مگر آج صورت حال یہ ہے کہ مغرب نے ٹھنڈا پڑنے کے بعد پسپائی اختیار کرلی ہے اور وہ پرائی میں کودنے کے بجائے اپنی نبیڑنے میں مصروف ہوگیا ہے۔اب بعض دلیرانہ آوازیں اٹھ رہی ہیں اور وہ انقرہ میں سیاسی چھیڑ چھاڑ کی جانب اشارے کررہی ہیں جس کے نتیجے میں قتل کے جرم کا ایک واقعہ مغربی دارالحکومتوں میں الریاض کے خلاف ایک سیاسی کھیل میں تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔

ان آوازوں میں سے ایک فرانسیسی وزیر خارجہ کی تھی۔انھوں نے کھلے عام وہ بات کہی ہے جو ان کے ہم منصب سعودی حکام یا سعودی مملکت کے اتحادیوں سے بند کمروں کی ملاقات میں کہہ رہے ہیں۔تاہم وہ اپنے داخلی تحفظات کے پیش نظر اس کا کھلے عام اظہار کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے ان سب کی جانب سے ہی بات کی ہے اور یہ بات ملحوظ رکھی جانی چاہیے کہ ان کے ملک نے برطانیہ اور جرمنی کے ساتھ مل کر بحران کے ابتدائی دنوں میں سخت الفاظ پر مبنی بیانات جاری کیے تھے۔

آج ترکی اور قطر کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوچکی ہیں اور آہنی پردے گر چکے ہیں لیکن بعض لوگ کب سمجھیں گے کہ دوسرے کو نقصان پہنچانا کوئی دلیری یا ہیرو ازم نہیں ہے اور اندھیرے میں تیر چلانا کوئی فن نہیں ہے۔دلاوری یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر راستے کا انتخاب کیا جائے اور وقار کا علم بلند رکھا جائے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند