تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا-پاکستان کی افغانستان میں ناکامی، روس اور ایران کی کامیابی ہو گی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 جمادی الثانی 1440هـ - 19 فروری 2019م
آخری اشاعت: بدھ 19 ربیع الاول 1440هـ - 28 نومبر 2018م KSA 09:12 - GMT 06:12
امریکا-پاکستان کی افغانستان میں ناکامی، روس اور ایران کی کامیابی ہو گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ٹویٹر پر ’جنگ‘ دراصل گذشتہ 17 برسوں سے افغانستان میں ہونے والی لڑائی کے تناظر میں جاری ہے جس میں ماضی کے حلیف ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ دونوں حلیفوں کے درمیان اعتماد کی کمی سے خطے میں بالا دستی کا خواب دیکھنے والی قوتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ قوتیں فی الحقیقت اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات میں بڑھاوے کی خواہش مند ہیں جبکہ دوسری طرف یہی لوگ افغانستان میں امریکا اور پاکستان کا اثر ونفوذ کم کرنے میں کوشاں ہیں۔

افغانستان میں روس، بھارت اور ایران کی شکل میں ایک نیا محور مترشح ہو رہا ہے۔ تینوں ملک افغانستان میں جنگ کی ایسی دلدل پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ جس میں الجھ کر امریکا اور پاکستان کی توانائی اور وسائل ختم ہو جائیں اور افغانستان سے امریکا اور اسلام آباد کا اثر ونفوذ ختم ہو جائے۔

بادی النظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ اور عمران خان کی ٹویٹر پر ایک دوسرے پر لفظی گولا باری کے بعد مذکورہ محور اپنے ہدف کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ فریقین نے ایک دوسرے پر افغان جنگ کی طوالت کے کا الزام عائد کیا ہے۔ ہمارے سامنے دو مسائل ہیں: امریکا اور پاکستان کے درمیان کراس فائر، جس کا فائدہ روس، بھارت اور ایران پر مشتمل محور کو ہو رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ اتوار ’’فوکس نیوز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے دو سابقہ صدور کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ کیسے ان صدور سے بہتر ہیں؟ انٹرویو میں امریکا کی داخلی سیاست پر بات ہو رہی تھی کہ مسٹر ٹرمپ نے یکایک روئے سخن افغانستان کی جانب کر لیا اور پھر وہاں سے وہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں پناہ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے گویا ہوئے کہ ’’ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالرز دیئے ہیں، لیکن اسلام آباد نے ہماری قطعی کوئی مدد نہیں کی۔‘‘

یہاں وزیر اعظم عمران خان نے بھی فوری طور پر متعدد سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹر پیغامات کا جواب دیا جس سے ایک ’’الیکٹرانک جنگ‘‘ چھڑ گئی جس سے دوطرفہ تعلقات گہری کھائی میں جا گرے۔

بظاہر ٹرمپ اس مرتبہ پاکستان سے بحرانی کیفیت پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ وہ سابقہ صدور کو ہی نشانہ بنانا چاہتے تھے، تاہم ایسا کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، وہ پاکستانیوں کو گزند نہیں پہنچانا چاہتے تھے۔ ادھر عمران خان نے بھی ٹرمپ کو امریکی جنگ میں ساتھ دینے کی خاطر اپنے ملک کی قربانیاں یاد دلانے میں دیر نہیں لگائی۔

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ہی نے کاٹ دار تنقید سے کام لیا۔ درحقیقت دونوں ملکوں نے بہت زیادہ قربانیاں دیں اور اس دوران دسیوں غلطیوں کا بھی ارتکاب کیا۔ دونوں ملکوں نے کیمونزم کو شکست دینے کے بعد پاکستان نے امریکا سے راہیں جدا کر لیں۔ نیز اسلام آباد، واشنگٹن کے ساتھ اپنے اثر ونفوذ کو جاری رکھنے یا مزید بڑھاوا دینے میں ناکام رہا حالانکہ سرد جنگ کے دنوں میں یہ صورتحال انتہائی مضبوط تھی۔

یہاں عمران خان کا یہ سوال اپنی جگہ اہم اور جواب طلب ہے کہ ’’نیٹو کے دو لاکھ چالیس ہزار فوجیوں کا لشکر، ایک لاکھ بیش ہزار افغان فوجی اور کئی ٹریلین ڈالرز مالیت کے بجٹ کے ہوتے ہوئے امریکا کو افغانستان میں منہ کہ کیوں کر کھانی پڑ رہی ہے؟‘‘

امریکی اور پاکستانی سفارتکاروں نے ’’ٹویٹر وار‘‘ سے پیدا ہونے والے ممکنہ بحران سے بچنے کے لئے فوری طور پر کوششیں شروع کر دیں۔ امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگان‘ کے ترجمان روب ماننگ اگلے ہی روز دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا دفاع کرنے سامنے آئے۔ مسٹر ماننگ کے بہ قول ’’دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ فوجی تعاون اب بھی مضبوط ہے اور دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کے بیانات کے تبادلے کے باوجود اس میں تبدیلی نہیں آئی۔‘‘

پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک برس میں دوسری مرتبہ امریکا کے قائم مقام سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے شدید احتجاج کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں یہ عدیم النظیر بات سمجھی جاتی ہے۔

ٹویٹر کے ذریعے امریکا اور پاکستانی قیادت کے درمیان سخت الفاظ کے تبادلے پر نئی دلی، تہران بلکہ ماسکو تک میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے کیونکہ اس کے بعد سے ان تینوں ملک کے لئے  اپنا ’’کام‘‘ آسان ہو گیا۔

افغانستان میں روس کو شکست دینے میں امریکا اور پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ یقیناً اس معرکہ میں انہیں خلیج عرب اور مغربی دنیا کی بھی حمایت حاصل تھی، تاہم اب افغانستان میں ملنے والی اس کامیابی کو خطرات لاحق ہیں۔ امریکا اور پاکستان کی کمزوری کے باعث روس، بھارت اور ایران اس کامیابی کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔

روس، بھارت اور ایران پر مشتمل ٹرائیکا کا کردار مثبت نہیں رہا۔ نوے کی دہائی کے آغاز پر افغانستان میں روسی شکست کے بعد یہی ملک وہاں جنگ کی طوالت کا باعث بنے۔ اسی ٹرائیکا نے افغانستان میں طویل خانہ جنگی کی آگ کو ہوا دی جس میں افغانستان 2001 تک جلتا رہا۔

ان ہی تینوں ملک نے اب افغانستان کو ایک مرتبہ پھر تھکا دینے والی جنگ میں جھونک رکھا ہے۔ شومئی قسمت کہ اب بھی اس جنگ میں امریکی، پاکستانی اور افغان فوجی ہی کام آ رہے ہیں۔ اس کے بعد تینوں ملک الزامات اور گالم گلوچ کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں اور بذریعہ ٹویٹر پاکستان اور امریکا سے اپنا حساب چکتا کر رہے ہیں جبکہ روسی ریچھ کی خاموش حمایت سے ایران اور بھارت نے افغانستان میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔

سرد جنگ میں روس اپنی شکست کا انتقام امریکا کو افغانستان کی لایعنی جنگ میں الجھا کر لے رہا ہے۔ اس سرد جنگ کے دوران پاکستان اور امریکا اتحادی تھے۔ ایران نے امریکا اور پاکستان کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ موخر الذکر کے ایرانی شاہ کے عہد میں تہران سے حلیفانہ تعلقات تھے، تاہم بعد میں آیات اللہ کے ایرانی مسند اقتدار پر آنے کے بعد ان تعلقات میں خرابی پیدا ہو گئی۔ فطری طور پر بھارت کا نشانہ پاکستان ہے، تاہم نئی دلی بالواسطہ طور پر واشنگٹن کے بھی خلاف ہے۔

امریکا سے تعاون کے باوجود تجارت اور سیاست کی غلام گردشوں میں بہت سے پیچ وخم آتے رہے ہیں۔ اس ضمنی مگر طویل موضوع کا احاطہ ہم کسی دوسرے موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، ہچکچاتے ہوئے ہی سہی، بھارت اور ایران کے لئے چابہار بندرگاہ کے استعمال کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھ کر بڑی غلطی کی ہے۔ اس بندرگاہ کو نئی دلی اور تہران مشترکہ طور پر بنا رہے ہیں۔ بھارتی سفارتکار چابہار بندرگاہ کو امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ کروانے کے لئے کئی ہفتوں تک ٹرمپ انتظامیہ کے ترلے منتیں کرتے رہے۔ بالآخر انہوں نے بعض امریکی عہدیداروں کو یہ کہ کر شیشے میں اتار لیا کہ ’’چابہار کے آپریشنل ہونے کے بعد امریکا کو افغانستان میں فائدہ بہت زیادہ ہونے جا رہا ہے۔‘‘ اصل حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ چابہار کو آپریشنل ہونے کے بعد افغانستان امریکی کیمپ سے نکال باہر کیا جائے گا جس طرح عراق آہستہ آہستہ امریکی کیمپ سے جزوی طور پر باہر نکل گیا۔

مندرجہ بالا بحث کا نچوڑ یہی ہے کہ ٹویٹر پیغامات کی صورت میں امریکا اور پاکستان کی توانا اور سرکردہ شخصیات کے درمیان مترشح ہونے والا ’تنازع‘ دور سے شاید دلوں کو بھاتا ہو، تاہم اس لفظی گولا باری کے دورس نتائج دونوں ملکوں کے حق میں بہتر نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کے جلو میں روس، بھارت اور ایران افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنے میں روز بروز کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔
-------------------------------------
احمد قریشی پاکستانی صحافی، محقق اور ٹی وی اینکر ہیں۔ آپ اسلام آباد میں ’’پروجیکٹ پاکستان 21‘‘ کے نام سے تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مسٹر قریشی سے ٹویٹر ہینڈلر@aqpk18 یا برقی بتا aq@projectpakistan21.org پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند