تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران نے مستقبل کے کریک ڈاؤن اور دہشت گردی کے حملوں کا کیسے اشارہ دیا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 15 ربیع الاول 1441هـ - 13 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 2 ربیع الثانی 1440هـ - 11 دسمبر 2018م KSA 18:08 - GMT 15:08
ایران نے مستقبل کے کریک ڈاؤن اور دہشت گردی کے حملوں کا کیسے اشارہ دیا؟

ایران کے جنوب مشرق میں واقع چابہار میں کار بم دھماکے کے واقعےسے ان لوگوں کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں، جو ایرانی رجیم کی تاریخ سے واقف ہیں۔کہا یہ جارہا ہے کہ شہر کے ایک پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش کار بم دھماکا ہوا تھا۔ایران کے سکیورٹی اداروں کے اکٹھ کے پیش نظر یہ مؤقف کم سے کم مشتبہ ہی ہے۔

ایرانی رجیم کی اس طرح کے مشتبہ حملوں کے بعد کریک ڈاؤن اور کارروائیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔اب اس تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ مذہبی رجیم ایک اور کارروائی کی تیاری کررہا ہے اور اس میں ایرانی معاشرے کے ایک خاص حصے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ چابہار کے واقعے پر تمام نشانات اور علامتیں رجیم ہی کی پائی گئی ہیں۔اس طرح جبر وتشدد کی ایک اور لہر کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

ایرانی عرب

اس سال ستمبر میں جنوب مغربی شہر اہواز میں مسلح افراد نے ایک فوجی پریڈ پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں نصف بدنام زمانہ سپاہ پاسداران انقلاب ایران کے اہلکار تھے۔فوجی پریڈ اور پاسداران انقلاب پر حملے سے رجیم کو ایک معصومانہ کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا۔یہ تمام واقعہ ہی بہت مشتبہ اور گم راہ کن لگتا تھا ،کیونکہ:

*پاسداران انقلاب کے ارکان بہت صاف ستھرے سفید کپڑوں میں کیمروں کے سامنے چھوٹے بچوں کو بچا رہے تھے۔

*حملہ آور اسٹیج تک پہنچ گئے تھے جہاں سے بہت سے اعلیٰ عہدے دار پریڈ کو ملاحظ کررہے تھے لیکن حملہ آوروں نے حیرت انگیز طور پر پاسداران انقلاب کے نچلے گریڈوں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا تھا۔

* یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر صدارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے چندے قبل کیا گیا تھا۔

*اس حملے کے بعد اہواز اور صوبہ خوزستان میں ایرانی عرب کمیونٹی کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ میں یہ اصطلاح استعمال کی تھی:’’فوری اور فیصلہ کن ردعمل‘‘۔یہ آنے والے وقت میں سخت کریک ڈاؤن کا اشارہ تھا۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ جواد ظریف نے حملے کے چند گھنٹے کے بعد ہی کیسے یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ’’ دہشت گردوں کو ایک غیرملکی رجیم نے بھرتی کیا تھا، تربیت دی تھی ، مسلح کیا تھا اور رقم دی تھی‘‘۔اس سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا بیان پہلے ہی سے تیار شدہ تھا اور اس کے لیے بس بڑی احتیاط سےتیار کردہ تصاویر کی ضرورت تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس حملے کے بعد کم سے کم 600 کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔انھیں چھاپا مار کارروائیوں میں اس انداز میں گرفتار کیا گیا کہ مقامی آبادی اور ملک بھر میں خوف وہراس کی ایک فضا قائم ہوگئی۔

اس کریک ڈاؤن کے بعد مقامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ پریشان کن رپورٹس دی تھیں کہ بائیس افراد کو نومبر میں پھانسی چڑھادیا گیا تھا مگر ایرانی رجیم نے ہمیشہ کی طرح ان رپورٹس کو مسترد کردیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے لیے ریسرچ اور ایڈووکیسی ڈائریکٹر فلپ لوتھر کے مطابق ’’اہواز میں حملے کے وقت سے لگتا ہے کہ ایرانی حکام اس کو اہوازی عرب نسلی اقلیت کے ارکان کے خلاف کارروائی کے لیے ا ستعمال کررہے ہیں۔وہ سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنان کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں تا کہ صوبہ خوزستان میں حکومت مخالفین کو چُپ کرایا جاسکے‘‘۔

ایرانی کرد

گذشتہ سال جون میں ایسے ہی ایک مشتبہ حملے میں ایران کی پارلیمان اور ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزارکو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اے کے47 رائفلوں سے مسلح چھے حملہ آوروں نے ایرانی دارالحکومت میں واقع دو انتہائی محفوظ جگہوں پر حملہ کیا تھا۔ ان حملہ آوروں نے بارود سے بھری جیکٹیں بھی پہن رکھی تھیں۔اس حملے میں سترہ افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔اس حملے کے بعد کئی ایک سوال پیدا ہوئے تھے کہ یہ حملہ آور قلعہ نما دونوں جگہوں پر پہنچنے اور دراندازی میں کیسے کامیاب ہوگئے تھے۔

تب ایک زخمی شخص نے میڈیا کو بتایا تھا کہ کوئی شخص سکیورٹی دروازوں سے گزرے بغیر ایک قلم بھی لے کر پارلیمان میں نہیں پہنچ سکتا ہے۔ایران سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا کے صارفین نے ان حملوں میں داعش کا ہاتھ کارفرما ہونے کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے تھے کیونکہ ان حملوں کے بعد ایرانی رجیم نے جبر وتشدد کی ایک نئی مہم برپا کردی تھی۔

ایرانی رجیم کی سکیورٹی فورسز نے ان حملوں کے بعد پہلے ایران کی کرد کمیونٹی کے افراد کی پکڑ دھکڑ شروع کی تھی۔بالخصوص عراق کی سرحد کے نزدیک واقع صوبہ کرمان شاہ اور ایران کے دوسرے شہروں میں دسیوں کرد شہریوں کو انتہا پسند مذہبی گروپوں سے تعاون کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان میں سے آٹھ افراد کو مئی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

مزید برآں ایران نے شام اور عراق کے سرحدی علاقے میں بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کردی تھی ۔ ایرانی حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان میزائل حملوں میں داعش کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایسا صرف اور صرف اس جواز کو غلط ثابت کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ ایران کو داعش نے اب تک حملوں میں نشانہ کیوں نہیں بنایا ہے۔ایرانی سکیورٹی فورسز نے کرد کمیونٹی کو انتہا پسند گروپوں سے تعاون کے الزام میں نشانہ بنا دیا تھا۔اس کا ایک مقصد ایرانی رجیم کے ملک میں سماجی سطح پر گرتے ہوئے مورال کو بھی بلند کرنا تھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند