تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی آرامکو کی تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہونے کی تیاری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 15 ربیع الاول 1441هـ - 13 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 14 جمادی الاول 1440هـ - 21 جنوری 2019م KSA 21:54 - GMT 18:54
سعودی آرامکو کی تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہونے کی تیاری

سعودی آرامکو اپنی ترقی کا ایک نیا باب وا کررہی ہے اور وہ اس سال کی دوسری سہ ماہی میں اپنے بین الاقوامی بانڈ کے اجرا کا ارادہ رکھتی ہے۔اس سے 70 ارب ڈالرز کی مالیت سے اس کو دنیا کی پیٹر و کیمیکلز صنعت کی تیسری بڑی کمپنی سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن ( سابک) کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد ملے گی۔

سابک کا انتظامی کنٹرول حاصل کرنے سے آرامکو کو دنیا کی توانائی کی ایک بڑی مربوط کمپنی بننے میں مدد ملے گی اور وہ ایکسن موبائل اور رائل ڈچ شیل کے ہم پلہ ہوجائے گی ۔سعودی آرامکو نے دراصل نئے سال کا آغاز کئی ایک خبروں کے اعلانات کے ساتھ کیا ہے۔یہ اس کا مستقبل کا نقشہ راہ بھی ہوسکتا ہے اور اس سے دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والی کمپنی کی نوعیت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوکر رہ جائے گی۔

اہم بات یہ ہے کہ اس کے سعودی عرب کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) میں قائدانہ کردار کے حوالے سے بھی مستقبل میں مضمرات ہوں گے۔آرامکو عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر تزویراتی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے کیونکہ یہ پیشین گوئی کی جارہی ہے کہ آیندہ عشرے کے دوران میں ایندھن کی حمل ونقل کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔بالخصوص توانائی میں سرعت ، گیس اور قابل تجدید توانائیوں کے حصے میں بڑھوتری اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔

اس تناظر میں آرامکو کی قیادت نے اس حقیقت کا ادراک کیا ہے کہ اسے کمپنی کو اس انداز میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ آنے والے دور میں عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں متوقع مسابقت کے لیے بالکل تیا ر ہو۔اس مقصد کے لیے وہ اپنی مصنوعات کو متنوع بنا رہی ہے ۔ چناں چہ آرامکو کے مستقبل کے لائحہ عمل میں تین بڑے رجحانات کی نشان دہی کی جاسکتی ہے:

اوّل : آرامکو نے اپنے حالیہ سالانہ جائزے میں توانائی اور کیمیکلز کو مربوط بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بننے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کے لیے شفافیت ، مالیاتی کنٹرول ،نمایاں طور پر بہتری کا حامل کارپوریٹ نظم ونسق اور عالمی سطح پر کمپنی کی شراکت داری کے لیے سہولت کاری اہم پہلو ہیں ۔

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے اپنے تیل اور گیس کے ذخائر کے پہلے آزادانہ آڈٹ کا اعلان کیا تھا۔یہ آڈٹ امریکا کی ایک معزز کنسلٹینٹ فرم ڈی گولئیر اینڈ میکناٹن نے کیا تھا۔سعودی عرب کا چار عشرے قبل توانائی کی صنعت کو قومیانے کے بعد یہ پہلا آڈٹ تھا۔

تب سعودی عرب کے وزیر توانائی اور آرامکو کے چئیرمین خالد الفالح نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اس بیان کا اعادہ کیا تھا کہ آرامکو کے حصص پہلی مرتبہ 2021ء میں فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

سعودی عرب کو حصص کی فروخت سے 20 کھرب ڈالرز ( 2 ٹریلین ) حاصل ہونے کی امید ہے۔اس طرح اس کو سعودی ولی عہد کے وسیع تر ا قتصادی اصلاحات کے ویژن 2030ء کے لیے 100 ارب ڈالرز حاصل ہوں گے۔

دوم : آرامکو نہ صرف خام تیل پیدا کرنا چاہتی ہے بلکہ وہ اس کے ساتھ دنیا کی بڑی مربوط توانائی اور کیمیکل کمپنی بھی بننا چاہتی ہے۔وہ اپنی آمدن میں اضافے پر توجہ مرکوز کررہی ہے ۔وہ پائیدار توسیع اور عالمی سطح پر اپنی مسابقانہ صلاحیت میں اضافے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی ( آئی ای اے ) نے 2018ء کے ورلڈ انرجی آؤٹ لُک ( ڈبلیو ای او) میں یہ توقع ظاہر کی ہے کہ پیٹرو کیمیکلز 2030ء تک توانائی کے عالمی مصارف میں سب سے بڑے عامل بن جائیں گے۔ آرامکو پہلے ہی اپنے تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور پیٹرو کیمیکل یونٹوں کو مربوط بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) امین ناصر کے مطابق کمپنی آیندہ دس سال کے دوران میں سعودی عرب کے اندر اور بیرون ملک پیٹرو کیمیکلز کے شعبے میں 100 ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔اس کے علاوہ آرامکو آیندہ عشرے کے دوران میں تیل صاف کرنے اور مارکیٹ کی صلاحیت کو 80 لاکھ سے ایک کروڑ بیرل یومیہ تک بڑھانا چاہتی ہے۔

کمپنی سمندر پار تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنی بھی بننا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ چین ، بھارت ، انڈونیشیا ، ملائشیا اور ویت نام کے علاوہ امریکا میں نئی ریفائنریوں اور پیٹرو کیمیکل پلانٹس کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کررہی ہے۔اسی طرح آرامکو 20 سے 30 لاکھ بیرل خام تیل کو یومیہ براہ راست پیٹرو کیمیکل مصنوعات میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی عمل پیرا ہے۔ کمپنی خام تیل کو تھرمل عمل سے گزار کر برانڈڈ ٹیکنالوجی تیار کررہی ہے۔اس سے کیمیکلز کی 70 سے 80 فی صد پیداوار حاصل ہوگی۔

آرامکو اور سابک نےاس سے پہلے خام تیل کو کیمیکلز میں تبدیل کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت یومیہ چار لاکھ بیرل تیل کو کیمیکلز میں تبدیل کیا جائے گا ا ور توقع ہے کہ یہ منصوبہ 2020ء کے وسط تک رو بہ عمل ہوجائے گا۔

سوم: آرامکو ٹیکنالوجی کو ترقی دینے اور اپنی مصنوعات کو متنوع بنانے پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔کمپنی عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تحقیق وترقی کی سرگرمیوں پر سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گی۔

آرامکو ، سابک اور ایکسن موبائل خام تیل سے کیمیکل ٹیکنالوجیز کو ترقی دے رہی ہیں اور ان کے کام سے ان رجحات کی تصدیق ہوتی ہے۔اگر آرامکو ان منصوبوں میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کو پیٹرو کیمیکل اور اس کی مصنوعات کی تیاری میں لاگت کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

اس امید افز ا تصویر کے باوجود آرامکو کو حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کے علاوہ کچھ اور چیلنجز بھی درپیش ہوں گے۔ اس کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر کمی سے تکلیف دہ ما لی تطابقت کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے ۔اس کے علاوہ غیر یقینی عالمی مالیاتی صورت حال سے لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر پیٹرو کیمیکلز کی کم قیمتوں ، امریکا کی پیٹروکیمیکلز کی برآمدات سے بڑھتی ہوئی مسابقت اور چین کی خود منحصر مارکیٹ سے سکڑتے ہوئے مواقع سعودی عرب کی پیٹرو کیمیکل برآمدات کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوں گے۔نیز خود سعودی عرب کے اندر لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔حکومت کی جانب سے اپنے مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے ایندھن اور بجلی پر زر تلافی ختم کیا گیا ہے ، جس سے کاروباری اور صنعتی لاگت بڑھ گئی ہے۔

ان سب پر مستزاد یہ کہ آرامکو لاکھوں بیرل تیل کو مصفا بنانے اور پیٹروکیمیکلز مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے لا رہی ہے جبکہ سعودی عرب کی خام پیداوار کی کل صلاحیت یا ملک میں کھپت کی شرح میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ۔اس لیے جب تک سعودی عرب دوسرے آپشنز پر غور نہیں کرتا ہے تو اس کے لیے وقت کے ساتھ تیل پیدا کرنے والے ایک بڑے ملک کا روایتی قائدانہ کردار ادا کرنا مشکل ہوجائے گا۔

سعودی عرب اپنی تیل کی پیداوار کو ڈیڑھ کروڑ بیرل یومیہ تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے لیے اس کو اربوں ڈالرز صرف کرنا ہوں گے اور اس کے ساتھ مستقبل میں تیل کی عالمی سطح پر مانگ میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورت حال کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا یا پھر بڑی ہنرمندی سے کسی پائیدار آپشن پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔اس کے لیے توانائی کے موثر استعمال کے ذریعے داخلی سطح پر کھپت میں بیس لاکھ بیرل تک کمی لانا ہوگی اور پیداوار کے حصول کے لیے گیس اور توانائی کے دوسرے قابل تجدید ذرائع و وسائل کے استعمال میں اضافہ کرنا ہوگا۔

تمام اشاریے یہ ظاہر کررہے ہیں کہ سعودی حکومت دوسرے آپشن کو اختیار کررہی ہے جبکہ یہ بات بھی یقینی ہے کہ آرامکو بڑی تبدیلیاں لارہی ہے جن سے اوپیک اور تیل کی عالمی مارکیٹ میں سعودی عرب کے کردار کی ایک نئی شکل ابھر کر سامنے آسکتی ہے۔

-------------------------------------------
ڈاکٹر ناصر التمیمی برطانیہ میں مقیم ہیں ۔ وہ ایک محقق اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ توانائی کی سیاست اور خلیج، ایشیا تعلقات ان کے خاص موضوعات ہیں۔ وہ چین اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کتاب:’’چین سعودی تعلقات ، 1990-2012: رضامندی کی شادی یا تزویراتی اتحاد؟‘‘ کے مصنف ہیں۔ ان کا ای میل پتا یہ ہے:
nasertamimi@gmail.com.
tweets @nasertamimi.
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند