تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شامی بحران کے حل کے لیے عرب کردار کیوں ضروری ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 26 جمادی الاول 1440هـ - 2 فروری 2019م KSA 21:38 - GMT 18:38
شامی بحران کے حل کے لیے عرب کردار کیوں ضروری ہے؟

شامی بحران ایرانیوں اور سلطنتِ عثمانیہ کے درمیان ایک قدیم تنازع کے مشابہ ہے۔یہ نیا تنازع بھی امریکا اور روس کے درمیان محاذ آرائی کا نتیجہ ہے۔

روس نے ایران اور ترکی کے ساتھ آستانہ اور سوچی میں مذاکرات کا اہتمام کیا ہے۔ان ممالک نے مغرب کی حمایت یافتہ مسلح حزبِ اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک سیاسی عمل شروع کیا ہے جس سے روس اور اس کے اتحادیوں ہی کا مقصد پورا ہوگا اور وہ شام کو ان ملکوں کے مفادات کے عین مطابق مختلف حلقہ ہائے اثر میں تقسیم کرنا ہے۔

اس کی ایک مثال (شام کا شمال مغربی صوبہ) ادلب ہے جہاں ترکی کو مسئلے کے حل کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔ترکی پوشیدہ طور پر اس علاقے کو اپنے کنٹرول والے علاقوں ہی کی توسیع سمجھتا ہے۔ اسی طرح دمشق کے نواحی علاقے ایرانی کنٹرول میں آچکے ہیں اور شام کے ساحلی علاقے روس کے زیر قبضہ ہیں۔

شامی بحران کے حل کے لیے امریکا اور روس کے درمیان تنازع دو رُخ اختیار کرسکتا ہے۔اول ،اقوام متحدہ اور اس کی قراردادوں کے ذریعے تنازع کا حل،بالخصوص ایک آئینی کمیٹی کی تشکیل ،جو ملک کی نئی ہیئت ترکیبی کا فیصلہ کرے گی اور یہ کہ ملک کا نیا معاشرتی ، معاشی اور سیاسی ڈھانچا کیا ہوگا۔اس کے بعد شام سے تمام غیرملکی فورسز کو جانا ہوگا۔

یہ سب کچھ ان ممالک کے ایک گروپ کی منشا ومرضی کے مطابق ہوگا جنھیں شام میں کوئی دلچسپی ہے۔اس گروپ میں امریکا ، سعودی عرب ، مصر ، اردن ، فرانس ، برطانیہ اور ان کے اتحادی شامل ہیں۔یہ بات ان کے 17 ستمبر2018ء کے ایک اعلامیے سے و اضح ہوگئی تھی۔اس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ شام کی تعمیرِ نو میں کردار ادا کریں گے۔

دوسرا راستہ آستانہ سے ہوکر گزرتا ہے۔روس اور اس کے اتحادی یہی چاہتے ہیں۔اس حل کی صورت میں آئینی کمیٹی ملک پر ایک سیاسی حل تھوپے گی۔اس کمیٹی میں بڑی تعداد میں لوگ شامل کیے جائیں گے اور وہ حتمی نتیجے کے طور پر اپنے کنٹرول کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔تاہم اب تک یہ بات واضح نہیں کہ اس صورت میں حتمی اختیار کس کے پاس ہوگا۔

داعش کے خلاف جنگ میں برسرپیکار امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز اور ان کے کنٹرول میں علاقے ایرانی منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ علاقے وسیع زرخیز اراضی پر مشتمل ہیں اور یہاں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ ان میں کرد ،عرب ، شامی اور آشوری نمایاں ہیں۔یہ سب روس کے ارادوں ، ایرانی قبضے اور ترک کنٹرول کے بارے میں شبہات میں مبتلا ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ اس علاقے میں کرد زیادہ سے زیادہ سیاسی اور اقتصادی خود مختاری چاہتے ہیں اور یہ انھیں ان کے عرب ہمسایوں کی قیمت پر ہی حاصل ہوگی۔

امریکا نے عراق اور افغانستان میں اپنی جنگوں کے ذریعے یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ ان ممالک کے عوام کی تاریخی اور سماجی پیچیدگی کو سمجھنے سے قاصر رہا ہے۔امریکا یہ نہیں جان سکا تھا کہ ان ممالک کے عوام سے کیسے معاملہ کیا جائے کہ جس سے مثبت نتائج برآمد ہوسکیں ۔

امریکا عراق اور افغانستان میں اربوں ڈالرز جھونکنے دینے ،اپنے فوجیوں کی موجودگی ،قومی فوجوں کی تشکیل اور بین الاقوامی سول اداروں کے قیام کے باوجود وہ ان دونوں ممالک میں استحکام لانے ، انتہا پسندی کے خلاف لڑنے ،ایران کی بالادستی کے خاتمے اور ایک مربوط سول سوسائٹی اور مستحکم حکومت کے قیام میں ناکام رہا ہے۔

امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد

سعودی عرب کو ابھی شام میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔اس کو علاقائی اور بین الاقوامی مسابقت کے مقابلے میں ترک نہیں کیا جانا چاہیے۔بالخصوص امریکا کے شام سے انخلا کے فیصلے اور اس کے بعد مذاکرات کے مرحلے میں مضبوط عرب موجودگی ضروری ہے۔

اب بات چیت کا محور کردوں کو ترکی کے حملوں سے بچانا ہے مگر حیران کن امر یہ ہے کہ کوئی بھی اس علاقے میں موجود عرب اکثریت کے بارے میں گفتگو نہیں کررہا ہے۔وہ ایک ایسا فریق ہیں جنھوں نے شامی جمہوری فورسز کے پرچم تلے داعش کے خلاف حقیقی معنوں میں جنگ لڑی ہے اور ایرانی خطرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔

سعودی عرب بین الاقوامی اتحاد میں شامل ممالک میں سب سے زیادہ شامی جزیرے کے ڈھانچے کے بارے میں جانتا ہے اور یہ مقامی شہریوں بالخصوص عربوں کے سب سے زیادہ نزدیک بھی ہے۔

سعودی عرب مختلف طبقات بالخصوص عربوں اور کردوں کے درمیان تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ عیسائی اقلیت کو بھی بچا سکتا ہے کیونکہ وہ شامی علاقوں کے بارے میں کوئی عزائم نہیں رکھتا ہے۔ نیز اس کے تما م فریقوں سے اچھے اور تاریخی تعلقات ا ستوار ہیں اور اس کو دہشت گردی مخالف جنگ میں بین الاقوامی اتحاد کے حصے کے طور پر اپنے فوجی بھیجنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

سعودی عرب نے استحکام لانے کے حامل منصوبوں کے لیے بھاری رقوم عطیے کے طور پر دی ہیں ۔عالمی اتحاد کے ارکان کے درمیان جن منصوبوں پر اتفاق ہوتا ہے،سعودی کمپنیوں کو انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سے سعودی عرب کو عام لوگوں سے موثر ابلاغ کے لیے درکار آلات بھی دستیاب ہوں گے اور سعودی عرب شام میں جاری بحران کے حتمی حل میں اہم کردار ادا کرسکے گا۔

سعودی عرب کی موجودگی عرب موجودگی عکاس ہوگی اور اس بحران کے حل کے لیے عرب تشویش کی بھی مظہر ہوگی،ایک ایسا حل جس سے عربوں کے مفادات کا تحفظ ہوگا اور شام کے بارے میں بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔اس طرح خطے میں ایرانی منصوبے کا خاتمہ کیا جاسکے گا۔
_________________________
بسام برابندی شام کے مشرقی صوبے دیر الزور سے تعلق رکھتے ہیں ۔وہ شام کی سفارتی سول سروس میں 14 سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ واشنگٹن ڈی سی میں شامی سفارت خانے میں فرسٹ سیکریٹری رہے تھے ۔بیجنگ میں شامی سفارت خانے میں انھوں نے سیاسی امور کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔وہ اقوام متحدہ کے صدر دفاتر نیویارک میں شامی مشن میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔انھوں نے 2013ء میں شام کی سفارتی سروس کی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا تھا اور پھر ’’عوام تبدیلی چاہتے ہیں‘‘(پی ڈی سی) کے نام سے ایک تھنک ٹینک کی بنیاد رکھی تھی۔ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ یہ ہے:
@BassamPDC

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند