تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
راضی بہ رضا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 13 رجب 1440هـ - 20 مارچ 2019م
آخری اشاعت: بدھ 7 جمادی الثانی 1440هـ - 13 فروری 2019م KSA 08:19 - GMT 05:19
راضی بہ رضا

رضوان الرحمٰن رضی صاحب کے ساتھ بے تکلفی کا دعویٰ تو نہیں، لیکن ذہن کی پردۂ اسکرین پر موجود کچھ ملاقاتوں کا احوال بتاتا ہے کہ وہ ایک مجلسی آدمی ہیں ۔ مجھ سے جب کبھی ملاقات ہوئی مسکراتے چہرے اور دھیمے لہجے میں بات کی ۔ یہ آداب محفل بھی ہو سکتے ہیں اور رکھ رکھاؤ بھی ۔ البتہ ان کی موجودہ تحریریں اور جوش خطابت کافی تلخی کا مظہر تھے ۔ یہ رویہ کسی بھی لحاظ سے جوان خون کی گرمی نہیں کہلایا جا سکتا۔تاہم اسے زمانے کے سرد وگرم تھپیڑوں اور چرخ کہن کی لپیٹ میں آئے بنتے ٹوٹتے خوابوں کی تلخی کا مظہر کہا جا سکتا ہے۔

ملک عزیز کے نوآموختہ موجودہ معاشرے میں انسانی رویوں کے اندر تندی تیزی تلخی ترشی نیم جیسی کڑواہٹ اور زہر میں بجھی گفتگو مجھ سمیت کسی بھی ذی روح و ذی ہوش کی شخصیت کا جزو لاینفک بن گئی ہے ۔ ماضی کی برداشت تحمل بردباری اور تحریر و تقریر میں الفاظ کی نشست و برخاست کی رویت زمانہ ہوا دم توڑ چکی ۔ زمانہ طالب علمی کے اسٹڈی سرکلز کے دوران آنکھوں میں سجے خوابوں نے ادھیڑ عمری میں اماوس میں ڈوبی تعبیروں کا روپ دھار لیا ہے ۔ ایسے میں یہ کہا جائے کہ ہر نومولود ظہور میں آنے سے پہلے ستمگر حالات کی کڑوی کسیلی گھٹی لیکر جنم لیتا ہے تو کچھ بے جا نہ ہو گا ۔

کارزار زندگی کا میدان کوئی بھی ہو ترقیِ معکوس نے ہر جگہ اپنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ صحافت کہ ایک پیغمبری پیشہ تھا وہ بھی آج رذالت کی پستیوں میں گرا جاتا ہے ۔ سیاست میں بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم سے بڑھ کر آمریت دشمن شاید ہی کوئی ہو ۔ سیاست کی منفی مثبت سب قوتیں ایک پلیٹ فارم پر لائے ایک کے بعد ایک سیاسی اتحاد بنایا سڑکوں پر بھی آئے لیکن اپنے دور کے آمر مطلق جنرل ضیا کو جب بھی للکارہ جنرل صاحب کہہ کر پکارا ۔ نوابزادہ مرحوم اور ان کے قبیل کے سیاسی شہسواروں کے ہاں شخصی عناد اور بغض خال ہی ملتا ہے ۔ ہاں پالیسی سازی اور ملکی و عوامی مسائل پر ڈنکے کی چوٹ پر بات کی مگر تلخ سے تلخ بات کرتے ہوئے بھی مخالف کی عزت و تکریم کو مقدم جانا ۔

ملکی تاریخ میں سول اور مارشلا لائی خداوں کی حکمرانی کے ایسے ایسے ادوار دیکھنے کو ملے کہ حکومت مخالف اور ریاست مخالف کی تعریف ہی گڈ مڈ ہو کر رہ گئی ۔ جمہوری اور آمرانہ حکومتوں کے دوران ایک کی پسند دوسرے کی ضد بن کر ابھری اور یوں سیاسی و سماجی اخلاقیات سے عاری ایک شتر بے مہار نسل تیار ہو گئی ۔ حکومت اور ریاست کے درمیان ایک مہین سا پردہ حائل ہے جو کبھی کبھار ناراضی غصے اور نادانستگی میں کفر کی لکیر کے پرے لے جا سکتا ہے ۔ واضح رہے حکومتی پالیسیوں سے اختلاف مخالفت جبکہ ریاستی سرحدوں سے انکار بغاوت ہے اور بغاوت تو رب کریم کو بھی پسند نہیں ۔ مہذب دنیا میں اداروں کی پالیسیوں سے اختلاف روا ہے مگرشخصیات سے نہیں ۔ جب بات اختلافی مضمون کو تحریر یا تقریر کے سانچے میں ڈھالنے کی ہو تو قرینہ تب بھی لازم ہے۔کیونکہ ؎
خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم

انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو!

بات ایک صحافی کی گرفتاری پر ہو گی تو ہر دوطرف رواداری کا فقدان نظر آئے گا ۔ آہنی طوق اور ہتھکڑیاں کسی بھی طور سوچ اور نظریے کو پابند نہیں کر سکتیں ۔ واحد حل باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کو محب وطن سمجھنا ہے ۔ بدقسمتی سے جنرل ضیا آئے تو انھوں نے مذہب کی آڑ میں وہ گل کھلائے کہ نعوذ باللہ کلمہ و قرآن کی تفہیم مشکل بنا دی دوسری طرف جنرل مشرف آئے اور روشن خیالی کا نعرہ مستانہ بلند کر کے نظریات کے آخری زاویئے پر جا کر رکے ۔۔ اس طرح تین نسلیں آدھا تیتر آدھا بٹیر ہو گئیں ۔ ایسے میں انتہائی صبر اور تحمل کیساتھ ہمیں ایک ایسی نسل تیار کرنی ہو گی جو ملکی سرحدوں کی تعظیم کو جزو ایمان بناتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر مثبت تنقید کا حوصلہ بھی رکھے ۔

مقتدر حلقوں سے بس اتنی گزارش ہے کہ ہم تو راضی بہ رضا ہیں ۔ کمزور کلائیوں کی گرفت کیلئے ہتھکڑیاں بھی اپنی جیبوں میں رکھنے کیلیے تیار ہیں بس سزا کا فیصلہ کرنے سے پہلے معروضی حالات کو پیش نظر ضرور رکھیں ۔ حکایت ہے گئے وقتوں کے ایک بادشاہ نے جب یہ دیکھا کہ رعایا کسی بھی ستم پر آواز اٹھانے کو تیار نہیں تو وہ خود فصیل شہر کے دروازے پر جا پہنچا ۔ دیکھا قطار اندر قطار کھڑے لوگ اپنی اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ۔ چوبدار ہر شہری کی پیٹھ پر دس تازیانے برساتا ہے اور پھر دروازے سے باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے ۔ بادشاہ عالی مقام نے شاہی سزا کے منتظر ایک شخص سے پوچھا کیوں بھئی کوئی تکلیف تو نہیں ؟ اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا ۔۔ سب اچھا ہے بس چوبداروں کی تعداد بڑھا دیں ۔۔۔ تازیانے کھانے کے لیے باری آنے میں وقت ضائع ہوتا ہے ۔۔ کام پر دیر سے پہنچتا ہوں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند